جمعہ , 19 جولائی 2019

برطانیہ میں نئے وزیراعظم کے لیے امیدوار میدان میں

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)بریگزٹ ڈیل میں ناکامی پر برطانوی وزیراعظم ٹریسامئے کے مستعفی ہونے کے اعلان کے بعد برطانیہ میں نئے وزیراعظم کے لیے دوڑ شروع ہوگئی۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق کنزرویٹو پارٹی کے نئے سربراہ کے لیے امیدواروں کے درمیان دوڑ شروع ہوگئی ہے جب کہ کنزرویٹو پارٹی کا نیا سربراہ برطانیہ کا آئندہ وزیراعظم بھی ہوگا۔پارٹی رہنماؤں کی جانب سے نیا سربراہ جولائی کے آخر تک چنے جانے کا امکان ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق نئے وزیراعظم کے لیے چار امیدواروں نے میدان میں آنے کا فیصلہ کرلیا ہے جن میں سیکریٹری خارجہ جیریمی ہنٹ، انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ سیکریٹری روری اسٹیورٹ، سابق سیکریٹری خارجہ بورس جونسن اور سابق ورک اینڈ پنشن سیکریٹری ایستھر مک وے شامل ہیں۔اس کے علاوہ نئے وزیراعظم کے لیے دیگر ناموں پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے جن میں سر گراہم کا نام بھی شامل ہے جو 1922 کمیٹی کی صدارت سے بھی مستعفی ہوچکے ہیں۔

کئی برطانوی مصنفوں نے سابق بریگزٹ سیکریٹری ڈومینک راب اور مائیکل گوو کے سامنے بورس جونسن کو فیورٹ قرار دیاہے۔واضح رہےکہ برطانوی وزیراعظم ٹریسامئے نے آئندہ ماہ مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے اور وہ بطور کنزرویٹو پارٹی لیڈر 7 جون کو دستبردار ہوجائیں گی۔

بریگزٹ اور یورپی یونین
برطانیہ نے 1973 میں یورپین اکنامک کمیونٹی میں شمولیت اختیار کی تھی تاہم برطانیہ میں بعض حلقے مسلسل اس بات کی شکایات کرتے رہے ہیں کہ آزادانہ تجارت کے لیے قائم ہونے والی کمیونٹی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے رکن ممالک کی خودمختاری کو نقصان پہنچتا ہے۔برطانیہ کی ایک بڑی تعداد برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی چاہتی ہے اور اس سلسلے میں مہم چلائی گئی اور ریفرنڈم بھی ہوا۔

بریگزٹ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد ابتداء میں معاشی مشکلات ضرور پیدا ہوں گی تاہم مستقبل میں اس کا فائدہ حاصل ہوگا کیوں کہ برطانیہ یورپی یونین کی قید سے آزاد ہوچکا ہوگا اور یورپی یونین کے بجٹ میں دیا جانے والا حصہ ملک میں خرچ ہوسکے گا۔

یہ بھی دیکھیں

طالبان نے وردک میں درجنوں طبی مراکز بند کرادیئے

افغانستان میں غیرملکی این جی او کےتحت چلنے والے درجنوں طبی مراکز طالبان نے بند …