بدھ , 19 جون 2019

گلگت بلتستان میں "را” کا 20 سالہ آپریشن کیسے ناکام ہوا؟ اہم انکشافات

(رپورٹ: ایل اے انجم)

پاکستانی حساس اداروں خصوصاً آئی ایس آئی اور آئی بی نے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے دو عشروں پر مشتمل پاکستان مخالف ایک بڑے آپریشن کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا، یہ آپریشن 1999ء میں گلگت بلتستان میں شروع کیا گیا تھا، جس کے ذریعے جی بی میں علیحدگی کی تحریک کو ہوا دینے کے ساتھ ساتھ دہشتگرد کارروائیاں بھی انجام دینا تھیں، عبدالحمید کے ذریعے جی بی میں ”آزاد بلاورستان” نامی ریاست کا قیام عمل میں لانا تھا۔ عبدالحمید کے نیٹ ورک کے حوالے سے خبریں گذشتہ دنوں قومی میڈیا کی زینت بنی رہیں، تاہم قوم پرست تنظیم بی این ایف حمید گروپ کے سربراہ عبدالحمید خان کی گرفتاری یا سرنڈر کے منظرنامے کے تناظر میں نئے انکشافات سامنے آئے ہیں، دستاویز کے مطابق را کا یہ آپریشن طویل المدت منصوبہ تھا، جس کیلئے عبدالحمید خان کو استعمال کیا گیا اور اسی کے ذریعے گلگت بلتستان میں پہلے علیحدگی کی تحریک شروع کرنے اور بعد میں دہشتگرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی بھی کی گئی تھی۔

یہ آپریشن اتنا اہم تھا، جس کو را کے سابق چیف سمیت کئی اعلیٰ افسران اور انڈین ایم آئی کے دو بریگیڈیئر آپریٹ کر رہے تھے۔ اس آپریشن کو دو بھارتی شہروں دہلی اور دھرادن جبکہ بیرون ملک سے بھی آپریٹ کیا گیا، جس میں کھٹمنڈو، بنکاک، سنگاپور، برسلز اور ٹورنٹو شامل ہیں، جبکہ را افسران میں راجندر کھنہ (2014ء سے 2017ء تک را چیف) کرنل جوشی، سیٹھ، راجن، آنکت سریوستوا اور انڈین ایم آئی کے دو بریگیڈیئرز بھی اس آپریشن میں شامل تھے۔ دستاویز میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ عبدالحمید پر را کی جانب سے گلگت بلتستان میں دہشتگرد سرگرمیاں شروع کرنے کیلئے دباؤ ڈالا گیا، جس کیلئے ماہانہ دس لاکھ یورو (16کروڑ روپے) اسلحہ اور تمام تر سہولیات دینے کی پیشکش کی گئی، را نے ہی کالعدم بی این ایف کا ایف ایم چینل لانچ کروایا تھا، جہاں سے ملک مخالف پروپیگنڈے ہوتے تھے۔ عبدالحمید کی پکڑ پہلے ہوئی جبکہ اسی کے ذریعے شیر نادر شاہی کو سرنڈر کروایا گیا، جن کی گرفتاری میں آئی بی کا اہم کردار بتایا جاتا ہے۔

عبدالحمید کو زیادہ تر بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے شہر دھرادن میں ٹھہرایا گیا، جہاں ان کی ڈرائی فروٹ کی دکان بھی تھی۔ دھرادن بھارتی ریاست اترانچل کے شمال مغرب میں واقع ہے، نیپال کی سرحد بھی دھرادن کے نزدیک واقع ہے، شمال میں چین جبکہ جنوب میں اتراپردیش واقع ہے، عبدالحمید کا دھرادن میں فون نمبر 0135260994 اور 7248548440 تھا۔ ذوری ڈرائی فروٹ کے نام سے ان کی ایک دکان بھی تھی، اس دکان کے پروپرائٹر کی حیثیت سے بعد میں انہوں نے نیو دہلی میں کینیڈین ہائی کمشنر کو ویزہ کی درخواست بھی دی تھی، یہ دکان دھرادن میں نشوالا روڈ پر واقع تھی، 29 اکتوبر کو عبدالحمید نے دھرادن مین ایڈریس تبدیل کیا، جس کی اطلاع بذریعہ درخواست دینا بنک کی مقامی شاخ کو دی گئی، دینا بنک میں عبدالحمید کا اکاؤنٹ نمبر 108510002803 تھا، دھرادن میں پرانا ایڈریس C-24 ٹرنر روڈ، کلیمنٹ ٹاؤن دھرادن تھا جبکہ بعد میں وہاں سے دھرادن میں ہی ہاؤس نمبر 2 ریشوا نگر فیز- 4 منتقل ہوگیا۔

