بدھ , 23 اکتوبر 2019

ایران علاقائی مسائل پر مذاکرات کے لئے ہمیشہ آمادہ ہے، ترجمان دفتر خارجہ

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران خلیج فارس کے تمام ملکوں کے ساتھ دو طرفہ اور علاقائی مسائل پر مذاکرات کے لئے ہمیشہ آمادہ رہا ہے۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے پیر کے روز ملکی و غیر ملکی نامہ نگاروں سے گفتگو میں ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کے فریق ملکوں کے مذاکرات میں خلیج فارس کے ملکوں کی شمولیت کی ضرورت کے بارے میں متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقائی سطح پر مذاکرات کے فورم کے قیام اور عدم جارحیت کے معاہدے پر دستخط کے بارے میں ایران کے وزیر خارجہ کی تجویز ایران کے ساتھ خلیج فارس کے ملکوں کے مذاکرات کے آغاز کا باعث بن سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران کی ہمیشہ آمادگی رہی ہے اور وہ آمادہ بھی ہے کہ دو طرفہ اور علاقائی مسائل پر خلیج فارس کے ہر ملک کے ساتھ مذاکرات کرے۔

ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے امریکی صدر ٹرمپ کے ایران مخالف بیان کے بارے میں کہا کہ ایٹمی معاہدے سے یکطرفہ طور پر علیحدگی کا اعلان کر کے ٹرمپ اب اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ ایران کے لئے ذمہ داری طے کریں یا کوئی بات زبان سے نکالیں، جبکہ انھوں نے بین الاقوامی ایٹمی معاہدے کو پیروں تلے روندنے کے علاوہ ایرانی عوام پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کے لئے مختلف طرح کی پابندیاں بھی عائد کیں نیز پابندیوں کو سخت تر کر دیا۔ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ، اپنے بیانات سے نفسیاتی جنگ اور عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ ان کی ایسی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو گی۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ایران نے ایٹمی مذاکرات سے مغربی ملکوں کے نفسیاتی دباؤ کو ختم کردیا اور اب جو بعض مغربی ممالک دوبارہ ایٹمی مذاکرات کی بات کر رہے ہیں وہ بات ایران کی نظر میں کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتی۔انھوں نے ایران یورپ تعلقات، معمول پر لائے جانے کے بارے میں بھی کہا کہ ایران توقع کرتا رہا ہے کہ مغرب اپنے وعدوں پر عمل کرے گا جبکہ انھوں نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا یا نہیں کرنا چاہا، اور یہ بات نہایت قابل افسوس رہی ہے۔سید عباس موسوی نے کہا کہ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ مہذب دنیا میں ایک ملک اپنا قانون بناتا ہے اور اسے دیگر ملکوں پر مسلط کرتا ہے اور وہ اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ دیگر ممالک، ایک دوسرے کے ساتھ آزادانہ طور پر تجارت کر سکیں۔انھوں نے جرمنی کے وزیر خارجہ کے دورہ تہران اور اس دورے کا تعلق مغربی ملکوں کے مالی لین دین کے سسٹم انسٹیکس سے ہونے کے بارے میں کہا کہ اس سسٹم سے اب تک ایران کی کوئی خواہش پوری نہیں ہوئی ہے-

ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے جاپانی وزیر اعظم کے دورہ تہران کے بارے میں بھی کہا کہ چالیس سال کے بعد جاپان کے کسی وزیر اعظم کا یہ دورہ اہم، تاریخی اور اپنی نوعیت کا مثالی دورہ ہے اور اسی بنا پر یہ دورہ عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

شام کے صدر کا ادلب کے اگلے محاذوں کا دورہ

ادلب: شام کے صدر بشار اسد نے ادلب کے محاذ کو اپنے ملک میں جاری …