بدھ , 26 جون 2019

سوڈان: ریاض سے لے کر ماسکو تک سب کی نظریں خرطوم پر کیوں ہیں؟

سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں سینکڑوں افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے اور نیم فوجی دستے سڑکوں پر گھوم رہے ہیں اور شہریوں کو بلا امتیاز مار پیٹ کا نشانہ بنا رہے ہیں۔حزب اختلاف سے منسلک ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ تین جون کو جب سے حکومت نے حکومت نواز مظاہرین پر کریک ڈاؤن کا حکم دیا ہے اس وقت سے اب تک سوڈان کی زوال پذیر خونی جھڑپ میں کم از کم 113 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

حکومت نے 46 ہلاکتوں کا اعتراف بھی کیا ہے۔ لیکن دارالحکومت خرطوم میں جو ہو رہا ہے اس پر ریاض سے لے کر قاہرہ اور انقرہ سے لے کر ماسکو تک دنیا کے دوسرے دارالحکومتوں کی بھی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔بی بی سی عربی کے نمائندے عمر الطیب بتاتے ہیں کہ کن ممالک کو سوڈان کے تنازع میں گہری دلچسپی ہے اور کس طرح وہ وہاں رونما ہونے والے واقعات کے خدوخال طے کر سکتے ہیں۔

سعودی عرب، متحدہ امارات اور مصرکا محور
جو عناصر مشرق وسطیٰ کے تنازعات کو شکل دے رہے ہیں وہی سوڈان میں بھی سرگرم عمل ہیں۔ خاص طور پر ایک جانب سعودی عرب اور اس کے خلیجی حلیف کے علاقائی جھگڑے ہیں تو دوسری جانب ترکی اور قطر کے درمیان مسائل ہیں۔سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات اور سوڈان کے پڑوسی ملک مصر کے ساتھ ساتھ خرطوم میں بھی فوجی حکمرانوں کو بہت حد تک تعاون فراہم کیا ہے۔

ان تینوں ممالک نے اس علاقے میں مقبول عام تحاریک خصوصاً اسلامی تنظیم اخوان المسلمین پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے کیونکہ وہ اسے اپنی حاکمانہ حکومتوں کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

ریاض اور ابوظہبی نے سوڈانی فوج کو انتہائی ضروری مالی امداد فراہم کی ہے۔ انھوں نے تین ارب امریکی ڈالر کا قرض دیا ہے تاکہ سوڈانی پاؤنڈ کو سہارا ملے اور بنیادی ضروریات کی چیزیں درآمد کی جا سکیں۔

کریک ڈاؤن سے قبل رواں ماہ کے آغاز میں سوڈان کے اعلیٰ فوجی جرنیلوں نے ریاض، ابوظہبی اور مصر کا دورہ کیا تاکہ وہ اپنے اقدامات کے لیے سفارتی تعاون حاصل کر سکیں۔اپریل میں ایک عرصے سے برسراقتدار حمکران عمر البشیر کے ہٹائے جانے کے بعد سے وہاں ان ممالک کے اثرورسوخ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ترکی اور قطر
ترکی اور قطر مخالف سمت میں کھڑے ہیں جو اسلامی ممالک پر مشتمل ایک دھڑے کی رہنمائی کررہے ہیں اور ان کے بھی سوڈان سے دیرینہ روابط ہیں۔قطر اپنے افریقی اتحادی کے ہاں زراعت اور خوراک کے شعبے میں سرمایہ کاری کر رہا ہے جبکہ رجب طیب اردوغان اور البشیر کے دور میں ترکی اور سوڈان کے درمیان قریبی تعلقات دیکھے گئے ہیں۔

مارچ سنہ 2018 میں قطر، ترکی اور سوڈان کے درمیان سوکین بندرگاہ کے فروغ کے لیے چار ارب امریکی ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔ بحر احمر پر موجود یہ بندرگاہ ایک زمانے میں سلطنت عثمانیہ کے قبضے میں تھی اور بہت ممکن ہے کہ اب وہاں ترکی بحریہ کی چھوٹی سے نفری تعینات رہے۔

اپنے 30 سالہ دور اقتدار میں سوڈانی حکمران البشیر دونوں دھڑوں سے قریب رہنے میں کامیاب رہے۔ مثال کے طور پر وہ اسلام پسندوں سے دوستی نبھاتے رہے اور اس کے ساتھ ساتھ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی جنگ میں فوجی مدد فراہم کرتے رہے۔

مارچ سنہ 2015 میں سعودی عرب کے دورے کے بعد سوڈانی حکمران البشیر نے سوڈان میں ایران کے تمام ثقافتی مراکز کو اچانک بند کر کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات توڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔

لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ فوجی حکمران خاص طور پر عبوری فوجی کونسل کے رہنما لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرہان اور کونسل میں دوسرے نمبر بڑے فوجی افسر اور ریپڈ سپورٹ فورس (آر ایس ایف) کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل محمد حماد دگالو سعودی عرب کے بہت قریب ہیں۔

افریقی یونین
ان دونوں علاقائی دھڑوں میں سے کوئی بھی سوڈان کے حزب اختلاف کے ساتھ نہیں ہے اور نہ ہی ان کو حقیقی جمہوری سوڈان میں کوئی دلچسپی ہے۔مظاہروں کی حالیہ لہر کو سول سوسائٹی کی بعض تنظیموں، ٹریڈ یونینز، اعتدال پسند اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں اور عرب جماعتوں جیسے مختلف گروہوں نے سہارا دے رکھا ہے جن کی جنوبی سوڈان کے باغیوں کے ساتھ ہمدردی ہے۔

انھیں مغربی ممالک اور افریقی یونین کی پشت پناہی حاصل ہے جنھوں نے سوڈان کو معطل کر رکھا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر اقتدار سویلین قیادت والی عبوری اتھارٹی کو منتقل نہیں کیا جاتا تو مزید کارروائی ہوگی۔

لیکن سوڈانی فوج افریقی یونین میں شامل اہم اتحادی ملک مصر جس کے پاس افریقی یونین کی صدارت بھی موجود ہے پر بھروسہ کر سکتی ہے۔ ایتھوپیا کے وزیر اعظم ابی احمد دونوں فریقین کے درمیان مصالحت کے لیے جمعے کو خرطوم پہنچے ہیں۔

لیکن حزب اختلاف نے مذاکرات کی پیشکش کو یہ کہتے ہوئے ٹھکرا دیا ہے کہ فوج نے پہلے کیے جانے والے معاہدے کو توڑا ہے اس لیے ان پر اب بھروسہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ڈیکلریشن آف فریڈم اور چینج فورس (ڈی ایف سی ایف) کے رہنما مدنی عباس مدنی نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ‘(فوجی) کونسل نے ہمیں مذاکرات کی دعوت دی ہے اور ساتھ ہی وہ سڑکوں پر شہریوں میں دہشت پھیلا رہے ہیں۔’

روس، چین اور امریکہ
امریکہ اور یورپی یونین جیسے اہم کھلاڑیوں کی غیر موجودگی سے علاقائی طاقتوں کو قوت ملی ہے۔سعودی عرب کے ذریعے امریکہ نے خرطوم پر قدرے دباؤ ڈالا ہے کہ پرامن مظاہرین کے خلاف جبر کو بند کرے لیکن سوڈان میں ٹرمپ انتظامیہ کی دلچسپی کم ہی ہے۔رواں برس ہی جنوری میں امریکہ نے سوڈان پر سے چند اقتصادی اور تجارتی پابندیاں ہٹائی ہیں جو سنہ 1990 میں دہشت گردی اور انسانی حقوق کی پامالی کے سلسلے میں دارفور پر لگائی گئی تھیں۔

جبکہ فوج بین الاقوامی دہشتگردی اور تارکین وطن کی بڑی تعداد کو یورپ جانے سے روکنے کے معاملے پر یورپی یونین سے تعاون کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔آخر کار صرف روس اور چین تمام تر چیزوں کے باوجود یہاں استحکام کے حق میں ہیں۔

ماسکو ایک عرصے سے سوڈان کو اپنے فوجی سازوسامان فروخت کر رہا ہے اور سنہ 2005 میں اقوام متحدہ کی جانب سے اسلحے کی فراہمی پر پابندی کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔سنہ 2017 میں سوڈان پہلا عرب ملک بنا تھا جس نے روس سے ایس یو-35 جنگی طیارہ حاصل کیا تھا۔

یہاں روس کے دیگر کمرشل مفادات بھی ہیں جن میں سونے اور تیل نکالنے والی روسی کمپنیوں کے بڑھتے مفادات شامل ہیں۔چین اور سوڈان کے تعلقات بھی دہائیوں سے جاری ہیں۔ چین نے سوڈان کی تیل کی صنعت کو فروغ دینے میں تعاون کیا ہے اور اب وہ مواصلات، سڑک اور تعمیرات کے شعبے میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔بشکریہ بی بی سی

یہ بھی دیکھیں

امریکا کی ساری دھمکیاں بے کار، منہ کی کھانے کے بعد سرجیکل اسٹرائیک کے دعوے کی حقیقت …

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی آئی آر جی سی نے ملک کے جنوبی صوبے ہرمزگان کے …