ہفتہ , 24 اگست 2019

خطہ کی نازک صورتحال اور جواد ظریف کا دورہ پاکستان

(رپورٹ: ایس اے زیدی)

امریکہ کی جانب سے اپنے بعض مزموم عزائم کو تکمیل تک پہنچانے کی خاطر ایران کو دی جانے والی سنگین دھمکیوں کے بعد نہ صرف تہران بلکہ خطہ میں موجود امریکی اتحادی نہ سمجھے جانے والے ممالک کو تشویش لاحق ہوگئی۔ ایرانی قیادت کی جانب سے کسی بھی ممکنہ جنگ کے اولین مرحلہ (دھمکیوں اور بیانات) کا واشنگٹن کو منہ توڑ جواب دیا گیا۔ امریکہ کے اس جارحانہ رویہ کی چین اور روس نے کھل کر مخالفت کی، البتہ پاکستان نے محتاط رویہ اپناتے ہوئے کسی بھی ممکنہ جنگ کو خطہ کیلئے انتہائی نقصان دہ قرار دیتے ہوئے غیر جانبدار رہنے کا اعلان کیا۔ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ امریکی رویہ میں تو تبدیلی ضرور آئی, تاہم ایڈونچر کے خواہش مند سعودی عرب سمیت بعض عرب ممالک اب بھی تہران پر امریکی یلغار کے منتظر نظر آتے ہیں۔ اس نازک صورتحال میں برادر اسلامی ملک ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر جواد ظریف نے پاکستان کا اہم دورہ کیا، اپنے اس دورہ کے دوران انہوں نے وزیراعظم عمران خان، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کیساتھ اہم ملاقاتیں کیں، ان ملاقاتوں کے دوران باہمی دلچسپی کے امور بالخصوص امریکی دھمکیوں کے بعد خطہ میں پیدا ہونے والی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کیساتھ ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات کے بعد پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی اور خطے میں استحکام کے لئے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ خطے کو مسائل سے دور رکھنے اور امن کے لئے تمام فریقین کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ علاوہ ازیں پاکستان اور ایران کے وزارت خارجہ کے وفود کے مابین مذاکرات بھی ہوئے، پاکستانی وفد کی قیادت شاہ محمود قریشی اور ایرانی وفد کی جواد ظریف نے کی۔ اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، پاکستان تمام تصفیہ طلب امور کو سفارتی سطح پر حل کرنے کا حامی ہے، پاکستان امن و استحکام کیلئے اپنا مصالحانہ کردار ادا کرنے کوشش جاری رکھے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ خطے میں قیام امن کیلئے پاکستانی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ پاک ایران وزرائے خارجہ مذاکرات کے بعد ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف وزیراعظم عمران خان سے بھی ملے۔

واضح رہے کہ دورہ پاکستان کے بعد ڈاکٹر جواد ظریف عراق روانہ ہوگئے، ایران کے وزیر خارجہ نے ان دوروں کے بارے میں کہا ہے کہ اس وقت علاقہ نہایت سخت اور مشکل دور سے گزر رہا ہے اور علاقے میں خطرناک اقدامات انجام پا رہے ہیں, لہذا تمام پڑوسیوں سے صلاح و مشورے کی ضرورت ہے اور ان دوروں کا مقصد بھی یہی ہے۔ جواد ظریف کے اس صورتحال میں پڑوسی ممالک کے دورہ جات سے واضح ہوتا ہے کہ تہران موجودہ حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے خطہ کے اہم دوست ممالک کی مشاورت سے مضبوط لائحہ عمل اپنانا چاہتا ہے اور امریکہ کی جانب سے جنگ مسلط کئے جانے کی صورت میں پڑوسی ممالک کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ اس جنگ سے نقصان صرف ایران کو نہیں پہنچے گا بلکہ دیگر ممالک بھی اس کی لپیٹ میں آسکتے ہیں، خاص طور پاکستان کیلئے بھی کئی مشکلات کھڑی ہوسکتی ہیں۔ تہران کی جانب سے دھمکیوں کے دھمکیوں سے جواب، جنگی تیاریوں، کسی بھی امریکی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے اعلان اور خاص طور پر ایرانی رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای کے اہم بیان کے بعد واشنگٹن بیک فٹ پر دکھائی دیتا ہے۔ تاہم سعودی عرب اور اسکے بعد عرب اتحادی ممالک کی یہ شدید خواہش ہے کہ امریکہ، ایران پر حملہ آور ہو جائے۔

