بدھ , 11 دسمبر 2019

قدس شریف اور اس کی سیاسی جغرافیائی اور حساس زمینی موقعیت

بیت المقدس(روز نامہ قدس ۔آن لائن خبر رساں ادارہ)قدس شریف وحی کی حامل اور اسلامی نگاہ میں مسجد الاقصی کی وجہ سےغیر معمولی قدر و قیمت کا حامل ہے۔ قدس شریف کی اہمیت اس وجہ سے ہے کہ یہ مقدس سر زمین انبیاء کی جائے سکونت اور ان کی بعثت کی جگہ ،مسلمانوں کا پہلا قبلہ اور پیغمبر اعظم (ص) کے آسمانی معراج کی جانب جانے کی جگہ ہے ۔جیسا کہ بیت المقدس یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے بھی دینی اور مذہبی لحاظ سے خاص اہمیت رکھتا ہے ۔

قدس شریف ایک مقدس شہر ہے کہ عمر بن عاص بن وائل نے صدر اسلام میں اس کو فتح کیا تھا اور صلاح الدین ایوبی نے ۱۱۸۷ میں اس کو صلیبیوں کے چنگل سے آزاد کروایا تھا سلیمان قانونی نے سولہویں صدی میں اس کی دیواریں تعمیر کی تھیں ۔یہ شہر مسلمانوں کے نزدیک خاص اہمیت کا حامل ہے ۔ قبۃ الصخرۃ اور مسجد الاقصی دو مقدس مقامات ہیں جو اس شہر میں ہیں اور جیسا کہ بیان ہوا یہ پہلا قبلہ اور دنیائے اسلام کا تیسرا حرم شریف اور پیغمبر اکرم ص کے معراج کی جانب عروج پانے کی جگہ ہے ۔

۱۹۶۷ میں جب سے قدس شریف پر صہیونیوں نے قبضہ کیا ہے اس کو اسرائیل کا دائمی پایتخت اعلان کر دیا گیا ہے۔ تمام نظریں قدس پر جمی ہوئی ہیں اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے دل اس پر ٹکے ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے یہودی اس کوشش میں ہیں کہ اپنے لیے ایک تاریخ بنائیں اور انہوں نے اپنی پوری کوشش اس کو یہودی بنانے پر متمرکز کر رکھی ہے اور ان کا دعوی ہے کہ دیوار ندبہ ان کی ہے ،قدس کو اس کے مقام اور مرتبے کے پیش نظر دنیا کو بہت اہم اور حساس شہر قرار دیا جانا چاہیے، اس طرح کہ اس وقت وہ اسرائیل کی غاصب حکومت اور مسلمانوں اور خاص کر قدس کے رہنے والوں کے درمیان تنازعے کی بنیاد بن چکا ہے۔ اس شہر کی اصلی اہمیت اس اعتبار سے ہے کہ یہ تین آسمانی ادیان، اسلام، عیسائیت اور یہودیت کا مرکز ہے ۔ یہ وہ مشترکہ نقطہ ہے جو اسلامی مقولے کو بیان اور مجسم کرتا ہے اور جو دوسرے ادیان اور مذاہب سے مختلف ہے ۔ خداوند عالم نے مسجد الاقصی کو اس شہر میں قرار دیا ہے اور اس کو مبارک قرار دیا ہے اور اس شہر کا انتخاب کیا ہے کہ یہ تین آسمانی ادیان کے اتصال کا مرکز بن جائے۔ لیکن اس کو یہودی بنانا اور اس میں یہودیوں کے رہائشی شہر تعمیر کرنا اور اسلامی اور وحی کے آثار کو مٹانے کی سیاست اس حکومت کی وسعت طلبی اور نسل پرستی کی سیاستوں کے ساتھ کہ جن پر اس وقت عمل ہو رہا ہے وہ بالکل اس شہر کی ماہیت اور اس مقدس شہر کے واقعی مفہوم کے ساتھ متضاد اور متعارض ہے ۔بشکریہ روزنامہ قدس

یہ بھی دیکھیں

کیا سمیر خطیب لبنان کے نئے وزیراعظم ہوں گے؟

تحریر : غلام حسین احتجاجی مظاہروں سے پیداہونے والے دباؤ کے بعد 29 اکتوبر کو …