جمعہ , 23 اپریل 2021

ابوظہبی ائرپورٹ بنایمنی ڈرون نشانہ

یہ تقریباً دس ماہ پہلے سن 2018جولائی کی بات ہے کہ یمنی فوج کی جانب سے کہا گیا تھا کہ انہوں نے یمن پر جارحیت اور مسلسل بمباری میںابوظہبی کے وحشیانہ کردار کے جواب میںابوظہبی انٹرنیشنل ائرپورٹ کو ایک ڈرون طیارے سے نشانہ بنایا ہے ۔اسی دوران اگرچہ ابوظہبی کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اس کی ریسکیو گاڑیوں میں کچھ فنی خرابی کے سبب ائرپورٹ میں کچھ گھنٹے معمول کا آپریشن ڈسٹرب رہا ہے ۔

لیکن آج دس ماہ کے بعد یمن کے چینل المسیرہ کی جانب سے نشر کردہ وڈیو نے دنیا کو حیرت زدہ کردیا ہے اور اس وقت عرب اور غیر عرب اہم میڈیا اس وڈیو کو لیکر مختلف پہلو سے تجزیہ کررہے ہیں

یہاں حیرت کی چند وجوہات ہیں –

الف:کوئی سوچ نہیں سکتا تھا کہ یمن کے پاس اس قدر جدید ٹیکنالوجی ہوسکتی ہے کہ جس کو بروئے کار لاکر وہ اس قدر دور تک ڈرون اڑا سکتے ہیں اور اس پر اپنا کنٹرول بھی رکھ سکتے ہیں ۔

ب:ماہرین کا کہنا ہے کہ چھوٹے فاصلے تک انہوں نے سعودی عرب کے سرحدی علاقوں اور خود یمن کے اندر ڈرون حملے کئے تھے لیکن 1500کلومیٹر دورابوظہبی تک ان کی جانب سے ڈرون کی کہانی اس وقت ناقابل بھروسہ تھی جو اب اس حیرت کے ساتھ سچ میں بدل گئی کہ وہ نہ صرف ڈرون اڑا رہے تھے بلکہ اس ڈرون میں ایسی ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کیا گیا ہے جو بیک وقت حملہ کرنے کے ساتھ ساتھ براہ راست حملے کی وڈیو 1500کلومیٹر دور کنٹرول روم کو ارسال کرنے کی بھی صلاحیت سے لیس تھا ۔

ج:ماہرین کہتے ہیں کہ اس ڈرون نے اس طویل فاصلے کو طے کرنے کے لئے اونچی اڑان بھری ہوگی اور پھر اس نے ہدف کے قریب آکر خود کو نچلی پرواز میں اتارا ہوگا اور اس قدر باریکی سے ہدف کو نشانہ بنایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ڈرون میں جدید ٹیکنالوجی کے علاوہ اس کا سٹیلائیٹ کے ساتھ تعلق اور پھر کنٹرول روم کے ساتھ رابطہ مسلسل برقرا ر رہا ہے اور یہ مسلسل کنٹرول ہوتا رہا ہے ۔

ہدف تک اس طیارے کی درست رسائی کا مطلب عسکری اصولوں میں فورس ملٹی پلائر Force Multiplierہے اور یہ ایک انتہائی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو بیان کرتی ہے ۔ماہرین کے مطابق لگتا ایسا ہے کہ یہ ڈرون Visual Orientation Process جیسی ٹیکنالوجی بھی سے لیس تھا

جہاں تک ریڈاروں سے اس طیارےکا بچاؤ ہے تو ہوسکتا ہے کہ اس کی انتہائی کم سپیڈ کے سبب ریڈار اسے دیکھ نہیں پائے ۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یمن پر جارحیت کے مقابلے میں یمنیوں نے طاقت کا توازن بدل کر رکھ دیا ہے ۔

یمنیوں کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی ہم نے اعلان کردیا تھا لیکن ابوظہبی نے اس کو چھپایا لہٰذا اب ہم نے اس کی وڈیو جاری کردی تاکہ ان پر حجت تمام ہوجائے کہ وہ یمن پر اپنی جارحیت کو روک دیں ورنہ ہم تمام اہم مقامات پر جوابی کارروائی کریںگے۔واضح رہے کہ حال ہی میں یمن کے ایک ڈرون نے سعودی آرامکو پلانٹ پر حملہ کیا تھا جس سے بڑی تباہی پھیلی تھی جبکہ وہ نجران ائرپورٹ کو بھی نشانہ بناچکے ہیں ۔

یمن کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اورابوظہبی کو یمن پر جنگ اور محاصرہ فورا ًختم کرنا چاہیے تاکہ بھوک اور بمباری سے مرنے والے بے گناہ یمنی اپنے ملک میں سکون سے رہ سکیں ۔عالمی اداروں کے مطابق پانچ سال سے جاری جنگ اور بمباری سے میں یمن کے پندرہ ہزار لوگ مارے جاچکے ہیں جبکہ محاصرے کے سبب بھوگ اور صحت کے سنگین مسائل جنم لے رہے ۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …