ہفتہ , 24 اگست 2019

بڑھتی ہوئی یمنی مزاحمت اور سعودی عرب

(تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس)

یمنی مزاحمت کا آغاز 2014ء میں ہوا اور 2015ء میں سعودی اتحاد نے وہاں باقاعدہ حملے شروع کئے۔ اب تک ان حملوں میں بین الاقوامی اندازوں کے مطابق 60 ہزار لوگ شہید ہوچکے ہیں، ان میں سے زیادہ تر لوگ عام شہری تھے، جنہیں بازاروں، مسجدوں، ہوٹلوں، گاڑیوں اور پارکوں میں نشانہ بنایا گیا۔ صرف اسی پر بس نہیں کی گئی بلکہ یمن کی ناکہ بندی کر لی گئی، اس ناکہ بندی نے خطے کے اس غریب ترین ملک کو مزید تباہ حال اور قحط سے دوچار کر دیا۔ یمن کے اہل ایمان غیرت و حمیت کے مجسمے ہیں، انہوں نے کسی بھی صورت میں شکست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور مزاحمت کا اعلان کیا۔ ایک طرف یہ سر پھرے ہیں، جو بے سروسامانی کے عالم میں عازم جہاد ہوچکے ہیں اور انہیں مدمقابل کی دفاعی طاقت، ان کے جہازوں، ان کے بموں اور ان کے اتحادیوں سے ذرا برابر بھی خوف نہیں ہے۔ وہ روز قربانی دیتے ہیں اور ہر صورت میں دفاع کا اعلان کرتے ہیں۔ ان کا یہی جذبہ ہے کہ دنیا کے جدید ترین وسائل سے لیس فوجی قوت کی موجودگی کے باوجود اتحادیوں کے ہاتھ کچھ نہیں آیا، آج بھی صنعاء میں لاکھوں اہل ایمان ان کی حمایت میں مظاہرے کرتے ہیں۔

یمن کے نام نہاد صدر عبد ربہ منصور ہادی نے یمن میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے مارٹن گریفتھس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جانبداری سے کام لے رہے ہیں اور حوثیوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ انہوں نے حوثیوں کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے مطابق الحدیدہ کو خالی کرنے کے معاملے پر تنقید کی ہے۔ یمن کے کٹھ پتلی صدر جو صنعاء پر عوامی قبضے کے بعد سعودیہ فرار ہوگئے تھے، اب سعودی فورسز کی سرپرستی اور ان کی زیر نگرانی عدن میں مقیم ہیں اور عوامی مزاحمت کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومت کے خلاف ریشہ درانیوں میں مصروف ہیں۔ الحدیدہ یمن کی مرکزی فورسز کے قبضہ میں ہے اور اس کے کچھ حصوں کا قبضہ فورسز نے معاہدے کے تحت مقامی لوگوں کو دیا ہے اور باقی پر کام جاری ہے۔ سعودی سرپرستی میں منصور ہادی یہ چاہتے ہیں کہ یہ قبضہ انہیں دیا جائے۔ عجیب بات ہے کہ منصور ہادی کی وفادار فوج نے کئی بار الحدیدہ پر قبضے کی کوشش کی اور ہر بار منہ کی کھائی، اب اس اہم شہر کو معاہدے کے ساتھ لینا چاہتے ہیں۔

چار سال میں مزاحمت نے ایک جاندار شکل اختیار کر لی ہے، اب یہ دو طرح سے دفاع کر رہے ہیں، ایک تو حملہ آوار جہازوں اور ہیلی کاپٹرز کو نشانہ بنا رہے ہیں، اسی طرح ڈرونز گرائے جا رہے ہیں، اس سے حملہ آور قوتوں کا کافی نقصان ہوا۔ دوسرا اب یمن سے باہر بھی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے انہیں بھی اس بات کا احساس ہوا ہے کہ جب کسی شہر پر بم گرتا ہے یا کسی جگہ شہری شہید ہوتے ہیں تو ان کا درد کیا ہے؟ یمن سے ڈرون پرواز بھرتا ہے اور سینکڑوں کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے سعودی عرب کی بڑی پائپ لائن کے ایک پمپنگ سٹیشن کو نشانہ بناتا ہے، یہ گیس پائپ لائن سعودی عرب کا ایک تہائی تیل سپلائی کرتی ہے۔ اس حملے کے بعد اس پائپ لائن کوب ند کر دیا گیا اور اسے دوبارہ چلانے میں کافی وقت لگا اور تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیش آئی۔

