اتوار , 21 جولائی 2019

سرحدوں سے بالاتر جنگ

جو کچھ یوم القدس کے دن لبنان کی مزاحمتی جماعت کے سربراہ نے کہا اس میں یوں تو کوئی نہیں بات نہیں تھی ماسوائے اس کے کہ انہوں نے خطے کی صورت حال کا انتہائی باریک اور درست تجزیہ کیا اور آنے والے حالات کے بارے میں واضح خطوط بیان کئے

لیکن اہم ترین بات یہ ہے کہ ان کا دشمن خاص کر اسرائیل واضح طور پر جانتاہے کہ وہ کبھی مبالغہ اور دروغ گوئی سے کام نہیں لیتا وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ نصر اللہ وہی کہتا ہے جو وہ کرسکتا ہے اور کرتا ہے ۔اسرائیلیوں کا اس حوالے سےایک طویل تجربہ بھی ہے اور اچھی طرح اس کی شخصیت کا مطالعہ بھی کرچکے ہیں۔

سید نصر اللہ نے کہا کہ ایران کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کے نتیجے میں جنگ ایرانی سرحدوں تک محدود نہیں رہےگی بلکہ پوراخطہ اس کی لپیٹ میں آئے گااور سب سے زیادہ قیمت خطےمیں اس جنگ کو ہوا دینے والے دو اہم کھلاڑی اسرائیل اور سعودیہ پر حاکم خاندان آل سعود کو دینی ہوگی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس جنگ کے نتیجے میں پورا خطہ تاراج ہوکر رہے گا ،انہو ں نے کہا کہ امریکہ کے تمام ادارے اور خود امریکی صدر ٹرمپ بھی اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ ایران پر حملے کے نتائج ایسے ہی بھیانک ہونگے کہ جس میں امریکی مفاد سے وابستہ ہر چیز تباہ ہوکر رہ جائے گی ۔

سید نصر اللہ نے مزید یہ بھی کہا آج مزاحمتی بلاک ماضی سے کئی گنا زیادہ بہتر پوزیشن رکھتا ہےاور کسی بھی بڑی جنگ کی صورت میں صرف غزہ میں موجود ہزاروں مزاحمت کار بہت سے مقبوضہ علاقوں پر بڑی آسانی کے ساتھ قبضہ کرسکتے ہیں اور وہ تل ابیب سے آگے تک کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔

واضح رہے کہ اس خطاب سے پہلے فلسطین کے مزاحمت کار کئی بار یہ اعلان کرچکے ہیں کہ مزاحمتی بلاک کے مرکز پر کسی بھی قسم کی جارحیت کی صورت میں وہ اپنا کردار ادا کرینگے اور فرنٹ کھولا جاسکتا ہے ۔

ایسی ہی صورتحال ہمیں عراق ،یمن شام اور خود لبنا ن میں دکھائی دیتی ہے تو دوسری جانب یقیناً ایسی کسی بھی صورتحال میں تشہیراتی اور سیاسی لحاظ سے بہت سے ممالک بھی میدان میں دکھائی دے سکتے ہیں ۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سید نصر اللہ کے خطاب کا اصل نشانہ صدی کی ڈیل نامی ڈیل ہے جسے ٹرمپ اور کچھ عرب ممالک اس وقت فلسطین اور اسرائیل کے درمیان کرانے کی کوشش میں ہیں کہ جس کا اصل مقصد خطے میں اسرائیل کو قانونی حیثیت اور بالادستی دلانا اور قابض فلسطینی علاقوں اور قبلہ اول پر اس کی مالکیت کو تسلیم کرنا ہے ۔

تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ باوجود اس کے کہ داعش پروجیکٹ کے ذریعے سے خطے میں مذہبی تقسیم کو گہراکرنے کی ایک وسیع کوشش کی گئی لیکن اس کے باجود آج بھی مسلم دنیا میں اکثر قومیں مزاحمتی بلاک کو سپورٹ کرتی ہیں اور قبلہ اول و فلسطین کا مسئلہ نمایاں پوزیشن رکھتا ہے کہ جہاں آکر تمام مسلکی اور علاقائی لسانی تقسیم کا خاتمہ ہوجاتا ہے ۔

سید نصر اللہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ لبنان کے خلاف کسی بھی قسم کی اسرائیلی معمولی سی بھی جارحیت کا جواب فوراً ،براہ راست اور پوری طاقت کے ساتھ دیا جائے گا ۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ تہران ،عراق،لبنان ،شام سے لیکر فلسطین اور یمن تک مزاحمتی بلاک کی جانب سے خطے کی موجودہ صورتحال اور صدی کی ڈیل نامی سازش کو لیکر جو کچھ کہا جارہا ہے وہ کسی نفسیاتی جنگ سے زیادہ سنجیدگی رکھتا ہے ۔

جو کچھ اس وقت مزاحمتی بلاک کے رہنما کہہ رہے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس پر عمل کرنا ان کے لئے کوئی بڑی بات نہیں رہی ہے، داعش پروجیکٹ کی مکمل طور پر ناکامی کے بعد خطے میں مزاحمتی قوت میں نہ صرف اضافہ ہوا ہے بلکہ نئی قوتوں اور جغرافیے کا اضافہ بھی دیکھا جاسکتا ہے ۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی قسم کی جارحیت کا مطلب ایک بڑی جنگ کا چھیڑا جانا ہے جیساکہ خود سید نصر اللہ نے اسی اصلاح کا استعمال کیا یعنی ایک بڑا معرکہ ۔

ایک ایسے بڑے معرکے اور جنگ کے اہداف و نتائج کیا ہوسکتے ہیں اس کا اندازہ لگانا بہت حد تک آسان ہے لیکن چند نکات کا بیان یہاں پر قارئین کے لئے فائد ہ مند ہوسکتا ہے ۔

الف:یہ بات واضح ہے کہ ایران بعنوان مزاحمتی بلاک کے مرکز پر حملے کا مطلب اس بلاک کے لئے وجود اور بقا کا مسئلہ ہوگا اور وہ اپنی پوری قوت سے ایک ایسی جارحیت کا ملٹی پل محاذوں میں دفاع اور اٹیک کرے گا ۔

ب:اس قسم کی مسلط کردہ جنگ میںلبنان اور فلسطینی مزاحمت کے اہداف میں بات صرف دفاع تک نہیں ہوگی بلکہ وہ ایسے حملے بھی کریںگے کہ جس میں فلسطین اور لبنان کے مقبوضہ علاقے آزاد ہوں۔

ج:دشمن پر کاری ضرب لگانا چاہیں گے ایک ایسی کاری ضرب کہ جس کا نتیجہ پورے خطے کی نئی تشکیل کی شکل میں نکلے گا

د:ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ ماضی میں لبنان پر ایسے حملے اسرائیل کی جانب سے ہوتے رہے ہیں کہ جس کے جواب میں چند راکٹوں کو داغنے کی حدتک اکتفا کیا جاتا رہا ہے لیکن جو کچھ سید نصر اللہ نے یوم القدس کے خطاب میں کہا وہ ایک بالکل نئی بات بھی ہے اور ایک نئی طاقت کے توازن کی عکاس بھی ہے کہ ایسی کسی بھی قسم کی جارحیت کے جواب میں بڑی جنگ چھڑسکتی ہے اور فوری اور طاقتور جواب دیا جائے گا ۔(Focus on West & South Asia – URDU)

یہ بھی دیکھیں

دور حاضر کے نئے صدام

سن اسیّ کا عشرہ اپنے اندر بہت سی تبدیلیاں لے کر آیا۔ بعض اتفاقات و …