جمعرات , 19 ستمبر 2019

ایران، امریکہ جنگ کی حسرت ناتمام

(تحریر: ارشاد حسین ناصر)

اسلام کی الہٰی، الہامی تعلیمات میں ناصرف ”غیر جانبداری” کا کوئی تصور نہیں بلکہ فقط حق کی حمایت کا حکم ہے۔ ایران، امریکہ کشیدگی پر جہاں انصاف پسند حلقے متفکر ہیں، وہاں ایک مخصوص لابی کے نام نہاد دانشور اب تک جنگ نہ چھڑنے پر شدید بے چینی کا شکار ہیں اور ایران کے بھی افغانستان جیسے انجام کے منتظر ہیں۔ اوریا مقبول اور قدسیہ بانو کے کالموں میں جنگ کے لئے ان کی ناتمام حسرت کا اظہار بڑا واضح ہے، جس کی ایک وجہ افغانستان، لیبیا اور عراق کا ایران سے نا درست موازنہ ہے۔ ایران فکری اور دفاعی لحاظ سے ان ممالک سے بالکل مختلف ہے۔ ایران کی دیندار قوم نے ہزاروں جانوں کی قربانیوں سے اسلامی انقلاب لایا اور پھر امریکہ ہی کی مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ میں لاکھوں جانوں کی قربانیاں دے کر اسے ناقابل شکست بنایا۔ اب ایران ایک ایٹمی طاقت ہے اور سب سے بڑھ کر اس قوم کا جذبہء شہادت و ایثار ہے، جس کا مقابلہ دنیا کی کوئی طاقت نہیں کرسکتی۔

جذبہء شہادت کا مطلب ہر شے پر غالب و قاہر اللہ سبحانہ و تعالیٰ پر توکل اور بھروسہ ہے، جس کا قرآن میں وعدہ ہے کہ وہ اپنے صالح بندوں کی مدد کرے گا، چاہے یہ بات کافروں اور ان کے ہمنوائوں کو کتنی ہی ناگوار گزرے۔ اس کا مشاہدہ بھارت کے ساتھ اپنی حالیہ کشیدگی میں کرسکتے ہیں۔ ہمارے ازلی دشمن کی عسکری صلاحیت و عددی قوت کا موازنہ کیا جائے اور عملی طور پر اس کی بے بسی و ہزیمت کا اندازہ کیا جائے تو ہماری سربلندی اور ناقابل شکست ہونے کی اصل وجہ ہماری افواج اور قوم کا جذبہء شہادت ہے، جس کی بنیاد ایمان باللہ اور توکل علی اللہ ہے۔ ایرانی قوم بھی اسی نعمت سے سرفراز ہے۔ یہ درست نہیں کہ ایران، امریکہ آمنے سامنے نہیں آرہے۔ امریکہ نے تو اس نوزائیدہ اسلامی مملکت کے وجود میں آنے کے اگلے ہی سال عراق اور خطے کی ریاستوں کے ذریعہ اسے ملیا میٹ کرنے کی کوشش کی، مگر اسے منہ کی کھانی پڑی۔

اب تو ایران ایٹمی طاقت ہے، لیکن ان کی طاقت کا اصل راز اللہ پر توکل ہے۔ جنگ نہ ہونے کے ایک اہم سبب کے بیان میں اوریا صاحب تو بڑی دور کی کوڑی لائے کہ چونکہ ایران میں یہودیوں کی ایک تعداد ہے، جو اسرائیل و امریکہ کے عزائم میں آڑے ہے۔ اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے انیس۔ یہ یہودی نہ تو ایران پر مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ میں کام آئے، نہ اب اقتصادی پابندیوں کے شکنجے ختم کرنے میں کوئی کردار ادا کرسکے، جس کا وہ خود بھی شکار ہیں۔ اوریا صاحب نے بڑی محنت سے ایران میں یہودیوں کے معبدوں کے اعداد و شمار بھی پیش کئے۔ کاش انہیں یہ ذکر کرنے کی توفیق بھی ہوتی کہ انقلاب اسلامی کے بعد تہران میں اسرائیل کا سفارتخانہ بند کرکے فلسطین کا سفارتخانہ کھولا گیا۔ حزب اللہ نے اسرائیل کو نکیل ڈالی ہوئی ہے۔ بلاشبہ ایران میں بھی پاکستان کی طرح مذہبی اقلیتوں کو مذہبی آزادیاں حاصل ہیں۔(قارئین منتظر ہیں کہ اوریا صاحب کب پاک بھارت جنگ ٹلنے میں پاکستانی ہندووں کے کردار اور پاکستان میں مندروں کی تعداد کا گوشوارا پیش کریں گے)۔

