منگل , 12 نومبر 2019

امریکہ ایران کشیدگی

(ڈاکٹر احمد سلیم)

گزشتہ ماہ 14 سے 19مئی کے درمیان تین ایسے واقعات ہوئے جنکے بعد امریکہ اور ایران میں کشیدگی ایک بار پھر انتہا کو پہنچ گئی ہے اور بظاہر لگتا ہے کہ کسی بھی وقت امریکہ ایران پر حملہ آور ہو سکتا ہے۔ پہلے متحدہ عرب امارات کے علاقے میں سعودی عرب کے دو آئل ٹینکرز پر نامعلوم سمت سے حملے کئے گئے ۔ اسکے بعد سعودی عرب کی ایک آئل پائپ لائن پر ڈرون حملہ کیا گیا اور اسکے ساتھ ساتھ عراقی فوج کیمطابق بغداد کے علاقے میں ایک راکٹ فائر کیا گیا جو کہ امریکی سفارت خانے کے قریب ایک متروک عمارت پر لگا ۔ باوجود اسکے کہ یہ حملے کس کی جانب سے کیے گئے ہیں اس بارے میں نہ تو یقین سے کچھ کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی ثبوت دیا گیاہے لیکن امریکہ اور سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے اور ساتھ ہی انہوں نے ان حملوں کی تحقیقات کا اعلان بھی کیا ہے یعنی تحقیقات کا اعلان کرنے سے قبل ہی تحقیقات کے مجوزہ نتائج کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے ۔ ان حملوں کے فوری بعد امریکی انتظامیہ نے ایک امریکی بحری بیڑہ جو کہ پیٹرائیٹ میزائیلوں سے لیس ہے کو خلیج میں بھیج دیا ہے اور یہ اعلان بھی کیا ہے کہ امریکہ آنیوالے دنوں میں ایک لاکھ بیس ہزار کے قریب امریکی فوجی خلیج کے علاقے میں بھیج سکتا ہے۔ ( ایسی کسی بھی تعیناتی کی صورت میں ظاہر ہے کہ ان فوجیوں کا خرچہ سعودی عرب کو اٹھانا پڑیگا) اس اعلان کے کچھ ہی دن کے اندر امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے مابین ایک دفاعی معاہدہ طے پا گیا ہے جسے ’’ ڈیفنس کوآپریشن اگریمنٹ‘‘ کا نام دیا گیا ہے جس کے مطابق دونوں ممالک دفاعی، سیاسی اور معاشی تعاون کریں گے تاکہ خلیج کے علاقے میں ’’امن اور استحکام‘‘ پیدا ہو۔ کیا یہ سب اعراق کی طرح من پسند ’’انٹیلی جنس‘‘ کی رپوٹوں کی بنیاد پر ایران پرحملہ کرنے کی تیاری ہے یا پھر کچھ اور؟ میرے خیال میں اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ امریکہ ایران پر حملہ کرے۔ ایک تو امریکہ میں الیکشن سر پر ہے اور ایسے وقت میں امریکی صدر چاہیں گے کہ وہ امریکی ووٹروں کو یہ تاثر دیں کہ وہ دنیا میں جنگوں میں امریکی فوجیوں کا عمل دخل کم کر رہے ہیں نہ کہ کوئی نئی جنگ شروع کریں۔ اگر امریکہ کی یہ بات مان لی جائے کہ شام سے لے کر سعودی عرب تک ایسے مسلح گروہ موجود ہیں جو ایران کے ساتھ ہیں تو ظاہر ہے کہ ایران پر حملے کے نتیجے میں ان تمام ممالک میں ایک گوریلا جنگ شروع ہو سکتی ہے جس کے دائرہ بہت وسیع ہو گا۔ اسکے علاوہ امریکہ کو چین کی CPECکیخلاف ایران کی چاہ بہار کی بندرگاہ کی ضرورت بھی ہے۔ شاید ایران کے ساتھ کشیدگی کا ایک مقصد یہ بھی ہوگا کہ اسکے نتیجے میں جب ایران اور امریکہ کی کوئی ڈیل ہو تو اس میں امریکہ اپنی شرائط کے ساتھ چاہ بہار کے منصوبے میں بھی شامل ہو۔

یہ سب باتیں اپنی جگہ لیکن ایران امریکہ کشیدگی میں میرے لیے اصل خبر یہ ہے کہ اس کشیدگی کے پیدا ہونے کے صرف دو دن بعد امریکہ کے صدر ٹرمپ نے ’’ ایمرجنسی صورتحال‘‘ کے تحت امریکی کانگریس کو بائی پاس کرتے ہوئے سعودی عرب کو آٹھ ارب ڈالر سے زائد کے ہتھیار فروخت کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔اسلحہ سازی اور اسکی فروخت دنیا کی سب سے بڑی اور منافع بخش صنعت ہے اور امریکہ کی معیشت کا تمام تر انحصار بھی امریکی اسلحہ کی فروخت پر ہے۔ جو لوگ ’’ مارکیٹنگ ‘‘ کا مضمون پڑھتے ہیں جانتے ہیں کہ کسی بھی چیز کو فروخت کرنے کیلئے سب سے پہلے اپنی ’’ پراڈکٹ‘‘ او ر اور اسکی ’’ پرائس‘‘ کا تعین کیا جاتا ہے۔ مغرب اور امریکہ کے پاس بیچنے کیلئے سب سے بہتر ’’ پراڈکٹ ‘‘ اسلحہ ہی ہے خاص طور پر جب انکا ارادہ اسے اپنی من پسند قیمت پر فروخت کرنے کا ہو ۔ اس سے اگلا اصول یہ ہے کہ پراڈکٹ کیلئے جگہ ( پلیس) کا تعین کیا جائے اور اگر جگہ موجود نہیں ہے تو میڈیا اور دیگر ذرائع استعمال کر کے اسکی فروخت کیلئے جگہ بنائی جائے۔ اسلحہ بیچنے کیلئے اس وقت سب سے آسان اور امیر خریدار امریکہ کو تیل کی دولت سے مالا مال عرب ممالک نظر آ رہے ہیں ۔ امریکی اسلحے کیلئے جگہ ( پلیس ) بنانے کیلئے ضروری ہے کہ عرب ممالک کو یہ باور کروایا جائے کہ ان کو کسی ملک سے شدید خطرہ ہے تاکہ اس خطرے نے نبٹے کیلئے وہ امیر ممالک امریکہ اسلحہ بھی خریدیں اور امریکی فوجیوں کا خرچہ بھی برداشت کریں۔آپکو شاید حیرت ہو لیکن امریکی اور مغربی اسلحہ کے سب سے بڑے خریدار عرب ممالک بن چکے ہیں۔ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے اعداد و شمار دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ امریکہ نے 2016 میں خلیجی ممالک کو 33 بلین ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا۔ امریکہ کی ’’ ڈیفنس سیکیورٹی کو آپریشن ایجنسی ‘‘ (DSCA)کے مطابق گزشتہ تین برس میںامریکہ نے اپنے اسلحے کی فروخت کے جو معاہدے کیے ہیں ان میں کویت کے ساتھ 3266 ملین ڈالر M1A2، ٹینک،JDAM ،AMRAAM ,اپاچی ہیلی کاپڑ سپورٹ، انفراسٹرکچر وغیرہ) ، سعودی عرب کے ساتھ 5697 ملین ڈالر (رڈار، ٹریننگ، PTDS، چنوک ہیلی کاپٹر،)، قطر کے ساتھ 700 ملین ڈالر (C-17 کے انجن، لاجسٹک اکوپمنٹ ) ، متحدہ عرب امارات کے ساتھ پانچ بلین ڈالر سے زائد (پیٹرائٹ میزائل، اپاچی ہیلی کاپٹر) اور عراق کے ساتھ 1319ملین ڈالر کے معاہدے شامل ہیں۔( در حقیقت تمام دنیا کو امن کا درس دینے والا امریکہ دینا کے قریب قریب ایک سو سے زائد ممالک کو اپنا اسلحہ فروخت کرتا ہے)۔ ’ مڈل ایسٹ ریسرچ اینڈ انفارمیشن پراجیکٹ‘‘ کی رپوٹ کیمطابق دنیا میں اپنی آبادی کے تناسب سے فی کس کے حساب سے اسلحہ کی خریداری پر سب سے زیادہ خرچ کرنیوالے ممالک میں پہلے سات میں سے چھ ممالک مسلمان عرب ممالک ہیں۔دوسری جانب دنیا میں اسلحہ فروخت کرنیوالے دس بڑی کمپنیوں میں سے سات امریکی ہیں ۔ یہ ممالک اتنا مہنگا اسلحہ خرید اور جمع کر رہے ہیں جو تمام دینا کو کئی بار ختم کرنے کیلئے کافی ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ ان چھوٹے چھوٹے ممالک نے اتنا اسلحہ استعمال کس کیخلاف کرنا ہے؟ جبکہ انکے مابین نہ تو کوئی بڑا سرحدی تنازعہ ہے ا ور نہ لڑائی کی کوئی حقیقی وجہ ۔ کامیاب امریکی مارکیٹنگ کی ایک مثال 2017 میں سعودی عر ب اور قطر میں ہونیوالی کشیدگی تھی جب امریکہ نے سعودی عرب کے ساتھ 350 بلین ڈالر کی اسلحہ کی فروخت کی ڈیل کرنے کے ایک ماہ کے اندر اندر قطر کے ساتھ بھی 12 بلین ڈالر کے F-15لڑاکا طیاروں کی فروخت کا معاہدہ کر لیا ۔

حقیقت تو صرف اتنی ہے کہ امریکہ کی مجبوری ہے کہ وہ اپنا اسلحہ کہیں نہ کہیں فروخت کرے ورنہ اسکی اسلحہ ساز فیکٹریاں بند ہونے کی وجہ سے ہزاروں امریکی بے روزگار ہو جائینگے۔ جب عرب ممالک سے اسلحے کے مزید سودے ہو جائینگے تو جلد ہی امریکہ ایران کے ساتھ اپنی خود ساختہ کشیدگی ختم کر کے امریکی عوام اور دنیا کو یہ خوشخبری دے گا کہ امریکی صدر کی دانشمندی سے امن کی فتح ہو گئی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

اسرائیل و عرب ممالک کے تعلقات ظاہر کرنے پر اصرار کیوں؟ (پہلا حصہ)

اسرائیلی میڈیا نے سعودی حکام کے ساتھ صیہونی حکام کی ملاقاتوں کی اضافے کی خبر …