اتوار , 11 اپریل 2021

غزہ سے مراکش تک فلسطینی مزاحمتی آرٹ کے دلکش مناظر!

امریکا کے فلسطینیوں کی بندر بانٹ کے لیے تیار کردہ مذموم نام نہاد امن منصوبے ‘صدی کی ڈیل’ کے خلاف ہر سطح فلسطینی مزاحمت کر رہے۔ فلسطینی فن کاروں اور آرٹسٹوں نے ‘صدی کی ڈیل’ کے خلاف مزاحمت کے لیے اپنا میدان خالی نہیں‌ چھوڑا بلکہ انہوں‌ نے فلسطین سے مراکش تک جگہ جگہ ایسے تشکیلی آرٹ کے نموںوں سے ‘صدی کی ڈیل’ کی سازش کے خلاف اپنا پیغام پہنچانے کی جاندار اور منفرد کوشش کی ہے۔

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی اور ان کے حامی عرب ممالک کے تجری آرٹسٹوں نے 71 سال قبل سے اب تک سات عشروں کے دوران فلسطینیوں‌ پر ڈھائے جانے والے مظالم، فلسطینیوں کی جوابی مزاحمتی کوششوں اور فلسطینیوں کے مصائب ومشکلات پر روشنی ڈالی ہے۔

زیر نظر رپورٹ میں غزہ کی پٹی سے مراکش کے شہر طنجہ تک فلسطینی مزاحمتی آرٹ کے دل کش نمونوں‌ نے ‘صدی کی ڈیل’ کی ڈیل کے خلاف اپنی ہنرکاری کا لوہا منوایا ہے۔اس رپورٹ میں مرکز اطلاعات فلسطین نے فلسطینی مزاحمتی اور تجریدی آرٹ کے کچھ فن پاروں کو تصاویر کی شکل میں پیش کیا ہے۔

ان مناظر میں ایک منظر میں دسیوں فلسطینیوں کے ایک گروپ کو دکھایا گیا ہے۔ ان میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہیں اور انہوں‌نے روایتی فلسطینی کو فیہ پہن رکھے ہیں۔ ان کے دائیں ہاتھوں میں نصابی کتابیں اور بائیں ہاتھ میں پتھر ہے۔ وہ سنہ 1948ء میں 71 برس قبل اپنے وطن کے چھن جانے کے بعد اس کی آزادی کے لیے سراپا جدو جہد ہیں۔

ایک دوسرے منظر میں فلسطینیوں کے ایک گروپ کو فلسطینی ملی نغمہ گاتے القدس کے ایک درخت کے سائے تلے بیٹھے دکھایا گیا ہے۔ یہ فلسطینی قبۃ الصخرہ کے قریب ہیں اور اس کی آزادی کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں۔

مذکورہ دنوں مناظر میں کثیر ملکی آرٹ میلے ‘شاہراہ القدس پر’ کے عنوان سے غزہ میں منعقدہ میلے کے دوران پیش کی گئی دو پینٹنگنز کے ہیں۔ یہ آرٹ میلہ صرف غزہ نہیں بلکہ اس کا آغاز غزہ سے ہو رہا ہے اور اختتام مراکش کے تاریخی شہر طنجہ میں ہوگا۔

غزہ میں یہ آرٹ سرگرمی ‘رواسی فائونڈیشن برائے آزادی فلسطین’ کے زیر اہتمام منعقد کی گئی۔ اسے غزہ میں جاری حق واپسی اور انسداد ناکہ بندی ریلیوں کے سپریم انتظامی کمیٹی کی طرف سے تعاون فراہم کیا گیا۔ یہ آرٹ میلہ پانچویں بین الاقوامی فنون وثقافت میلے کا حصہ جو فلسطین کے اندر منعقد کیے جانے کے ساتھ ساتھ بیرون ملک بھی منعقد کیا جائے گا۔

اس میں دسیوں فلسطینی اور عرب فن کاروں اور آرٹسٹوں نے حصہ لیا۔ اس کا آغاز فلسطین سے ہوا مگر اس کے بعد یہ لبنان کے دارالحکومت بیروت میں‌ البراجنہ پناہ گزین کیمپ، تیونس کے دارالحکومت تیونسیہ اور آخر میں مراکش کے شہر طنجہ میں منعقد کیا جائے گا۔ ان تمام ملکوں میں یہ میلہ ایک ہی عنوان سے منعقد کیا جائے گا۔ اس سرگرمی کا مقصد فلسطینیوں‌ کے خلاف امریکا اور صہیونیوں کے صدی کی ڈیل کے منصوبے کو ناکام بنانے اور فلسطینی ‘یوم النکبہ’ کی یاد تازہ کرنا ہے۔

فلسطینیوں اور عرب فن کاروں نے اپنے تجریدی آرٹ کے ذریعے فلسطینیوں کی با عزت زندگی گذارنے کے حق، آزادی، حق خود ارادیت، حق واپسی اور قضیہ فلسطین کے تصفیے کے لیے ہونے والی عالمی سازشوں کو ناماکام بنانے کی کوششوں کو اپنے فن اور آرٹ کی مدد سے اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔

تجریدی آرٹ کے ماہر خالد عیسیٰ نے کہا کہ انہوں‌ نے تیسرا انتفاضہ کو اپنے تجریدی آرٹ کے ذریعے اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔آرٹیسٹ محمد الکرنز کا کہنا ہے کہ تجریدی آرٹ کے میلے میں عرب اور فلسطینی فن کاروں‌نے ‘صدی کی ڈیل’ کی سازش کو مسترد کر دیا ہے۔ مرکزاطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے انہوں‌نے کہا کہ صہیونی ریاست زوال پذیر ہے۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …