پیر , 9 دسمبر 2019

خبردار! موسم گرما عروج پر:بے احتیاطی موت کا سبب بن سکتی ہے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان میں موسم گرما اپنے عروج پر ہے اور بعض علاقوں میں پارہ 47 ڈگری سے بھی اوپر جارہا ہے ، ایسے موسم میں بے احتیاطی موت کا سبب بن سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کا درجہ حرارت 41 ڈگری پر پہنچ جائے تو موت واقع ہونے کے امکانات 90 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔ یہ درجہ حرارت موسمی درجہ حرارت نہیں بلکہ انسانی جسم کا درجہ حرارت ہے، جس کی تیزی سے بخار کا مرض لاحق ہوتا ہے۔یہی سبب ہے کہ شدید گرمی سے بزرگ، خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اس شدید موسم میں کچھ ایسی تدابیر ہیں جن کا جاننا اور ان پر عمل پیرا ہونا بے حد ضروری ہے

گرمی کا سدباب کرنے والی غذائیں
کدو ، ٹنڈے ، اروی ، گھیا توری ، شلجم ، پیٹھا ، مولی ، گاجر ، کھیرا ، دودھ ، دیسی گھی ، شربت بزوری ، بلنگو اور شربت بادام پھلوں میں تربوز ، کیلا خوبانی اور خربوزہ ، یہ ایسی غذائیں ہیں کہ ان کا استعمال موسم گرما میں جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے ۔

املی اور آلو بخارے کا لال شربت پیاس کی شدت کو انتہائی کم کر دیتا ہے اورساتھ ہی ساتھ سونف اور الائچی کا قہوہ گرمی کا بہترین توڑ ہے۔جس قدر ممکن ہو پانی کا استعمال زیادہ کریں اور اگر فریج کے بجائے مٹکے کا پانی استعمال کریں تو بہتر ہے کہ اس کی قدرتی فرحت پیاس کی شدت کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔

کون سی غذائیں نہ کھائی جائیں
گرمی کی آمد کے ساتھ ہی گوشت ، انڈہ ، اچار ، کولڈ ڈرنکس ، تیز مرچ مصالحے ، پالک ، میتھی وغیرہ کھانے سے اجتناب کریں اور اپنے کھانے میں نمک کا کم سے کم استعمال کریں۔

کپڑوں میں احتیاط
جب درجہ حرارت زیادہ ہو تو سفید ، گلابی ، سبز اور ہلکے رنگ کے کپڑوں کا استمعال کریں اورکالا ، نیلا ، لال ، میرون ، جامنی اور گہرے رنگ والے کپڑے پہننے سے پرہیز کریں۔

کوشش کریں کہ کالے رنگ کے اور مکمل بند جوتے کم سے کم پہنیں اور ان کی جگہ ہوا دار جوتوں کا استعمال کریں۔گھر سے نکتے وقت گیلا تولیہ ضرور ساتھ رکھیں۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو سر اور گردن کو کسی کپڑے سے ضرور ڈھانپیں اور دھوپ کی عینک کا استعمال بھی کریں، یاد رکھیں سورج کی تپش آنکھوں کے لیے شدید نقصان دہ ہے ۔

ضروری تدابیر
انتہائی گرمی کے اوقات یعنی صبح10 سے شام 4 بجے تک بلا ضروری سفر نا کریں اور جتنی بار ممکن ہو، دن میں غسل کریں کہ غسل انسانی جسم کے درجہ حرارت کو نارمل رکھنے کا تیر بہدف نسخہ ہے۔سنت نبوی ﷺ بھی ہے اور انسانی فریضہ بھی کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں جو کہ جو نہ صرف موجودہ گرمی کو کم کرتے ہیں بلکہ سردی میں پڑنے والی سموگ کا بھی توڑ ہیں ۔ ساتھ ہی ساتھ درخت بارش برسانے میں مدد دیتے ہیں اور ماحول میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرکے آب و ہوا کو صاف ستھرا کرتے ہیں۔

گھروں اور دوکانوں کے باہر راہ گیروں کے لیے ٹھنڈے پانی کا اہتمام کریں اور جب بھی اس موسم میں کوئی برف مانگنے آئے تو اسے منع نہ کریں۔انسانوں کے ساتھ جانوروں کا بھی خیال رکھیں اور اپنے گھر کی سایہ دار جگہوں پر پرندوں کے لئے لازمی پانی کا بندوبست کریں۔

یہ بھی دیکھیں

کیا ڈرون حملے کے وقت مقتدیٰ الصدر اپنے گھر میں موجود تھے؟

کیا حملے کے وقت مقتدیٰ الصدر اپنے گھر میں موجود تھے۔ ایک معتبر ذرائع کا …