بدھ , 17 جولائی 2019

قرضوں پر سود کی ادائیگی ملکی آمدن کے 41 فیصد تک پہنچ گئی

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) ملک کے سرکاری قرضوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا اور جہاں اس کی وجہ سے قومی خزانے میں بھاری لاگت آرہی ہے وہیں اس کے باعث مالی خسارے میں اضافہ اور ترقیاتی منصوبوں کے زائد فنڈ لینے کی حکومتی صلاحیت بھی متاثر ہوئی ہے۔اقتصادی جائزہ سروے کے مطابق مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح میں سرکاری قرضوں کے حجم میں مزید اضافہ ہوا اور مارچ 2019 میں یہ جی ڈی پی کا 74.2 فیصد ریکارڈ کیا گیا جبکہ جون 2018 میں سرکاری قرضے جی ڈی پی کا 72.1 فیصد تھے۔اس طرح ان قرضوں پر اداکیے جانے والا سود گزشتہ 3 سالوں کے مقابلے مالی سال 19-2018 کے ابتدائی 9 ماہ میں بلند ترین سطح پر رہا۔

سروے رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے دوران سود کی ادائیگی ملک کی کل آمدن کا 41 فیصد رہی جو گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران 33 فیصد تھی۔حکومتی دستاویز کے مطابق رواں مالی سال کے دوران سخت مانیٹری پالیسی، مختصر مدت کے اندرونی قرضوں کے بڑے حصے کے ساتھ ساتھ آمدن میں مسلسل کمی کے باعث سود کی ادائیگیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

سروے میں بتایا گیا کہ آمدن کے مقابلے مجموعی سرکاری قرضوں کا حجم مالی سال 2018 میں 477 فیصد جبکہ مالی سال 2017 میں 434 فیصد رہا البتہ اس دستاویز میں رواں مالی سال کے ابتدائی 9 کے اعداد و شمار فراہم نہیں کیے گئے۔علاوہ ازیں رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ سالانہ 2 ہزار 396 ارب روپے کے بجٹ کے مقابلے سرکاری قرضوں کی مالیت ایک ہزار 975 ارب روپے ریکارڈ کی گئیدوسری جانب اندرونی قرضوں کے بھاری حجم کے باعث اندرونی سطح ہر کی جانے والی سود کی ادائیگیاں مجموعی قرضوں کا 65 فیصد رہیں۔

مقدار میں بات کی جائے تو حکومت نے رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران اندرونی قرضوں پر ایک ہزار 277 ارب روپے کا سود ادا کیا۔تاہم بلند سود کی ادائیگیاں بنیادی طور پر مارکیٹ ریلیٹڈ ٹریژری بلز (299 ارب روپے)، ٹریژری بلز (290 ارب روپے)، قومی بچت اسکیم (272 ارب روپے) اور پاکستان سرمایہ کاری بانڈ (268 ارب روپے) کے لیے دی گئی رقوم سے کی گئیں۔

یہ بھی دیکھیں

اسرائیلی جرائم کی پوچھ گچھ نہ ہونا تشویشناک ہے: یو این

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک)اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی غیر …