اوریا مقبول صاحب کے تجزیوں کا خلاصہ و نتیجہ بھی قابل توجہ ہے کہ خلیجی پانیوں میں عرب ریاستوں کی اجازت سے امریکی ساز و سامان کا ہدف ایران نہیں بلکہ پاکستان ہوسکتا ہے۔ اس نادر تجزیہ کے باوجود انہوں نے ارض پاک کے خلاف اس قدر دشمنانہ کردار ادا کرنے پر نہ تو عرب ممالک پر تنقید کی اور نہ ہی سعودی قیادت میں تشکیل شدہ کثیر الملکی اسلامی فوجی اتحاد کے اس تباہ کن فیصلہ پر کوئی تبصرہ کیا، جس کی اجازت کے بغیر امریکہ بہادر کو ان پانیوں تک رسائی نہیں دی جا سکتی ہے اور جس کی کمانڈ اور کنٹرول ہمارے ایک مایہء ناز ریٹائرڈ جرنیل کے ہاتھ میں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری قوم کو تباہ و برباد کرنے اور ملک کو تنہا کرنے میں ایسے ہی متعصب تجزیہ کاروں اور اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائز نام نہاد محب وطن کا گھنائونا کردار ہے، جو پاکستان کے دوست و برادر ہمسایہ ملک سے کشیدگی اور تفرقوں کو اچھال کر دشمنان اسلام کی عملی خدمت کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔

اس وقت پاکستان کو سب سے زیادہ اپنے ہمسایہ برادر ممالک سے تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ خطے میں کسی بھی طرح کی لگنے والی آگ کی تپش سے محفوظ رہا جا سکے۔ یاد رہے کہ امریکی حملہ اگر ایران پر ہوتا ہے، تب بھی پاکستان پر اس کے اثرات کسی نہ کسی شکل میں پڑیں گے۔ اس سے پہلے ہمارے ہمسائے افغانستان میں ہونے والے حملوں چاہے، وہ روس نے کئے یا امریکہ نے ان کے اثرات آج تک دیکھے جا سکتے ہیں۔ ہمارا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اس خطے میں حملہ جس پر بھی ہو، اس کے اثرات پورے ریجن میں سامنے آئیں گے، اس سے محفوظ کوئی بھی نہیں رہیگا اور ایران جیسا ملک تو اس وقت اپنی آزادی، خود مختاری، عزت اور قومی مفادات کے خلاف کسی بھی ملک کا سامنا کرنے کیلئے تیار دکھائی دیتا ہے۔ اس کی قیادت میں شجاعت ہے، دور اندیش اور زیرک و بصیر ہے، جس کے باعث وہ ہر قدم ناپ تول کر چل رہے ہیں۔

اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ ان کی سفارت کاری اور استقامت کے باعث امریکی صدر جنگ سے پیچھے ہٹتا نظر آرہا ہے اور ایرانی صدر سے مذاکرات کا خواہاں ہے جبکہ ایرانی قیادت نے امریکیوں کو جھوٹا اور وعدہ خلاف ثابت کیا ہے۔ فائیو پلس ون مذاکرات اور ڈیل میں ایران نے اپنے وعدے کو نبھایا جبکہ امریکہ نے اس معاہدے سے فرار کیا اور وعدہ خلافی کی اور پہلے سے بھی سخت پابندیاں لگائیں اور ایران کا اقتصادی ناطقہ بند کرنے کی کوشش کی ہوئی ہے، جس میں اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس لئے کہ یورپ کے تجارتی مفادات امریکہ کو جھکنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔ اوریا مقبول اور ان کے فالورز کو ایران سے خواہ مخواہ کا تعصب حق و سچ لکھنے سے روکتا ہے، جس کی وجہ سے ان کے قلم کا زور ہمیشہ اسلام کے خلاف دشمن کے تیروں کا کام کرتا ہے، سچ تو یہ ہے کہ ایران کی شجاع و باغیرت قوم و قیادت نے اوائل انقلاب سے استعمار جہاں بالخصوص امریکہ اور اس کے حواریوں کے حملوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔

اہل ایران ایک قوم کی مانند ہیں جبکہ ہم ستر سال سے زائد عرصہ گذر جانے کے بعد بھی تقسیم در تقسیم سے دوچار ہیں، ہمارے سیاست دان کرپشن اور ذاتی مفادات کے ذریعے ملکی سلامتی کو دائو پر لگا دیتے ہیں، جبکہ اہل ایران کا یہ حال ہے کہ یہ مختلف قومیتوں، زبانوں اور مذاہب کے ہوتے ہوئے بھی ایران کے مسئلہ پر ایک ہوتے ہیں، اگر ایسا نہ ہوتا تو ایران کا انقلاب کب کا لپیٹ دیا گیا ہوتا اور امریکہ ایک بار پھر تہران میں اپنی چودھراہٹ کا پرچم لہرا رہا ہوتا، جیسا انقلاب سے قبل تہران میں اس نے جاسوسی کا سب سے بڑا نیٹ ورک قائم کیا ہوا تھا۔ ایران کے ساتھ اگرچہ امریکہ کی براہ راست جنگ کبھی نہیں ہوئی، مگر اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ امریکہ ایران کی پراکسیز کا سلسلہ اپنے اپنے دائروں میں جاری ہے اور امریکہ نے ثقافی میدان سے لیکر دیگر میدانوں میں کھل کے ایران کے خلاف بجٹ اپنی کانگریس سے منظور کروایا ہے۔

شام و عراق میں نام نہاد خلافت بغدادی کا قیام اور اس کا پھیلائو دراصل ایران کے اسلامی انقلاب کو لپیٹنے کی ہی سازش تھا، جس کا مقابلہ اہل ایران نے عراق و شام میں جا کر کیا اور انہیں شکست سے دوچار کیا۔ اصل پریشانی استعمار اور اس کے حواریوں کو یہی ہے کہ ایران نے دنیا بھر سے جمع کردہ نام نہاد جہادیوں کو عراق و شام میں اپنی تدبیر اور حکمت سے شکست سے دوچار کرکے اپنا ملک بچایا ہے، اب یہ نام نہاد جہادی ان کے ممالک میں جا کر اپنا اسلام نافذ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، جبکہ ایران پہلے سے زیادہ مستحکم ہوچکا ہے۔ ایران گذشتہ چالیس سال میں تمام تر پابندیوں کے باوجود ایک فوجی طاقت کے طور پہ سامنے موجود ہے، ایسی فوجی طاقت جس کو دکھا کر امریکہ اپنا ناکارہ اسلحہ عربوں کو فروخت کرکے کمائی کر رہا ہے، جبکہ ایران نے کئی بار یہ کہا ہے کہ اس کی فوجی طاقت امت مسلمہ کیلئے ہے، حتیٰ عرب ممالک بھی اگر خطرہ محسوس کریں تو اس کی فوجی طاقت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ مگر افسوس کہ اہل عرب کو یہ سمجھ میں نہیں آرہا کہ ان کا اصل دشمن کون ہے، کون انہیں لڑا رہا ہے، کون ان کو لوٹ رہا ہے اور کون ان کی تیل کی دولت پر ہاتھ صاف کر رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر ایران کا راستہ نہ روکا جاتا تو اب تک اسرائیل کا وجود شائد کب کا مٹ چکا ہوتا اور قبلہ اول اسرائیل کے نجس پنجوں سے آزاد ہوچکا ہوتا۔ نہ جانے ان عربوں کی غیرت و حمیت کہاں گم ہوگئی ہے کہ فلسطین میں روزانہ کی بنیاد پر فلسطینی مائوں بہنوں کی عزتیں تار تار ہوتی ہیں، ان کے گھر راکھ کا ڈھیر بنائے جاتے ہیں اور ان کی زمینوں پر قبضے کئے جاتے ہیں، انہیں بلا تمیز جیلوں میں ڈالا جاتا ہے، انہیں گولیوں سے چھلنی کیا جاتا ہے، پھر بھی یہ عرب ایران کے مقابل امریکی بحرے بیڑے کو نہ صرف خوش آمدید کہتے ہیں بلکہ تیل کی دولت سے ان کے بھاری اخراجات بھی ادا کرتے ہیں۔ کرائے کے فوجیوں اور امریکی و فرانسیسی اسلحہ کے زور پہ پانچ سال سے عرب بے کس یمنیوں، جن کے پاس کھانے کو پتوں کے سوا کچھ نہیں، فتح نہیں کرسکے، اہل ایران کو کیسے فتح کر پائیں گے۔ لہذا سیانے یہی کہہ رہے ہیں کہ امریکہ عربوں سے تیل کی دولت اور تیل تو نچوڑتا رہیگا، ایران پر حملے کی حماقت نہیں کریگا۔ اوریا مقبول جان اور ان کے فالورز کو مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا، لہذا ان کا تعصب یونہی چھلکتا رہیگا۔

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …