ہفتہ , 21 ستمبر 2019

ٹرمپ کا گھٹیا بیان ایرانی قوم سےبے انتہا دشمنی کا ایک واضح نمونہ

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک)اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے نے کہا ہے کہ ایران کے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ کے متضاد بیانات ایرانی قوم سے ان کی بے تحاشا دشمنی کا واضح ثبوت ہے۔اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے مجید تخت روانچی نے امریکی صدر ٹرمپ کے جمعرات کے روز کے بیان پر کہ جس میں انھوں نے ایک بار پھر ایرانی قوم کو دہشت گرد قرار دیا ہے، کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے اس قسم کے مواقف ایرانی قوم کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے اس لئے کہ وہ اسے امریکہ کی ظالمانہ پابندیوں کا ہی سلسلہ اور حصہ سمجھتے ہیں اور ان کا یہ بیان ایرانی قوم سے ٹرمپ کی بے انتہا دشمنی کا ایک واضح نمونہ ہے۔

انھوں نے تاکید کے ساتھ کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کا گھٹیا بیان کسی بھی چیز سے کہیں زیادہ بڑھ کر ایران کی کئی ہزار سالہ تاریخ سے عدم آگاہی اور ایرانی عوام سے ان کی عدم واقفیت کو نمایاں کرتا ہے۔مجید تخت روانچی نے کہا کہ ایران دہشت گردی کی بھینٹ چڑھنے والا سب سے بڑا ملک ہے جبکہ علاقے میں ایران ہی دہشت گردی کا سب سے زیادہ طاقتور دشمن ملک ہے اور حالیہ برسوں کے دوران داعش اور کئی دیگر دہشت گرد گروہوں کی نابودی، دہشت گردی کے خلاف مہم میں ایران کے حالیہ اقدامات کا نتیجہ ہے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کا ایرانی قوم کے خلاف نازیبا اور توہین آمیز الفاظ کا استعمال دباؤ اور دھونس دھمکی کے مقابلے میں اس کے عز م کو اور زیادہ مضبوط بنائے گا۔ اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے مجید تخت روانچی نے کہا ہے کہ مسلح تصادمات میں عام شہریوں کی حفاظت میں مسائل و مشکلات کی ایک بنیادی ترین وجہ سیاسی بنیاد پر فیصلہ کیا جانا اور مجرموں کو ذمہ دار قرار نہ دیا جانا ہے۔

انھوں نے مسلح تصادمات میں غیر فوجیوں کی حفاظت کے سلسلے میں جمعرات کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ بہت سے ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں کہ جن میں اقوام متحدہ اور خاص طور سے سلامتی کونسل نے مسلح تصادمات میں عام شہریوں کے خلاف جرائم کا ارتکاب کئے جانے کے سلسلے میں خاموشی اختیار کی ہے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے نے اس بارے میں کئی واقعات منجملہ افغانستان پر امریکہ کے فضائی حملوں اور یمن میں سعودی عرب کے فضائی حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں میں بڑی تعداد عام شہری جاں بحق و زخمی ہوئے ہیں جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

مجید تخت روانچی نے گذشتہ ایک سال کے دوران غزہ میں غاصب صیہونی حکومت کے فوجیوں کے ہاتھوں فلسطینی مظاہرین میں سے دو سو اسّی سے زائد افراد کی شہادت اور بتّیس ہزار سے زائد دیگر کے زخمی ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام تر جرائم کے ارتکاب پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے ہمیشہ صرف خاموشی کا ہی مشاہدہ کیا جاتا رہا ہے۔

انھوں نے تاکید کے ساتھ کہا کہ مجرموں کا مقابلہ نہ کئے جانے سے عام شہریوں کا قتل عام کرنے میں ان مجرموں کا حوصلہ مزید بڑھا ہے جس کے نتیجے میں بین الاقوامی انسانی حقوق کی پامالی کا عمل بھی تیز تر ہوتا گیا ہے اس لئے اس صورت حال کا فوری طور پر خاتمہ کئے جانے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب کے مہنگے امریکی ہتھیار یمنی ڈرونز کے سامنے ناکارہ ثابت:رائٹرز

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب نے امریکہ سے اپنی حفاظت کے لئے بڑے ہی مہنگے ہتھیار …