منگل , 13 اپریل 2021

حتمی شکل دینے تک آئی ایم ایف معاہدے کو منظر عام پر نہیں لاسکتے، مشیر خزانہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہےکہ عالمی مالیاتی ادارے ( آئی ایم ایف) سے معاہدے کو حتمی شکل دینے تک اس کی شرائط کو منظر عام پر نہیں لا سکتے۔اسلام آباد میں وفاقی وزراء اور مشیروں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ حکومت نے اچھے معاشی فیصلے کرکے ملک کے گردشی قرضوں میں ماہانہ 12 ارب روپے تک کی کمی کی ہے۔عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ آئندہ چند ماہ میں معیشت کی بہتری کےلیے مزید اچھے فیصلے کیے جائیں گے اور آئندہ 6 سے 12 ماہ میں حالات مزید بہتر ہوں گے۔

ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ حالیہ حکومت سے قبل گردشی قرضوں میں ماہانہ 36 ارب روپے کا اضافہ ہو رہا تھا لیکن وزیر اعظم عمران خان کی پالیسیوں کی وجہ سے ان میں ماہانہ 12 ارب روپے کی کمی لائی گئی ہے۔مشیر خزانہ نے بتایا کہ اس وقت گردشی قرضوں میں ماہانہ 26 ارب روپے کا اضافہ ہو رہا ہے اور آئندہ کچھ ماہ میں اسے کم کرکے ماہانہ 8 ارب روپے تک لایا جائے گا اور پھر 2020 کے آخر تک اسے صفر پر لایا جائے گا۔

وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ کا کہنا تھا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ آئی ایم ایف سے قرض لینے پر بھاری سود ادا کرنا پڑتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آئی ایف ایف سے قرض لینے پر شرح سود نسبتا کم ہوتی ہے جب کہ عالمی مالیاتی ادارے سے قرض لینے کے بعد ملک میں سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

مشیر خزانہ کے مطابق بجٹ آنے کے چند ماہ بعد معیشت کو مضبوط اور بہتر بنانے کے لیے اچھے فیصلے کیے جائیں گے اور غریب اور متوسط طبقے کو ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ ملک کی ٹیکس آمدن صرف 11 فیصد ہے اور ٹیکس کا 85 فیصد حصہ صرف 350 کمپنیاں دیتی ہیں۔مشیر خزانہ کے مطابق ملک میں صرف 4 لاکھ بینک اکاؤنٹ ہولڈرز ٹیکس دیتے ہیں۔

وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ نے ملک میں بڑھائی گئی تیل قیمتوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس میں حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے، عالمی مارکیٹ میں تیل کی فی بیرل قیمت 79 ڈالر ہو چکی ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت کے پچاس لاکھ گھروں کے منصوبے سے 28 سیکٹر میں روزگار کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں، اس کے علاوہ کامیاب نوجوان پروگرام کے تحت نوجوانوں کو کم شرح سود پر قرضے ملیں گے۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو سال میں زراعت سیکٹر کی صورتحال مزید ابتر ہوئی ہے، ہم زراعت کے شعبے کے ترقی کے لیے 250 ارب روپے مختص کررہے ہیں تاکہ اس سے روزگار بھی میسر ہو۔عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ ہم ٹریڈنگ کے بجائے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو ترجیح دے رہے ہیں

وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ کے مطابق حکومت کو روزگار پیدا کرنے کا ذمہ دار سمجھنے کے بجائے نجی سیکٹر کو اس جانب پابند کریں گے کہ وہ زیادہ سے زیادہ روزگار دیں اور حکومت نجی سیکٹر کی حوصلہ افزائی کے لیے ایسی کمپنیوں کو مختلف ٹیکس میں چھوٹ دے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں بہت ساری ایسی شاہرائیں اور سڑکیں ہیں جن کی تعمیر کے لیے نجی سیکٹر سے مدد لیں گے، حکومت سڑکوں پر سرمایہ خرچ کرنے کے بجائے کاموں پر خرچ کرے گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ مشکل دن ختم ہونے جارہے ہیں، معاشی طور پر مستحکم ہونے کے لیے مشترکہ طور پر جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے، یہ وقت اختلافات کا نہیں ہے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق کچھ بتایا نہیں جارہا اور پھر یہ بھی کہا جارہا ہے کہ شرائط بہت سخت ہیں، اگر بتایا نہیں جارہا تو پھر انہیں یہ کیسے پتہ چل گیا کہ آئی ایم ایف پروگرام سخت ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ آئی ایم ایف سے پروگرام مکمل ہونے تک اس کو منظر عام پر نہیں لایا جاسکتا۔

 

یہ بھی دیکھیں

پاکستان جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کا خواہاں، عارف علوی

پاکستان کے صدر عارف علوی نے علاقائی تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پر زور …