پیر , 16 دسمبر 2019

عرب اجلاس: سعودی عرب کے تمام بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتے ہیں، ایران

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک)ایران نے عرب اجلاس میں عائد کیے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب خطے کو تہران کے خلاف متحرک کرنے کی مایوس کن کوشش میں امریکا اور اسرائیل کے ساتھ ہوگیا ہے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ‘ وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے عرب ممالک کے سربراہان کی جانب سے عائد کیے گئے بے بنیاد الزامات کو مسترد کردیا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ ہم اس چیز کو امریکا اور اسرائیل کے مایوس کن طرز، عمل کی طرح ایران کے خلاف خطے کی رائے کو متحرک کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں’۔گزشتہ روز سعودی عرب کے شاہ سلمان عبدالعزیز نے ہنگامی عرب اجلاس میں خلیج میں تیل کے اثاثوں پر حملوں کے بعد خطے میں ایران کی ‘ مداخلت ‘ روکنے کی ضرورت ہے۔

شاہ سلمان نے مکہ میں آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس (او آئی سی )،خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) اور عرب لیگ کے اجلاس میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خاتمے سے متعلق بیان دیا تھا۔اجلاس کے بعد عرب کے خلیجی ممالک کے بیان اور ایک علیحدہ اعلامیے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی حمایت کی گئی۔

تاہم عراق جس کے پڑوسی ملک ایران اور امریکا سے اچھے تعلقات ہیں، اس نے عرب ممالک کے اس بیان پر اعتراض کیا جس کے مطابق تہران سے کسی بھی قسم کا تعاون دوسرےممالک میں مداخلت نہ کرنے پر مبنی ہو’۔

تہران سے رپورٹ کرتے ہوئے الجزیرہ کے نمائندے نے بتایا کہ ایران جانتا ہے کہ اجلاس میں جاری کرنے والے حتمی اعلامیہ ضروری نہیں ہے کہ خلیج تعاون کونسل کے تمام اراکین کی حقیقی رائے پر مبنی ہو’۔انہوں نے کہا کہ ‘ عباس موساوی نے اجلاس میں سعودی عرب کی جانب سے ایران پر پڑوسی ممالک کے معاملات میں مداخلت کے بیان کو مسترد کیا اور اس کی مذمت کی’۔نمائندے نے یہ بھی بتایا کہ ‘ سعودی عرب او آئی سی اجلاس کی سربراہی کا غلط استعمال کرتے ہوئے مسلمان سربراہان میں تفرقے کی پالیسی پھیلا رہا ہے’۔

یہ بھی دیکھیں

ایران میں اہل سنت کی سب سے بڑی مسجد

ایک رپورٹ کے مطابق ایران میں مجموعی طور پر ۷۵ ہزار سے زائد مساجد ہیں …