جمعہ , 23 اگست 2019

ایران مخالف محاذ کی تشکیل میں آل سعود کی ناکامی

(تحریر: فاطمہ امینی)

خطے کے بعض رجعت پسند عرب ممالک سعودی عرب کی سربراہی میں اعلانیہ طور پر اسرائیل سے دوستانہ تعلقات استوار کرنے پر زور دیتے ہیں اور اپنی غیر مقبول اور آمرانہ حکومتوں کے تحفظ کیلئے امریکہ اور اسرائیل کا دامن تھامتے ہیں۔ ان ممالک نے مسئلہ فلسطین سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیش کردہ "سینچری ڈیل” نامی ظالمانہ منصوبے کی حمایت کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔ مزید برآں، یہ ممالک اسرائیل کی بجائے ایران کو خطے کے امن کیلئے بڑا خطرہ ظاہر کرنے کا پرچار بھی کر رہے ہیں۔ انہی ممالک کی جانب سے امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی کاروائی پر بھی اکسایا جا رہا ہے۔ البتہ اب تک ریاض اپنی اس کوشش میں ناکام رہا ہے۔ اسی طرح سعودی عرب علاقائی سطح پر بھی ایران مخالف محاذ تشکیل دینے کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہے۔ دوسری طرف عمان، کویت اور عراق کی جانب سے ایران مخالف عزائم کی واضح مخالفت کے سبب آل سعود رژیم کا یہ خواب بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔ آج خطے کے تمام ممالک بخوبی اس حقیقت سے آگاہ ہو چکے ہیں کہ آل سعود رژیم اسرائیل کے حق میں سرگرم عمل ہے اور ایران فوبیا کے ذریعے مسئلہ فلسطین کو پس پشت ڈالنے کی اسٹریٹجی پر کاربند ہے۔

ڈیلی الاخبار کی رپورٹ کے مطابق جہاں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر فوجی حملے کیلئے اکسا رہے تھے وہیں دوسری طرف عمان، کویت اور عراق امریکہ پر ایران کے خلاف کسی قسم کی فوجی کاروائی سے اپنی مخالفت واضح کر چکے تھے۔ جب عمان نے ایران اور امریکہ کے درمیان تناو کم کرنے کیلئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو ساتھ ہی کویت نے بھی اس بحرانی صورتحال سے متعلق اپنا موقف واضح کر دیا۔ یوں سعودی عرب کی جانب سے عرب ممالک کو ایران کے خلاف صف آرائی کی دعوت کے باوجود کویت کی پارلیمنٹ نے حال ہی میں اس ملک کا سرکاری موقف بیان کیا ہے جس میں خطے میں امن و امان کے فروغ اور ہر قسم کے تنازعہ میں "مثبت اور تعمیری بے طرفی” کا ثبوت دینے پر زور دیا گیا ہے۔ دوسری طرف چند دن پہلے ایک اعلی سطحی امریکی وفد نے عراق کا دورہ کیا اور بغداد پر ایران کے خلاف امریکی پابندیوں پر عمل پیرا ہونے کی تاکید کی۔ امریکہ کے دھمکی آمیز لہجے کے باوجود عراقی حکام نے واضح طور پر امریکہ اور ایران کے تنازعہ میں بے طرف رہتے ہوئے ثالثی کا کردار ادا کرنے پر زور دیا ہے۔

ایک طرف آل سعود رژیم ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ میں مصروف ہے جبکہ دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل اپنے منحوس منصوبے سینچری ڈیل کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکہ قدس شریف کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دے چکا ہے اور آئندہ چند دنوں میں بحرین میں ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کرنا چاہتا ہے جس کا مقصد سینچری ڈیل کے اقتصادی پہلووں کو واضح کر کے ان کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنا ہے۔ یہ کانفرنس غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں عالمی سرمایہ کاری کے عنوان سے منعقد کی جا رہی ہے لیکن اس کا اصل مقصد سینچری ڈیل منصوبے کو آگے بڑھانا ہے۔ بحرین کے دارالحکومت منامہ میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں چند اسرائیلی وزیروں کی شرکت بھی متوقع ہے۔ جیسے جیسے ماہ مبارک رمضان کے اختتام سے قریب ہو رہے ہیں سینچری ڈیل نامی منحوس امریکی سازش کے مزید پہلو عیاں ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جس میں اردن کو عرب ریپبلکن آف فلسطین میں تبدیل کر دیا جائے گا جبکہ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان بھی اربوں ڈالر کی رشوت کے ساتھ عرب حکمرانوں کو اس منصوبے پر راضی کرنے کیلئے خریدنے میں مصروف ہیں۔

دوسری طرف اردن، عراق اور فلسطین اتھارٹی کے سربراہان نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے ہٹ کر اور ان کی مداخلت کے بغیر اردن کے دارالحکومت اومان میں ایک ہنگامی اجلاس میں مسئلہ فلسطین کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔ اردن کے فرمانروا ملک عبداللہ دوم، عراق کے صدر برہم صالح اور فلسطین اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس اس اجلاس میں شریک تھے۔ اجلاس میں اردن کے ولیعہد حسین بن عبداللہ بھی موجود تھے اور انہوں نے اردن، عراق اور فلسطین کے درمیان موجود تاریخی برادرانہ تعلقات کے فروغ پر زور دیا۔ اجلاس میں اپنے جائز حقوق کے حصول کیلئے جاری جدوجہد میں مظلوم فلسطینی قوم کا بھرپور ساتھ دینے کا عزم ظاہر کیا گیا اور مشرقی بیت المقدس کی مرکزیت میں 4 جون 1967ء والی جغرافیائی حدود پر مشتمل آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام پر تاکید کی گئی۔ اردن کے فرمانروا ملک عبداللہ دوم نے فلسطین اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس سے ملاقات میں کہا: "مسئلہ فلسطین خطے کا بنیادی مسئلہ ہے اور اردن کی پہلی ترجیح میں شامل ہے۔ اردن اپنے جائز حقوق کے حصول کی جدوجہد میں فلسطینی قوم کے ساتھ کھڑا ہے اور اپنی پوری طاقت سے اس کی حمایت جاری رکھے گا۔”

یہ بھی دیکھیں

امریکہ ایران کشیدگی کے خطے پر اثرات

(مرزا اشتیاق بیگ) برطانیہ کے زیر انتظام جبرالٹر، مسلمانوں میں ’’جبل الطارق‘‘ کے نام سے …