جمعرات , 15 اپریل 2021

ترکی کے زبردست موقف کے آگے امریکا بے بس

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کا یہ کہنا ہے کہ وہ روس سے ایس-400 میزائل ڈیفنس سسٹم خریدنے کے ساتھ ہی مزید پیشرفتہ میزائل ڈیفنس سسٹم ایس-500 کی روس کے ساتھ مل کر مشترکہ تعمیر بھی کریں گے، امریکا کے لئے ایک بڑے جھٹکے سے کم نہیں ہے ۔

امریکا اور ترکی کے درمیان جن مسائل کو لے کر شدید اختلافات ہیں ان میں سے ایک ایس-400 میزائل ڈیفنس سسٹم کا روس اور ترکی کے درمیان ہونے والا معاہدہ ہے ۔ امریکا اس سودے کا مخالف ہے اور اس کا خیال ہے کہ ترکی، نیٹو کا رکن ہے تو اسے روس سے یہ ڈیفنس سسٹم نہیں خریدنا چاہئے تاہم ترکی کی یہ توجیہ ہے کہ نیٹو کے دیگر رکن ممالک کے پاس روسی میزائل ڈیفنس سسٹم موجود ہے ۔

امریکا کی ناراضگی اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ اس نے ترکی کو ایف-35 جنگی طیارے کی سپلائی روک دینے کا اعلان کر دیا۔ ٹرمپ یہ دھمکی بھی دے چکے ہیں کہ وہ ترکی کے اقتصاد کو نشانہ بنائیں گے تاہم اس کے باوجود ترکی نے نہ صرف یہ کہ ایس-400 میزائل ڈیفنس سسٹم خریدنے کا فیصلہ تبدیل نہیں کیا بلکہ روس کے ساتھ میزائل ڈیفنس سسٹم کی تعمیر میں تعاون کا بھی اعلان کر دیا ہے ۔

امریکا کا کہنا ہے کہ اسے اس بات کی تشویش ہے کہ اگر ترکی نے ایس-400 میزائل ڈیفنس سسٹم خرید لیا تو اس کے ذریعے ایف-35 کی ٹکنالوجی اطلاعات روس تک پہنچ سکتی ہیں اور اس سے ایف-35 جنگی طیاروں کی کارآمدگی محدود ہو سکتی ہے۔ ترکی کہہ رہا ہے کہ اس نے اس پہلو سے وسیع تحقیقات کروا لی ہے جس کا یہ نتیجہ نکلا کہ ایس-400 اور ایف-35 جنگی طیاروں کے ساتھ استعمال میں کسی بھی طرح کے مسائل در پیش نہیں آئیں گے۔

ترکی کو اس بات پر بھی اعتراض ہے کہ امریکا اسے پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹم تو دینے کو تیار ہے لیکن تھاڈ میزائل سسٹم دینے کے لئے سخت شرطیں نافذ کر رہا ہے جبکہ پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹم کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ سعودی عرب میں یمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کے سامنے ناکام ثابت ہوا ہے۔

امریکا کی تشویش کا موضوع بھی یہی ہے کہ اگر نیٹو کے رکن امریکا کے اتحادی ممالک روس سے میزائل ڈیفنس سسٹم خریدیں گے تو پیٹریاٹ میزائل سسٹم بنانے والی اس کی رے تھیون کمپنی کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا ۔یہ بات تب مزید سنجیدہ ہو جاتی ہے جب امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ، 737 میکس طیاروں کے بحران کی وجہ سے شدید مسائل کی جانب بڑھ رہی ہے۔بشکریہ سحر نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …