بدھ , 17 جولائی 2019

چیئرمین نیب ویڈیو سکینڈل پلان کا حصہ، آگے کیا ہوگا؟

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین نیب جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال کی مبینہ طور پر ایک خاتون کے ساتھ ٹیلی فون پر متنازع گفتگو اور دفتر میں ملاقات کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے معاملے پر معروف صحافی نجم سیٹھی نے حکومتی بھانڈا پھوڑ دیا۔

پاکستان کے مشہورو معروف تجزیہ کار اور صحافی نجم سیٹھی نے اپنے پروگرام "نجم سیٹھی شو” میں چیئرمین نیب ویڈیو اسکینڈل کے بڑے انکشافات کر دیئے۔انہوں نے کہا کہ یہ حکومتی پلان کا حصہ ہے کہ کسی طرح سے چیئرمین نیب کو ہراساں کیا جائےوہ استعفیٰ دیں اور ڈپٹی چیئرمین کو اختیارات دے کر ان سے فائدہ اٹھایا جائے۔

نجم سیٹھی نے اس ساری کہانی کو تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا کہ چیئرمین نیب نے اگر خود استعفیٰ نہ دیا تو ان پر اتنا دباو ڈالا جائے گا کہ وہ خود ہی استعفیٰ دے دیں گے۔ چیئرمین نیب اگر استعفی دیتے ہیں تو ڈپٹی چیئرمین کے پاس یہ اختیار نہیں ہوتے کہ وہ چیئرمین نیب کی ذمہ داریاں سنبھال سکے۔یہ فیصلہ افتخار چودھری نے 2010 میں سنایا تھا کہ ڈپٹی چیئرمین یہ ذمہ داریاں نہیں سنبھال سکتے۔ انہوں نے بتایا کہ اب ہوگا یہ کہ نئے چیئرمین کی تعیناتی کے معاملے میں اگر حکومت اور اپوزیشن جلدی فیصلہ نہیں کر پاتے تو ایک صدارتی آرڈیننس لایا جائے گا اس میں ترمیم کی جائے گی کہ اتفاق نہیں ہورہا جس کی وجہ سے تمام اختیارات ڈپٹی چیئرمین کو منتقل کیے جارہے ہیں، اس آرڈیننس کی میعاد 120 دن تک ہوتی ہے۔ان 120 دنوں میں حکومت اپنے تمام مقاصد پورے کر لے گی۔ آصف زرداری کو بھی جیل کے اندر ڈال دیں گے ، شہباز شریف اور باقی جس کو چاہیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

زلزلہ متاثرین کیلئے 8 کروڑ کا چیک شہباز شریف کے داماد کو دیا گیا: فردوس عاشق

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے دعویٰ کیا ہے کہ زلزلہ …