خارجہ امور کے ماہر اور پاکستان کے سابق سفیر برائے اقوام متحدہ شمشاد احمد خان کا ڈاکٹر جواد ظریف کے دورہ پاکستان کے تناظر میں کہنا تھا کہ میرے خیال میں پاکستان کے پاس کوئی چوائس نہیں ہے، ہماری خواہش ہے کہ ہم ایران کی مدد کرسکیں، کیونکہ اس کے ساتھ ہمارا طویل بارڈر ہے اور وہ ہمارے لیے اہم ہے، لیکن موجودہ حکومت اس پوزیش میں نہیں ہے کہ سعودی عرب کو چھوڑ کر ایران کی مدد کرسکے، ہماری حکومت اس وقت کئی مسائل میں گھری ہوئی ہے، حکومت یہ دیکھ رہی ہے کہ سعودی عرب سے ہمیں کیا کیا مفادات حاصل ہوسکتے ہیں، اب حالیہ سعودی عرب نے تین بلین ڈالرز کا تیل تاخیر سے ادائیگی پر پاکستان کو دینے کی پیشکش کی ہے، سعودیہ میں بڑی تعداد میں پاکستانی شہری نوکریاں کر رہے ہیں، جو کروڑوں کا زرمبادلہ بھیج رہے ہیں۔ میرے خیال میں پاکستان ایران کی خاطر سعودی عرب یا کسی اور طاقتور ملک کی برائی مول نہیں لے گا اور ہر قیمت پر اپنے مفاد کا تحفظ کرے گا۔ دوسری طرف ایران کے پریس ٹی وی کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف پاکستان یہ تجویز لے کر گئے ہیں کہ گوادر اور چابہار بندرگاہ کو جوڑ دیا جائے۔

وڈ وڈیرے کہا کرتے تھے کہ رشتہ داروں سے زیادہ قریبی تعلق پڑوسیوں سے رکھا کرو، کیونکہ کسی مصیبت کی صورت میں رشتہ دار دیر سے پہنچے گا جبکہ پڑوسی پہلے پہنچ جائے گا۔ خطہ کی بدلتی صورتحال کے تناظر میں ڈاکٹر جواد ظریف کا دورہ پاکستان و عراق بروقت اور اہم اقدام ہے۔ ان حالات میں تہران کے پڑوسیوں کا اہم رول ہوسکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان امریکہ کو جارحیت سے روکنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کرے، اس صورتحال کو ایران، سعودیہ تنازعہ سے جوڑنے کی بجائے امریکہ کی خطہ میں موجود اپنے غیر دوست ممالک کیخلاف سازش کے طور پر دیکھا جائے، اسلام آباد کے ریاض کیساتھ اپنے بہترین تعلقات اپنی جگہ، مگر ان تعلقات پر خطہ کے امن کو قربان کرنے سے گریز کرنا چاہیئے۔ امریکی منصوبہ بندی کو باریک بینی سے دیکھتے ہوئے مسلم ممالک کو دانشمندی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ امریکہ اور اسرائیل جہاں براہ راست مداخلت نہیں کرسکتے، وہاں مسلم ممالک کا سہارا لیکر حملہ آور ہوتے ہیں۔ ایران کی اس ممکنہ جنگ کو روکنے کیلئے کی جانیوالی کوششیں خوش آئند ہیں، تاہم اس سلسلے میں پاکستان، چین اور روس کو بھی اپنا مثبت رول ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ ایران کشیدگی کے خطے پر اثرات

(مرزا اشتیاق بیگ) برطانیہ کے زیر انتظام جبرالٹر، مسلمانوں میں ’’جبل الطارق‘‘ کے نام سے …