ہفتہ , 24 اگست 2019

نکبہ71 : فلسطینی مہاجرین واپسی کے لیے پر عزم

نکبہ کو 71 سال گزر چکے ہیں جسمیں ہزاروں فلسطینی شہید ہوئے اور سینکڑوں کو ہجرت کرنی پڑی، اس کے باوجود فلسطینی پناہ گزین ہمیشہ اپنی کھوئی ہوئی زمینوں سے جڑے رہیں گے۔فلسطینی ہر سال 15 مئی کواس دعوے کے ساتھ مناتے ہیں کہ وہ زمینوں کے قانونی مالک ہیں اور انہیں واپسی کا پورا حق حاصل ہے جو ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہو رہا ہے ۔

اہم واقعات
15 مئی 2019 کو فلسطینیوں نے نکبہ کی 71 ویں سالگرہ کے موقع پرفلسطینیوں نے پوری دنیا میں بڑے پیمانے پر ریلیاں نکالیں، مظاہرے کیے، فلسطینی پرچم لہرائے اور اپنے ہاتھوں میں قطبے اٹھائے جب پر انکے آبائی شہروں کے نام درج تھے۔

غزہ کی پٹی میں واپسی کےعظیم مارچ اور محاصرے کے خاتمے کی اعلیٰ قومی کمیٹی نے ایک بیان میں کہا کہ آج ہم غزہ ، مغربی کنارے ، 1948 کے مقبوضہ علاقے اور یہودیوں کے درمیان ،پوری دنیا میں فلسطین کے حامیوں کے ساتھ اسرائیلی قبضے ،دہشت گردی اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے سڑکوں پر نکلیں گے ۔

ہم ایک دفعہ پھر یقین دلاتے ہیں کہ ہم اپنی زمینوں پر واپسی کے حق کو کبھی نہیں چھوڑیں گے جہاں سے ہمیں 1948 میں نکالا گیا تھا۔ ہم متبادل ملک کے خیال کوبھی قبول نہیں کریں گے۔ فلسطین ہمارا ملک ہے اور دشمن کو وہاں سے لازمی جانا ہوگا۔کمیٹی نے فلسطینی عوام کے جانب سے امریکی انتظامیہ کی نام نہاد صدی کی ڈیل کو پاس کرنے کی کوششوں کی شدید مذمت کی جسکا مقصد صرف فلسطینی کاذ کا خاتمہ ہے اور مسلم اور عرب قوموں کوہر طرح سے فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھنے کی اپیل کی۔

صدی کی ڈیل
اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے فلسطینی مقصد کو روکنے اور فلسطینی عوام کے حقوق کو غصب کرنے کے تمام منصوبوں خاص طور پر صدی کی ڈیل کو مسترد کر دیا اور زور دیا کہ فلسطینی قبضے کے خلاف ہر ممکن طریقے سے مزاحمت جاری رکھیں ۔

حماس نے نکبہ کی سالگرہ کے موقع پر سرکاری بیان میں کہا کہ مزاحمت سرخ لکیر ہے اور فلسطینی عوام اپنے تحفظ اور اپنے غصب شدہ حقوق کو حاصل کرنے کے لیے اسے جاری رکھنے کا حق رکھتے ہیں۔اس کے حصے کے طور پر اسلامی جہاد کی سیاسی بیورو کے ممبر محمد الہندی نے کہا کہ وہ لوگ جونکبہ کے دن کے موقع پر غزہ میں واپسی کے عظیم مارچ میں حصہ لے رہے ہیں یہ پیغام بھیج رہے ہیں کہ "یہ زمینیں ہماری ہیں”بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

امریکہ ایران کشیدگی کے خطے پر اثرات

(مرزا اشتیاق بیگ) برطانیہ کے زیر انتظام جبرالٹر، مسلمانوں میں ’’جبل الطارق‘‘ کے نام سے …