عبدالحمید سمیت ان کے بچوں کا بھی آئی ڈی کارڈ بنایا گیا جبکہ ان کی بیوی اور بچوں کے پاسپورٹ بھی جاری کیے گئے، اسلام ٹائمز کو عبدالحمید کے بھارت میں موجود گھر کی دستاویز، انکم ٹیکس، آئی ڈی کارڈ اور ان کے بیٹوں کے کارڈ سے متعلق دستاویز موصول ہوئی ہیں۔ ان دستاویزات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ راء نے عبدالحمید کو مکمل طور پر انڈین شہری کے طور پر رکھا اور تمام تر سہولیتیں فراہم کی گئیں۔ 2007ء سے 2017ء تک عبدالحمید کا نیپالی پاسپورٹ بھی بنایا گیا تھا، نیپالی پاسپورٹ کی ضرورت اس لیے بھی تھی کہ را کے اس آپریشن کا ایک اہم ترین بیس کھٹمنڈو تھا۔ انڈین راء کی جانب سے دیا گیا گھر عبدالحمید نے 2005ء میں ایک سکھ پریم سنگھ کو فروخت کیا۔ بھارت میں قیام کے دوران پہلے عبدالحمید بائشور نگر، فیز 01، نزد آئی ٹی پارک سیاسترادھا روڈ دھرادن 24B001 پر قیام پذیر تھا جبکہ بعد یہ جگہ تبدیل کرکے جس جگہ وہ منتقل ہوا، اس کا ایڈریس C-13 ترنر بند، سلیمنٹ ٹاؤن دھرادن اتراکھنڈ تھا۔

انہوں نے اکتوبر 2018ء میں نیو دہلی میں کنیڈین ہائی کمشنر کو ویزہ کیلئے درخواست دی، جس میں اپنے بیٹے کی شادی کیلئے ویزہ دینے کی درخواست کی گئی۔ ان کے بیٹے کی شادی کینیڈا میں ہوئی۔ عبدالحمید خان کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کیلئے حساس اداروں نے مشترکہ آپریشن شروع کیا، آئی بی کے خصوصی آپریشن اور کوششوں کے نتیجے میں عبدالحمید خان نے 8 فروری 2019ء کو سرنڈر کر دیا جبکہ انہی کے ذریعے 29 مئی 2019ء کو بی این ایس او کے صدر شیر نادر شاہی کو بھی قانون کی گرفت میں لایا گیا، شیر نادر شاہی کھٹمنڈو جاتے ہوئے پکڑا گیا۔ عبدالحمید اور نیٹ ورک کی گرفتاری کے ساتھ ہی گلگت بلتستان میں نام نہاد قوم پرست جماعت کا باب بند ہوگیا ہے، یوں علیحدگی کی سپانسرڈ تحریک بھی ختم ہوگئی ہے اور ساتھ ہی انڈین را کی بیس سالہ منصوبہ بندی کو بھی تہس نہس کر کے رکھ دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ غذر سے تعلق رکھنے والے قوم پرست رہنما عبدالحمید نے 1999ء میں نواز خان ناجی سے اپنی راہیں جدا کیں اور بیرون ملک جا کر اپنی جماعت بی این ایف حمید گروپ بنائی تھی۔ بعد میں اسی دوران نواز خان ناجی لندن گئے تو واپسی پر ایک پریس کانفرنس میں عبدالحمید خان کو را کا ایجنڈ قرار دیتے ہوئے اپنی پارٹی سے فارغ کرنے اور نوجوانوں کو ان سے دور رہنے کی ہدایت کی تھی۔ اس کے باؤجود عبدالحمید نے اپنی پارٹی نہ صرف قائم کی بلکہ گلگت بلتستان میں جگہ بھی بنائی، تاہم یہ پارٹی صرف غذر میں موثر تھی، ان کا ٹارگٹ طلباء تھے۔ جی بی میں قوم پرستی کو ہوا دینے کیلئے سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ اخبارات کا بھی سہارا لیا، بانگ سحر نامی اخبار (جسے تین سال قبل بند کر دیا گیا) کے ذریعے وہ قوم پرست نظریات جی بی میں ایکسپورٹ کرتا تھا۔

موجودہ جی بی حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق عبدالحمید کی پارٹی کا اہم رکن شمار ہوتا تھا، انہوں نے عبدالحمید کے حق میں شینا زبان میں نغمے بھی گائے تھے، بعد میں انہوں نے قوم پرستی چھوڑ کر نون لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ فراق کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے عبدالحمید کی مشکوک سرگرمیوں کو دیکھ کر پارٹی کو خیر باد کہا تھا۔ حمید کی پارٹی بی این ایف کی طلباء ونگ بی این ایس او پانچ سال قبل تک بہت فعال تھی، بعد میں دھیرے دھیرے طلباء اس پارٹی سے دور ہوتے چلے گئے۔ دو سال قبل قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حمید گروپ کے 14 کارندوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا، ان سے برآمد ہونے والا اسلحہ بھی میڈیا کو دکھایا گیا تھا۔ گذشتہ سال حمید گروپ کے اہم ترین رکن آفاق بالاور کو حساس اداروں نے افغانستان سے پکڑا تھا، بعد میں گلگت میں آفاق نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے حمید کے بارے مین بہت سارے انکشافات کیے تھے۔ رپورٹس کے مطابق بہت جلد عبدالحمید بھی منظر عام پر آئیں گے اور مزید انکشافات بھی کرینگے۔

یہ بھی دیکھیں

سوشل میڈیا اور اسکے خطرات

(تحریر: طاہر یاسین طاہر) ہر عہد کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں اور فہیم انسان انہی …