اتوار , 15 دسمبر 2019

امریکی بلاک پھر ہار گیا، ایران پھر جیت گیا!

(تحریر: محمد سلمان مہدی)

عنوان دیکھ کر بہت سے لوگ کہہ سکتے ہیں ہونہہ!! وہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ۔۔۔ ہو ہی نہیں سکتا، ممکن ہی نہیں کہ امریکی بلاک ایران کے ہاتھوں شکست کھا سکے! لیکن اگر اس رائے کا حامی طبقہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی صدارت کے دور میں امریکی بلاک کے الزامات، اعلانات، دھمکیوں، دعووں اور اقدامات کا اختصار کے ساتھ محض طائرانہ جائزہ ہی لے لے تو بھی نتیجہ سامنے ہے۔ یعنی امریکی بلاک ہار گیا، ایران پھر جیت گیا!! امریکا نے پہلا راؤنڈ یوں کھیلا کہ صدر ٹرمپ نے بین الاقوامی معاہدے المعروف ایران نیوکلیئر ڈیل سے امریکا کو دستبردار کر لیا، ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں۔ ہوا کیا؟ نیوکلیئر ڈیل کے دیگر فریقوں یعنی تین یورپی ممالک برطانیہ، فرانس اور جرمنی اور ساتھ ہی روس اور چین نے امریکی دستبرداری کی مخالفت کر دی اور ڈیل کو برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا! ٹرمپ کی قیادت میں کام کرنے والی امریکی حکومت کا یہ حملہ خودکش قرار پایا، اس احمقانہ فیصلے سے امریکا کو سفارتی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا اور بحیثیت ایک ذمے دار ملک کے اس کی ساکھ خراب ہوکر رہ گئی کہ امریکا سے معاہدہ کون کرے، یہ تو کسی بھی وقت یکطرفہ طور پر معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کرسکتا ہے۔

اس راؤنڈ کے بعد دوسرا راؤنڈ اقتصادی پابندیوں کا تھا کہ اگر دنیا کے کسی بھی ملک نے ایران کا تیل خریدا تو اسے بھی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور امریکی بینکاری نظام سے یعنی بین الاقوامی سطح پر جو بھی ملک ڈالر میں خرید و فروخت کرتا ہے تو لا محالہ اسے امریکی بینکاری نظام کا سہارا لینا پڑتا ہے، کیونکہ ڈالر کرنسی میں تجارت کے لئے لیٹر آف کریڈٹ امریکی بینک ہی جاری کرنے کا مجاز ہے۔ اس دھمکی سے بہت سے ممالک لرز جاتے ہیں لیکن ایران کے تیل کے بڑے خریداروں میں امریکا کے اپنے قریبی شراکت دار، اتحادی اور دوست ممالک بھی شامل تھے، چین جو خود اقوام متحدہ کی سییورٹی کاؤنسل کا مستقل رکن ہے اور جو امریکا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، یہ بھی ایرانی تیل کا بڑا خریدار ہے۔ اگر امریکا کے بڑے تجارتی شراکت داروں کی فہرست دیکھیں تو چین کے بعد جاپان، جرمنی، جنوبی کوریا، برطانیہ، فرانس، بھارت، اٹلی، ٹاپ کے دس ممالک میں شامل ہیں۔ برازیل اور سوئٹرز لینڈ ٹاپ پندرہ ممالک میں شامل ہیں۔ ترکی امریکا کا نیٹو اتحادی ہے، عراق کے ساتھ امریکا کے کئی معاہدے ہیں۔

