بدھ , 21 اگست 2019

موساد کے سابق سربراہ نے آل سعود کے ساتھ وسیع تعاون کو فاش کردیا

یروشلم (مانیٹرنگ ڈیسک)تامیر پاردو نے اعتراف کیا کہ موساد اور سعودی خفیہ ادارے کے اہلکاروں کے درمیان “بہت اچھا” تعاون پایا جاتا ہے۔یہودی ریاست کی خفیہ ایجنسی موساد ـ کے سابق سربراہ تامیر پاردو (Tamir Pardo) نے سعودی خفیہ ادارے کے ساتھ طویل عرصے سے جاری سازباز اور تعاون کا پردہ چاک کیا۔

یروشلم پوسٹ کے مطابق، یہودی ریاست کے اس اہلکار نے گذشتہ بدھ [مورخہ ۲۲ مئی ۲۰۱۹ع‍] کے دن امریکی سی آئی کے سابق سربراہ مائیکل موریل (Michael Joseph Morell) کے ساتھ ملاقات میں موساد اور سعودی خفیہ ادارے کے گماشتوں کے درمیان “بہت اچھے تعاون” کا انکشاف کیا۔
فریقین نے صہیونی جاسوسوں اور دوسرے ممالک کے خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے درمیان تعاون کے سلسلے میں تبادلۂ خیال کیا اور پھر پاردو نے ان اداروں کا نام لیا جو موساد کے ساتھ تعاون کررہے ہیں اور غیر متوقعہ طور پر سعودیوں کا نام بھی لیا اور کہا: “موساد اور سعودی خفیہ ایجنسی کے گماشتوں کے درمیان بہت اچھا تعاون پایا جاتا ہے۔

پاردو نے سی آئی اے کے سابق سربراہ سے کہا: آپ جب اس کمرے سے نکلتے ہیں تو ممکن ہے کہ میرے دشمن ہوں لیکن جب ہمارے ساتھ ایک میز پر بیٹھتے ہیں تو ممکن ہے کہ اپنی معلومات منظر عام پر لائیں اور بہت ساری باتیں زبان پر لائیں۔۔۔”۔یروشلم پوسٹ نے لکھا ہے کہ تامیر پاردو یہودی ریاست اور سعودی ریاست کے خفیہ اداروں کے درمیان تعاون کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے اس زمانے کی طرف اشارہ کرتا ہے جب وہ موساد کا سربراہ تھا یعنی سنہ ۲۰۱۱ سے ۲۰۱۶ تک۔

اس رپورٹ کے مطابق یہودی اور سعودی ریاست کے درمیان خفیہ معلومات کے تبادلے کے سلسلے میں تعاون کی بات پہلی بار نہیں کہی جا رہی بلکہ نومبر ۲۰۱۷ع‍ میں بھی یہودی ریاست کی افواج کے جنرل اسٹاف کے سربراہ “گاڑی آئزنکوٹ” (Gadi Eizenkot) اور غاصب ریاست کے تزویری امور کے وزیر یووال اشتائنیتز (Yuval Steinitz) نیز سی آئی کے سابق سربراہ اور موجودہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پامپیو نے بھی اعلانیہ طور پر یہودی اور سعودی ریاستوں کے درمیان تعلقات کے بارے میں اظہار خیال کیا تھا۔

مورخہ ۷ مئی ۲۰۱۸ع‍ کو روزنامہ رأی الیوم نے لکھا تھا کہ یہودی ریاست کے دو سیکورٹی اہلکاروں نے تصدیق کی ہے کہ یہودی ریاست نے ایران اور ایرانی شخصیات سے متعلق ذاتی اور سائبر معلومات سعودی ریاست کو منتقل کی ہیں۔ ان دو صہیونی اہلکاروں نے کہا تھا کہ “یہودی اور سعودی ریاستوں کے درمیان معلومات کا تبادلہ در حقیقت مفادات کے تبادلے پر مرکوز ہے۔ادھر لبنان کے اخبار “الاخبار” نے مارچ ۲۰۱۲ع‍ میں سعودی اور یہودی ریاستوں کے خفیہ اداروں کے درمیان طویل عرصے سے جاری خفیہ تعاون کا انکشاف کیا تھا۔

اس رپورٹ کے مطابق موساد خفیہ طور پر سعودی جاسوسی اداروں کی حمایت کرتی ہے اور سعودی ریاست یہودی ریاست کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کی آڑ میں، خطے میں اپنے سیکورٹی اہداف حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے جبکہ یہودی ریاست سعودیوں کے ساتھ اپنے خفیہ تعلقات کے ضمن میں ایران کے سلسلے میں بھی ریاض کے ساتھ صلاح مشورے کرتی ہے۔الاخبار کے مطابق، دو جڑواں ریاستوں کے خفیہ اداروں کے اعلی اہلکار کے درمیان مذاکرات زیادہ تر قبرص کے دارالحکومت نکوسیا (Nicosia) میں ہوتے ہیں اور انھوں نے اس شہر میں کئی مرتبہ ایران کے بارے میں آپس میں صلاح مشورے کئے ہیں۔

الاخبار نے اس رپورٹ میں یہودی ریاست اور سعودی ریاست کے درمیان اسلحے کے سودوں کے معاہدوں کی طرف اشارہ کیا تھا۔الاخبار نے لکھا تھا کہ سعودیوں کو سیکورٹی، معلوماتی اور خدماتی وسائل اور اوزاروں کی فروخت میں موساد کے کئی سابق اور موجودہ حکام نے بنیادی کردار ادا کیا ہے اور یہ کردار اس حقیقت کا غماز ہے کہ جڑواں ریاستوں کے درمیان تعلق اور تعاون بہت گہرا اور پرانا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
تامیر پاردو نے اعتراف کیا کہ موساد اور سعودی خفیہ ادارے کے اہلکاروں کے درمیان “بہت اچھا” تعاون پایا جاتا ہے۔

ذرائع کے مطابق، یہودی ریاست کی خفیہ ایجنسی وساد ـ کے سابق سربراہ تامیر پاردو (Tamir Pardo) نے سعودی خفیہ ادارے کے ساتھ طویل عرصے سے جاری سازباز اور تعاون کا پردہ چاک کیا۔

یروشلم پوسٹ کے مطابق، یہودی ریاست کے اس اہلکار نے گذشتہ بدھ [مورخہ ۲۲ مئی ۲۰۱۹ع‍] کے دن امریکی سی آئی کے سابق سربراہ مائیکل موریل (Michael Joseph Morell) کے ساتھ ملاقات میں موساد اور سعودی خفیہ ادارے کے گماشتوں کے درمیان “بہت اچھے تعاون” کا انکشاف کیا۔
فریقین نے صہیونی جاسوسوں اور دوسرے ممالک کے خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے درمیان تعاون کے سلسلے میں تبادلۂ خیال کیا اور پھر پاردو نے ان اداروں کا نام لیا جو موساد کے ساتھ تعاون کررہے ہیں اور غیر متوقعہ طور پر سعودیوں کا نام بھی لیا اور کہا: “موساد اور سعودی خفیہ ایجنسی کے گماشتوں کے درمیان بہت اچھا تعاون پایا جاتا ہے۔

پاردو نے سی آئی اے کے سابق سربراہ سے کہا: آپ جب اس کمرے سے نکلتے ہیں تو ممکن ہے کہ میرے دشمن ہوں لیکن جب ہمارے ساتھ ایک میز پر بیٹھتے ہیں تو ممکن ہے کہ اپنی معلومات منظر عام پر لائیں اور بہت ساری باتیں زبان پر لائیں۔۔۔”۔

یروشلم پوسٹ نے لکھا ہے کہ تامیر پاردو یہودی ریاست اور سعودی ریاست کے خفیہ اداروں کے درمیان تعاون کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے اس زمانے کی طرف اشارہ کرتا ہے جب وہ موساد کا سربراہ تھا یعنی سنہ ۲۰۱۱ سے ۲۰۱۶ تک۔

اس رپورٹ کے مطابق یہودی اور سعودی ریاست کے درمیان خفیہ معلومات کے تبادلے کے سلسلے میں تعاون کی بات پہلی بار نہیں کہی جا رہی بلکہ نومبر ۲۰۱۷ع‍ میں بھی یہودی ریاست کی افواج کے جنرل اسٹاف کے سربراہ “گاڑی آئزنکوٹ” (Gadi Eizenkot) اور غاصب ریاست کے تزویری امور کے وزیر یووال اشتائنیتز (Yuval Steinitz) نیز سی آئی کے سابق سربراہ اور موجودہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پامپیو نے بھی اعلانیہ طور پر یہودی اور سعودی ریاستوں کے درمیان تعلقات کے بارے میں اظہار خیال کیا تھا۔

مورخہ ۷ مئی ۲۰۱۸ع‍ کو روزنامہ رأی الیوم نے لکھا تھا کہ یہودی ریاست کے دو سیکورٹی اہلکاروں نے تصدیق کی ہے کہ یہودی ریاست نے ایران اور ایرانی شخصیات سے متعلق ذاتی اور سائبر معلومات سعودی ریاست کو منتقل کی ہیں۔ ان دو صہیونی اہلکاروں نے کہا تھا کہ “یہودی اور سعودی ریاستوں کے درمیان معلومات کا تبادلہ در حقیقت مفادات کے تبادلے پر مرکوز ہے۔

ادھر لبنان کے اخبار “الاخبار” نے مارچ ۲۰۱۲ع‍ میں سعودی اور یہودی ریاستوں کے خفیہ اداروں کے درمیان طویل عرصے سے جاری خفیہ تعاون کا انکشاف کیا تھا۔اس رپورٹ کے مطابق موساد خفیہ طور پر سعودی جاسوسی اداروں کی حمایت کرتی ہے اور سعودی ریاست یہودی ریاست کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کی آڑ میں، خطے میں اپنے سیکورٹی اہداف حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے جبکہ یہودی ریاست سعودیوں کے ساتھ اپنے خفیہ تعلقات کے ضمن میں ایران کے سلسلے میں بھی ریاض کے ساتھ صلاح مشورے کرتی ہے۔
الاخبار کے مطابق، دو جڑواں ریاستوں کے خفیہ اداروں کے اعلی اہلکار کے درمیان مذاکرات زیادہ تر قبرص کے دارالحکومت نکوسیا (Nicosia) میں ہوتے ہیں اور انھوں نے اس شہر میں کئی مرتبہ ایران کے بارے میں آپس میں صلاح مشورے کئے ہیں۔الاخبار نے اس رپورٹ میں یہودی ریاست اور سعودی ریاست کے درمیان اسلحے کے سودوں کے معاہدوں کی طرف اشارہ کیا تھا۔

الاخبار نے لکھا تھا کہ سعودیوں کو سیکورٹی، معلوماتی اور خدماتی وسائل اور اوزاروں کی فروخت میں موساد کے کئی سابق اور موجودہ حکام نے بنیادی کردار ادا کیا ہے اور یہ کردار اس حقیقت کا غماز ہے کہ جڑواں ریاستوں کے درمیان تعلق اور تعاون بہت گہرا اور پرانا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی دھاوے کھلی اشتعال انگیزی ہے:کویت

کویت سٹی (مانیٹرنگ ڈیسک)کویت نے مسجد اقصیٰ پریہودی آباد کاروں کے منظم دھاووں کی شدید …