اسی طرح کا ایک حملہ نجران میں کیا گیا نجران ریاض سے 890 کلومیٹر دور ہے، یہ حملہ بھی ایک فوجی بیس پر کیا گیا، جس میں اطلاعات کے مطابق کئی ہیلی کاپٹرز کو نقصان پہنچا۔ اسی طرح طائف کے کنگ فیصل ائربیس پر حملہ کیا گیا ہے، جس میں فوجی نقصان کی اطلاعات ہیں۔ یہ سب واقعات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جب آپ کسی کو حد سے زیادہ تنگ کرتے ہیں تو تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق اب اہل یمن دفاعی اور جارحانہ دونوں محاذوں پر کمربستہ ہوچکے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یمنی فورسز کی یہ کارروائیاں مزید وسعت اختیار کر جائیں گی۔ ایک پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ یمنوں نے خانہ کعبہ پر حملہ کیا ہے۔ اس سے دنیا بھر کے مسلمانوں میں اشتعال پیدا کرنا اور یمنیوں کی جدوجہد کے خلاف مذہبی ہتھیار کو استعمال کرنا ہے۔ اہل یمن نے کسی بھی ایسے حملے کی تردید کی ہے اور ساتھ میں اس بات کا اعلان کیا ہے کہ ہم کسی بھی صورت میں مکہ اور مدینہ پر حملہ نہیں کریں گے، یہ ہمارے ایمان کے مراکز ہیں۔

ان حملوں کے بعد کنگ سلمان نے کہا کہ اس سے دنیا کے امن کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے، جب اہل یمن کو بموں اور ناکہ بندی کرکے قحط سے مارا جا رہا تھا، اس وقت دنیا کے امن کو کوئی خطرہ نہیں تھا، اب جب سعودی عرب کے فوجی مفادات کو زک پہنچی ہے تو اب امن یاد آگیا ہے۔ فوراً سعودی عرب نے عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل کا اجلاس بلایا ہے اور سب سے مدد کی اپیل کی جائے گی۔ یمن کی فورسز کی طرف سے سعودی عرب اور دیگر جگہوں پر ردعمل میں کی گئی کاروائیوں کے بارے میں یہ رائے رکھتے ہیں کہ کاش مسلمانوں کی قوت ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہوئی ہوتی، کاش آل سعود یمن کے عوام پر عرصہ حیات تنگ نہ کرتے اور وہ مجبور نہ ہوتے کہ اپنے دفاع میں اس طرح کی کارروائیاں کریں۔ مگر کیا کیا جائے عملی صورتحال یہ ہے کہ ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ یہ پروپیگنڈا ہے کہ یہ میزائل، ڈرون اور اسلحہ ایران فراہم کر رہا ہے، اگر بات ایسی ہی ہے تو یہ سعودیہ اور اس کے سب سے بڑی اتحادی امریکہ کی بڑی ناکامی ہے کہ وہ ناکہ بندی کے باوجود اس بات کو یقینی نہیں بنا سکے کہ کوئی اسلحہ باہر سے نہ آئے۔

اس ساری صورت حال میں سعودی عرب کی تمام کی تمام امیدیں امریکہ سے وابستہ ہیں۔ سعودی عرب کی خارجہ پالیسی اس حد تک امریکہ کے تابع ہوچکی ہے کہ اب وہ اسرائیل کو تسلیم کر لے گا، امریکہ کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی فرمانبرداری بھی خوشی سے کر لے گا، مگر کسی اسلامی اتحاد کی طرف نہیں آئے گا۔ قرآن تو واضح طور پر حکم دیتا ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ(المائدہ ۵۱) "ایمان والو، یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا دوست اور سرپرست نہ بناؤ کہ یہ خود آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے کوئی انہیں دوست بنائے گا تو ان ہی میں شمار ہو جائے گا بیشک اللہ ظالم قوم کی ہدایت نہیں کرتا ہے۔” مگر کیا کیا جائے، اب دوستی اور وہ بھی جنگ میں دوستی امریکہ اور اسرائیل سے کی جا رہی ہے۔ حضرت اقبال کیا خوبصورت فرما گئے ہیں:

بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی!
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے؟

یہ بھی دیکھیں

امریکہ ایران کشیدگی کے خطے پر اثرات

(مرزا اشتیاق بیگ) برطانیہ کے زیر انتظام جبرالٹر، مسلمانوں میں ’’جبل الطارق‘‘ کے نام سے …