جو ایران نیوکلیئر ڈیل کے دیگر فریق ہیں، ان میں روس کو مائنس کر دیں، تب بھی چار دیگر امریکا کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ہیں، لیکن انہوں نے ایران کے خلاف صدر ٹرمپ کی امریکی حکومت کا موقف مسترد کر دیا۔ یعنی ایران نیوکلیئر ڈیل پر برقرار رہے اور اعلان کیا کہ جس ریلیف کا وعدہ کیا گیا ہے، وہ ایران کو فراہم کرنے کے پابند ہیں۔ پھر یہ کہ ان ممالک میں جاپان اور جنوبی کوریا بھی ایشیاء پیسیفک خطے میں امریکا کے پرانے اتحادی و شراکت دار ہیں اور بھارت کے ساتھ بھی امریکا کے تعلقات میں بہت زیادہ وسعت ہوچکی ہے، جبکہ بحری سکیورٹی نظام میں بھارت کو امریکا نے نئے انتظامات کے تحت کلیدی حیثیت دینے کی پالیسی کا رسمی اعلان بھی کیا ہے۔ ان ممالک میں سے جتنے بھی انرجی کے شعبے میں ایرانی مصنوعات کے خریدار تھے، انہوں نے ٹرمپ حکومت کی پابندیوں کو اپنے مفادات کے خلاف قرار دیا اور ایرانی تیل و گیس کی تجارت کو جاری رکھا تو انکا یہ عمل کیا کہلائے گا؟ کیا امریکا کامیاب ہوا یا ایران؟؟ امریکا نے پسپائی اختیار کی اور ان ممالک کے لئے عارضی مہلت کی منظوری کا اعلان کر دیا۔

عارضی مہلت کے خاتمے پر ٹرمپ حکومت نے ایرانی دھات کی برآمدات پر پابندیوں کا اعلان کرکے دباؤ بڑھانے کی کوشش کی۔ اس سے قبل ایران کے آئینی و قانونی فوجی ادارے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔ پھر اچانک ایران کو اس خطے میں امریکی مفادات کے لئے خطرہ قرار دیا۔ خلیج فارس میں بحری بیڑوں، افواج اور فوجی ساز و سامان میں اضافہ کرکے بھی دیکھ لیا۔ ایران نے جوابی کارروائی کرکے اس خطے میں امریکی فوج کی مرکزی کمان سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کو دہشت گرد قرار دیا اور واضح طور پر اعلان کر دیا کہ ایران جنگ کا حامی تو نہیں، لیکن اگر امریکا نے جنگ کی یا حملہ کیا تو ایران بھی بھرپور جواب دے گا۔ امریکا کا ہدف کیا تھا، ایران کو تنہا کرنا، ایران کو دھمکی دے کر، بلیک میل کرکے اپنا مطالبہ منوانا۔ کیا امریکا اس میں کامیاب ہوگیا؟ امریکا کے ان اقدامات کو دنیا کے بہت سے ملکوں نے مسترد کر دیا اور کشیدگی میں شدت پیدا کرنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا۔ ایرن نے امریکا کا کوئی ایک مطالبہ بھی نہیں مانا۔ حتیٰ کہ ٹرمپ نے فون نمبر تک دے دیا کہ ایرانی قیادت رابطہ کرلے تو وہ ایران سے مذاکرات کریں گے، ایران نے اس خواہش کو بھی مسترد کر دیا تو اس راؤنڈ میں بھی جیتا کون؟ ایران یا امریکا؟؟؟

ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں ایران کے خاتمے کی بات کی، لیکن ٹوکیو کے الاسکا محل میں جاپانی وزیراعظم شنزو ایب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہنے لگے کہ وہ ایران کو نقصان پہنچانا نہیں چاہتے اور تو اور انہوں نے جاپان کی جانب سے امریکا اور ایران کے مابین ثالثی کا کردار کرنے کی پیشکش بھی کی، جس کی صدر ٹرمپ نے تائید بھی کی ہے۔ عراق اور پاکستان پہلے ہی ثالثی کی پیشکش کرچکے ہیں، جبکہ ان تین ملکوں کے علاوہ سطان قابوس کے عمان اور قطر کے بارے میں بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ بھی ثالثی کے لئے پس پردہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ عراق نے تو اعلان کیا ہے کہ انکا وفد ثالثی مشن پر امریکا اور ایران جائے گا۔ جنگ جنگ کے نقارے بجانے کے بعد امریکا نے لب و لہجہ تبدیل کر لیا، لیکن ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی کا ردعمل یہ آیا ہے کہ ایران کے لئے امریکا کے لب و لہجہ کی تبدیلی کوئی معنی (اور اہمیت) نہیں رکھتی، امریکا کو (مجموعی طور پر) اپنا (ایران مخالف) رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔ یہ وہ بیانیہ ہے، جو ماضی میں امریکی حکومت ایران کے لئے استعمال کیا کرتی تھی اور اب ایران امریکا سے کہہ رہا ہے کہ اپنے اندر تبدیلی لاؤ۔

تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ ایران نے نہ صرف امریکا کو صاف منع کر دیا ہے بلکہ نیوکلیئر ڈیل کے باقی پانچ فریقوں اور خاص طور پر تین یورپی ممالک کو دو مہینے کی مہلت کا رسمی نوٹس جاری کر دیا ہے کہ ایران نیوکلیئر ڈیل میں انہوں نے ایران سے جو وعدے کئے ہیں، ان کو عملی طور پر نبھائیں۔ صرف اعلانات و بیانات کافی نہیں ہیں بلکہ عملی اقدامات اٹھائیں، ورنہ ایران جوائنٹ کمپریہینسیو پلان آف ایکشن (جے سی پی او) یعنی مشترکہ جامع منصوبہ عمل کی شق نمبر 26 اور 36 پر ایران اپنے حصے کے عمل کو معطل کر دے گا، یعنی یورینیم کی 3.6 فیصد سطح تک افزودگی پر جو ایران نے معاہدے کے تحت اتفاق کیا تھا، دو ماہ کے بعد ایران اس کا پابند نہیں رہے گا اور اراک میں بھاری پانی کے ری ایکٹر کے حوالے سے بھی ایران اپنی پالیسی تبدیل کرلے گا۔ ٹرمپ حکومت کیا چاہتی تھی؟ یہی ناں کہ ایران سے اور زیادہ سخت شرائط منوائے، لیکن ایران نے کیا فیصلہ سنایا ہے کہ پچھلی شرائط کو بھی جوتے کی نوک پر مارنے کے موڈ کا رسمی اظہار کر دیا ہے۔

ٹرمپ نے 8 مئی کو ایران کے خلاف نیا فیصلہ سنایا اور اسی دن ایران کی شوریٰ عالی امنیت ملی یا بالاترین قومی سلامتی کاؤنسل نے اسی دن ساٹھ دن کا نوٹس جاری کر دیا اور صدر روحانی نے بھی اسی دن ملتا جلتا ردعمل ظاہر کرکے خبردار کر دیا ہے کہ اراک ہیوی واٹر ری ایکٹر کے حوالے سے بھی ایران نظرثانی کرر ہا ہے۔ اب یہ ساٹھ روزہ مہلت کے ایام ہیں۔ اس وقت بال نہ صرف امریکا کی کورٹ میں ہے بلکہ نیوکلیئر ڈیل کے دیگر فریقوں کے کورٹ میں بھی ہے۔ اس وقت ایران نے یہ دباؤ جو اس پر ڈالا جا رہا تھا، اس کو مقابل فریق اور بظاہر ڈیل کو تسلیم کرنے والے دیگر فریقوں کی جانب پلٹا دیا ہے۔ اتنی اقتصادی مشکلات کے ہوتے ہوئے بھی ایران کی استقامت حیران کن ہے بلکہ دنیا کی دیگر مظلوم قوموں کے لئے ایک ماڈل ہے۔

ایران نے ایک جانب امریکا سے مذاکرات سے بھی انکار کر دیا ہے تو دوسری جانب مشرق وسطیٰ اور خاص طور پر جی سی سی کے عرب ممالک کے لئے عدم جارحیت کے معاہدے کی کھلی پیشکش بھی کی ہے۔ یعنی خطے کے یہ ممالک اور ایران ایک جامع معاہدہ کریں کہ یہ ایک دوسرے کے خلاف جارحیت نہیں کریں گے اور نہ ہی جارحیت کرنے والوں کا ساتھ دیں گے۔ ساتھ ہی ایران نے خطے کے ممالک پر مشتمل ایوان مکالمہ کی بھی تجویز دی ہے۔ ایران کی پالیسی برائے عرب و مسلمان ممالک یہ ہے۔ اب اس تناظر میں فیصلہ کر لیں کہ امریکی اسرائیلی بلاک ایران کے خلاف ان سارے اقدامات کے نتیجے میں کوئی ایک بھی ہدف حاصل نہیں کرسکے ہیں۔ با الفاظ دیگر ایران نے نپے تلے انداز میں بغیر کسی شور شرابے کے سنجیدہ جوابی کارروائی کرکے امریکا کو ہر راؤنڈ میں مکمل طور پر ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

خوبصورت خاموش انقلاب!

انصار عباسی پاکستان نیوی میں تعینات میرے جاننے والے ایک اہم افسر سے جب میں …