منگل , 25 جون 2019

ایک ڈرون سے اتنا خوف ۔۔

شاید مشرق وسطیٰ کے نصیب میں امن و سکون نہیں لکھا گیا ،بحران ہیں کہ یکے بعد دیگر مختلف پہلو سے سے سر ابھارتے رہتے ہیںتازہ ترین جو صورتحال ہے اس میں ایک اہم موڑ یمن کی جانب سے اپنی جارحیت کیخلاف جوابی کارروائی ہے کہ جس میں پہلی بار سعودی عرب کی اقتصادی ریڑھ کی ہڈی یعنی آرامکو پر ڈرون حملہ ہے ۔

پانچ سال کی انتہائی وحشیانہ کی قسم بمباری سے تبا ہ حال ہونے والے یمن کی جانب سے یہ کارروائی ایک زبردست کارروائی سمجھی جارہی ہے ۔
اس کارروائی کے بعد سعودی عرب میں واضح طور پر خوف دیکھا جاسکتا ہے کہ سعودی عرب نے فورا ًدو فورمز کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے، ماہرین کہتے ہیں کہ سعودی عرب کی جانب سے اس ہنگامی اجلاس کا بلاوا ایک قسم کی فریاد ہے البتہ جارح اور ظالم کی فریاد ۔

یمن سعودی بمباری سے مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے ،سعودی غیر تربیت یافتہ پائلٹ اور امریکی انتہائی مہلک ہتھیار نے یمن کی کوئی چیز اپنی جگہ رہنے نہیں دی ہے ۔صورتحال اس قدر خراب اور بری ہے کہ یمن کی سویلین آبادی پر بمباری ایک معمول کی بات بن چکی ہے کیونکہ عالمی سطح پر اس انتہائی غریب ملک کا کوئی ہمنوا نہیں ہے اور یہاں بچوں کے اسکول ،ہسپتال ،بازار بڑے آرام کے ساتھ نشانہ بنائے جاتے ہیں اور پل بھر میں سینکڑوں انسانوں کو چیتھڑوں میں بدل دیا جاتا ہے ،ایسےمیں یمن کی جانب سے جوابی اقدامات تنگ آمد بجنگ آمد کی آخری سٹیج کی طرح ہے کہ جہاں وہ اپنی پوری توانائی کو جارحین کیخلاف استعمال کررہے ہیں ۔
سعودی عرب کی کمزوری کا یہ عالم ہے کہ وہ اسلحے اور فوج کی عدد ی برتری کی باوجود جب بھی یمن کی جانب سے جوابی کارروائی ہوتی ہے فورا ًسہاروں کی تلاش کرتا ہے ،جیسے ایک مشہور پروپیگنڈہ مکہ مکرمہ پر ممکنہ یمنی حملہ ہے ،یہ ایک ایسا حربہ ہے جس کا مقصد مسلم سادہ عوام کو جذباتی بنادیتا ہے ۔

اس قسم کے کھلے جھوٹ کا مطلب واضح ہے کہ سعودی عرب ہمدردیا ں حاصل کرناچاہتا ہے اور یہ اس کی کمزور پوزیشن کو ظاہر کرتا ہے
دوسرا بڑا سہارا عرب لیگ ،خلیج تعاون ،اسلامی سربراہی کانفرنس جیسے فورم کا استعمال ہے

سعودی عرب چاہتا ہے کہ لوگ اکھٹے ہوں اور اس کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں تاکہ اندرونی اور بیرونی طور پر اس کی کمزوریوں اور جنگی جرائم پر پردہ بھی پڑا رہے اور طاقت کا ایک اظہار بھی ہو ۔ظاہر ہے کہ یہ چیز ایک لیپا پوتی تو ہوسکتی ہے لیکن زمین میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں لاسکتی اور نہ ہی اس کی چھیڑی ہوئی جنگ کی کایا پلٹ سکتی ہے ۔

یمن کیخلاف سعودی عرب نے کئی قسم کے اتحاد پہلے سے بنائے ہوئے ہیں جن میں عربی عسکری اتحاد برائے بحالی حکومت یمن ،خلیجی تعاون کونسل کا اتحاد وغیرہ شامل ہیں جبکہ غریب افریقی ممالک سے کرایے کی فوج بھی اکھٹی کی ہوئی ہے کہ جس میں سوڈان سرفہرست ہے ۔

زمین میں فوج اتارنے کی جرأت سعودی عرب اور اتحادی نہیں کرسکتے جبکہ فضائی مسلسل بمباری سے تباہی اور انسانی جانوںکا ضیاع تو ہوسکتا ہے لیکن زمینی حقائق بدل نہیں سکتے ۔

بھوک ،غربت ،آئے دن درجنوں انسانی جسموں کے چیتھڑوں کو سمیٹتا یمن اب بھی پوری قوت کے ساتھ کھڑا ہے، بلکہ اب انکی جوابی کارروائی سعودی عرب اور ابوظہبی کو زبردست قسم کے جھٹکے دے رہی ہے ۔

پانچ سال ہونے کو آئے ہیں کہ اب تک سعودی عرب یمن کو فتح نہیں کرپایا کہ اب لینے کے دینے پڑ رہے ہیں اور سعودی عرب کو حوصلوں اور ہمدردیوں کی آگسیجن کی ضرورت پڑ رہی ہے ۔

خطے میں جس قسم کی صورتحال ہے اس صورتحال میں سعودی عرب کے لئے بہتر یہی ہوگا کہ وہ یمن پر قبضے کا خیال چھوڑ دے اور ایک اچھے ہمسائے کی طرح جینا سیکھ لے ورنہ جو آگ وہ یمن کے سرپر برسا رہا ہے وہ آگ اب ان کے محلات تک پہنچنے لگی ہے ۔مکہ مکرمہ پر حملے کے جھوٹے پروپیگنڈے یا مختلف علاقائی فورمز پر لوگوں کو اکھٹاکرنے سے مسائل حل نہیں ہونگے اور نہ ہی ان کے خوف اور ڈر میں کسی قسم کی کمی آئے گی۔

یہ بھی دیکھیں

صدی معاہدہ یا تباہی کا معاہدہ

(بقلم عادل فراز) ڈیل آف سینچری یعنی ’صدی معاہدہ‘ کو عملی شکل دینے کے لئے …