پیر , 23 ستمبر 2019

آئی ایم ایف: خودکشی سے خودکشی تک

(اظہر تھراج) 

پی آٹی آئی حکومت کو جن مسائل کا سامنا ہے، سب کو اس کا ادراک تھا۔ لیکن پی ٹی آئی کی قیادت حقیقت کے برعکس جلسوں میں جوش پیدا کرنے کےلیے دعوے کرتی رہی۔ ملکی اور عالمی میڈیا چیخ چیخ کر بیان کرتا رہا کہ پاکستان کی معاشی حالت یہ ہے، آئندہ حکومت کو معیشت کیسی ملے گی؟ دنیا حقیقت بتاتی رہی اور پی ٹی آئی قیادت اپنے دعوے کرتی رہی۔ پی ٹی آئی کے ارسطو کہتے رہے ’’ناں بھائی ناں! ایسا نہیں ہے، ہم تو 100 دن میں دودھ اور شہد کی نہریں نکال کر دکھائیں گے، قیادت اچھی ہوگی تو لوگ ٹیکس لے کر ایف بی آر کے دروازے پر پہنچیں گے، ہم خودکشی کرلیں گے آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے۔‘‘ لیکن ہوا کیا؟ پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔

وزیراعظم عمران خان کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے ’’بلومبرگ‘‘ نے خبردار کیا تھا کہ معاشی چیلنجز آنے والی حکومت کا استقبال کریں گے، نئی حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے خراب معیشت کی کالی بلی سے بچنے کی کوشش کی گئی۔ 9 ماہ ضائع کرنے کے بعد وہی کیا گیا جو شروع میں ہی کرلینا چاہیے تھا۔حقیقت میں حکومت خودکشی کرچکی ہے۔ یہ خودکشی آئی ایم ایف کے پاس نہ جاکر نہیں کی گئی بلکہ ان کے تختہ پر ہی لٹک کر حرام موت کا تمغہ سینے پر سجایا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے ویسی ہی غلطی کی ہے جو ماضی میں پرویز مشرف نے امریکا سے 20 ارب ڈالر لے کر کی تھی۔ اس غلطی سے حکومت کو فرق پڑے نہ پڑے، عام پاکستانیوں کی زندگیاں ضرور ڈسٹرب ہوں گی۔ پاکستان نے آئی ایم ایف کی تمام شرائط مان لی ہیں۔ عمران خان کی حکومت نے کڑوی گولی نگلی ہے، جو وہ نہیں کھانا چاہتی تھی، کیونکہ اس سے ان کا ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر دینے کا منصوبہ پورا ہوتا ہوا مشکل نظر آتا ہے۔ ٹیکسز بڑھیں گے، سبسڈیز ختم ہوجائیں گی، مہنگائی مزید بڑھے گی۔ مشیر خزانہ لاکھ سبز باغ دکھائیں لیکن جب ڈالر بڑھے گا، تیل کی قیمتوں کو پر لگیں گے تو اعلان کردہ 216 ارب روپے کی سبسڈی بھی اونٹ کے منہ میں زیرہ ثابت ہوگی۔

آئی ایم ایف کے پاس جانے کا ایک فائدہ ضرور ہوا ہے کہ پاکستان کی معیشت تین سال کےلیے ایک ڈسپلن کے تحت چلے گی، جو یقیناً آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت ہوگی۔ کاروبار میں استحکام آجائے گا۔ غیریقینی کے بادل چھٹ جائیں گے۔ اگر حکومت سرمایہ داروں کو اعتماد دینے میں کامیاب ہوگئی تو ملک میں سرمایہ کاری آنے کا بھی امکان ہے۔

معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ اس بار بجٹ خسارہ پچھلے مالی سال سے بھی زیادہ ہوگا۔ اللہ نہ کرے۔ لیکن حالات بتارہے ہیں کہ ایک بڑی تعداد میں لوگ بیروزگار ہوں گے۔

آئی ایم ایف مغرب کی معاشی سیاست کو کنٹرول کرنے کا ایک ہتھیارہے، اس پر امریکا اور مغربی ملکوں کی اجارہ داری ہے۔ قرض لینے والے ملکوں سے نہ صرف مقامی معیشت کو کنٹرول کیا جاتا ہے بلکہ ان ملکوں کی خارجہ پالیسی پر بھی شرائط عائد کی جاتی ہیں۔ پاکستان چاہتا تو ترکی کی طرح آئی ایم ایف کو ٹھینگا دکھا سکتا تھا۔ اردگان کو تو امریکی پابندیاں نہ جھکا سکیں لیکن ہمارا ’’اردگان‘‘ سجدہ ریز ہوگیا۔ اب ان کی اپنی شرائط ہیں۔ وہ اپنے ہنٹر سے معاشی گھوڑا دوڑائیں گے۔

ایک رپورٹ کے مطابق امریکا آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ وینزویلا کے برے حالات، جہاں امریکا اپنی مرضی کی حکومت لانا چاہتا ہے۔ پاکستان پر آئی ایم ایف کا بڑھتا ہوا کنٹرول، وہ وجوہات ہیں جو امریکا کی مستقبل کی خواہش کا پتہ دے رہی ہیں۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک اپنے آپ کو آزاد ادارہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ آئی ایم ایف میں ساڑھے 17 فیصد شیئر امریکا کا ہے۔ امریکا کا اس پر اثرورسوخ بھی زیادہ ہے۔ امریکا آئی ایم ایف کو سالانہ 170 ارب ڈالر دیتا ہے، جو مختلف ممالک کو قرض کے طور پر دیے جاتے ہیں۔

ورلڈ بینک کی حالت بھی یہی ہے۔ اس کا صدر بھی امریکا کا شہری ہی بنتا ہے اور اسے ڈائریکٹ امریکی صدر ہی تعینات کرتا ہے۔ امریکا آئی ایم ایف کے ذریعے پہلے ممالک کی معیشت کو تباہ کرتا ہے، پھر بیل آئوٹ پیکیج دیتا ہے۔ پھر اپنی شرائط منوانے کےلیے حکومتوں پر دبائو بڑھاتا ہے۔ ایکواڈور، وینزویلا کی زندہ مثالیں موجود ہیں۔ ایکواڈور میں پہلے معیشت تباہ کی گئی، پھر آئی ایم ایف کے ذریعے پیکیج دیا گیا اور آخرکار مطلوب ملزم جولین اسانج کو وہاں سے ملک بدر کرایا گیا۔ اب وینزویلا میں بائیں بازو کی حکومت ختم کرنے کےلیے کھیل کھیلا جارہا ہے۔ جس منصوبے پر امریکا ایک عرصے سے کام کررہا تھا۔

پاکستان کو ایک عرصے سے آئی ایم ایف کہتا رہا ہے کہ پاکستان اسٹیٹ بینک کو آزاد ادارہ ہونا چاہیے، اسے وزارت خزانہ کے اثرورسوخ سے پاک ہونا چاہیے۔ اب وہ اپنا ہی بندہ لانے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ اب وہ پاکستان کی معیشت کے ساتھ کیا کرتے ہیں؟ ہم سے کیا چیز مانگتے ہیں؟ اس کا وقت کے ساتھ فیصلہ ہوجائے گا۔

گزشتہ برسوں میں آئی ایم ایف نے پاکستان کو 21 پروگرام دیئے۔ صرف اسحاق ڈار کے ساتھ طے پانے والا پروگرام مکمل ہوا۔ ان پروگراموں کا نامکمل ہونا آئی ایم ایف کی بات نہ ماننا تھا۔ عموماً آئی ایم ایف 6 ماہ میں پروگرام کی نظرثانی کرتا ہے، لیکن پاکستان کے معاملے میں تین ماہ میں نظرثانی کی جاتی ہے۔ حالیہ پروگرام میں آئی ایم ایف کی شرائط کو ماننے میں جو رکاوٹیں تھیں، ان کو ہٹا دیا گیا ہے۔ اسدعمر نے ان کی کچھ شرائط ماننے سے انکار کردیا تھا، ان میں سے ایک اداروں کی نجکاری تھی، اسٹیل مل، اسپتالوں کی نجکاری۔

امریکا پاکستان کے ذریعے افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے اور اپنی بات منوانے کےلیے پاکستان کو کہہ رہا ہے کہ طالبان پر دباؤ ڈالا جائے۔ ادھر طالبان پاکستان کی بات نہیں مان رہے۔ پاکستان کا طالبان پر وہ کنٹرول نہیں رہا، جو پہلے تھا۔ افغانستان کے ستر فیصد سے زائد حصے پر ان کا کنٹرول ہے۔ امریکا تو کجا وہ کسی کو خاطر میں نہیں لارہے۔ وہ امریکا کو ملک سے بھگانے کے ساتھ ساتھ غنی حکومت کا بھی خاتمہ چاہتے ہیں۔ دوسرا ایران کے خلاف بننے والے اتحاد کےلیے پاکستان کی حمایت مانگی جارہی ہے۔ امریکا ایران کو مسلسل دھمکیاں دے رہا، بحری بیڑے سے اس کا گھیراؤ کرچکا ہے۔

ایسے وقت میں اگر پاکستان آئی ایم ایف کے بنے گئے جال میں پھنس گیا تو پاکستان کےلیے بڑی مشکل ہوجائے گی۔ کیونکہ پاکستان نہ تو ایران کے خلاف جاسکتا ہے اور نہ ہی اس کا ساتھ دے سکتا ہے۔ ہوشمندی سے کھیلا گیا تو ستے خیراں۔ اگر قومی کرکٹ ٹیم کی طرح کھیلے تو پھر نتیجہ سب کے سامنے ہے۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …