اتوار , 15 ستمبر 2019

تحریک انصاف میں کوئی اختلاف نہیں، فواد چوہدری

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے پاکستان تحریک انصاف میں اختلافات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت میں نہ ہی کوئی اختلافات ہیں اور نہ ہی حکومت کہیں جارہی ہے۔ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ‘ہمارا اتفاق رائے ہے کہ پاکستان میں اگر جمہوری نظام نے کامیاب ہونا ہے تو عمران خان کی کامیابی ضروری ہے’۔وفاقی وزیر کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب گزشتہ روز انہوں نے حکومت میں منتخب اور غیر منتخب اراکین کے درمیان سرد جنگ کی نشاندہی کی تھی۔

سما ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میرا یقین ہے کہ ہماری حکومت کے سیاسی فیصلے کمزور ہیں، اہم فیصلے کیے جاتے ہیں لیکن ہمیں معلوم نہیں ہوتا، بہتری کی ضرورت ہے کہ کیسے فیصلہ لیا جائے‘۔

بعدازاں فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر کہا کہ میرے انٹرویو پر مبنی ’بعض سرخیاں‘ گمراہ کن تھیں۔آج انہوں نے کہا کہ ‘صرف نظر دوڑائیں ہمارے ساتھ آزاد ہونے والے مملک کہاں کھڑے ہیں احساس ہو گا اس عرصے میں کیا کھویا کیا پایا’۔ایک اور ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے سول ادارے مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں اور میرٹ کے اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر ان اداروں سے کھلواڑ کیا گیا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ایک دو سالوں میں ان اداروں میں بہتری کی کوئی توقع نہیں، وزیر اعظم کو ایک ریزہ ریزہ نظام ملا ہے اور وہ اس نظام کو کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں’۔

واضح رہے کہ اس سے قبل وزیر اعظم عمران خان نے تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق نے ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وزیر اعظم نے وزیر مملکت برائے ماحولیاتی تبدیلی زرتاج گل کی بہن کی قومی انسداد دہشت گردی ادارے (نیکٹا) میں تعیناتی کا نوٹس لے لیا ہے، تحریک انصاف کی حکومت میں کسی بھی (حکومتی رہنما) کو اپنے اخیتارات کے تحت رشتے داروں یا دوستوں کو ترقی نہیں دے سکتا‘۔

فواد چوہدری کے بیان کو منتخب و غیر منتخب رہنماؤں کے درمیان سرد جنگ کے بیان کو گزشتہ روز تقریباً تمام ٹی وی چینلز نے نشر کیا تھا جس کے بعد حکومتی ترجمان فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ’تمام فیصلے عمران خان کی قیادت میں پارٹی لیڈرز کے ساتھ کیے جاتے ہیں‘۔

واضح رہے کہ رواں سال اپریل کے مہینے میں وفاقی کابینہ میں اہم تبدیلیوں میں فواد چوہدری سے اطلاعات و نشریات کی اہم وزارت واپس لے کر انہیں نسبتاً کم اہم سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی وزارت سونپ دی گئی تھی۔کابینہ میں حالیہ تبادلوں سے متعلق انہوں نے اقرار کیا کہ جب وہ وزارت اطلاعات و نشریات کا قلمدان سنبھال رہے تھے تب انہیں غیر منتخب اراکین کی جانب سے مداخلت کا سامنا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

ن لیگ، پی پی اور پی ٹی آئی کا ایل او سی کی طرف مارچ نہ کرنے کا متفقہ فیصلہ

مظفر آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) (ن) لیگ، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی آزاد کشمیر نے ایل …