ہفتہ , 24 اگست 2019

افغان سلامت کوہسار باقی

(محمد اسلم خان)

افغانستان امریکہ کیلئے ڈرائونا خواب بن چکا ہے، بتدریج پسپائی اور ‘شکست فاتحانہ’کا اعتراف برملا ہو رہا ہے افغان سر زمین دھیرے دھیرے امریکی اور نیٹو افواج کے قدموں تلے سے کھسک رہی ہے، طالبان سے مذاکرات کا اونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھ رہا لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ لاشوں کی تعداد میں اضافہ ضرور ہوتاجارہا ہے۔ افغانستان کی سرزمین برس ہا برس سے خون پی رہی ہے، کوئی امریکی یا یورپی غیرملکی جان سے جاتا ہے تو مغرب اور امریکہ میں کہرام مچ جاتا ہے۔ مغربی پالیسی ساز اپنے ’’قیمتی لہو‘‘ کی مزید کتنی قیمت ادا کرسکتے ہیں؟طالبان اور امریکہ میں مذاکرات کی سست روی نے افغانستان میں امن ومفاہمت کیلئے امریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد کی بے چینی واضطراب کو دوچند کردیا ہے۔ انکی اب کچھ ویسی ہی کیفیت ہے جیسی افغانستان کی دلدل میں پھنس جانیوالی ماضی کی سرخ سوویت فوج اورانکے پالیسی سازوں کی تھی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی دھیان روس کی اس ’سْرخ فوج‘ کی طرف چلاجاتا ہے کہ جو اس دلدل میں بخوشی طاقت کے نشے میں مستاتو گئی لیکن پھر اس کی زخمی پنڈلیاں اس کے بدن کا لہو کب بہا کر کمزوری کا عبرت انگیزنمونہ بن گئیں، پتہ بھی نہ چلا۔ انہیں جب احساس ہوا تو بہت دیر ہوچکی تھی۔

مئی 2019 کے دوسرے ہفتے میں امریکہ اور طالبان میں مذاکرات کا تازہ ترین دور ہوا تھا۔ا کتوبر2018 سے اب تک چھ ادوار ہوچکے ہیں۔ رازاداری اور خفیہ انداز میں اعلیٰ ترین رہنماؤں کی ملاقاتیں اس سے سوا ہیں۔ اب تک کے ادوار میں چھٹا ہی ایسا تھا جس میں مذاکرات کا نتیجہ ایک ’مجوزہ معاہدے‘ کی صورت برآمد ہوا ہے۔ طالبان کا اولین مطالبہ غیرملکی افواج کا انخلا ہے، دوسری جانب امریکہ یہ ضمانت چاہتا ہے کہ اس کے جانے کے بعد یہ سرزمین بے سکون امریکہ یا اسکے اتحادیوں کو نقصان پہنچانے کیلئے استعمال نہیں ہوگی، القاعدہ اور داعش جیسے قاتل جتھوں کے حوالے نہیں ہوجائیگی۔

’ایس اے ٹی پی‘ کے اعدادوشمار سے واضح ہوتا ہے کہ 2018میں پانچ ہزار چارسو پچپن عسکریت پسند ہلاک ہوئے تھے ان میں سے سات سو سترہ واقعات میں طالبان ملوث تھے جبکہ دوہزار سینتیس زخمی ہوئے تھے 2018 (اکتیس مئی تک) کے اعدادوشمار کے مطابق دوہزار نو سو بیاسی جنگجو ہلاک اور چارسو بتیس زخمی ہوئے۔ان اعدادوشمار سے یہ بھی نتیجہ اخذ کیاگیا ہے کہ طالبان کی بڑی چھاپہ مارکارروائیاں کرنے اور حملے کی صلاحیت بھی خاصی بھرپور ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ طالبان کو میسرافرادی قوت کی فروانی بھی خاطرخواہ ہے اور پچاس ہزار جنگجووں کے تخمینہ سے کہیں زیادہ ہے۔

دوسری جانب خود امریکی فوج کے اپنے تخمینے کے مطابق طالبان دوہزار انیس میں مزید صوبوں میں عسکری حملے کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ ’ریزولوٹ سپورٹ‘ نے اضلاع میں استحکام کی کیفیت جانچنے کا جو اندازہ لگایا ہے اسکے مطابق اضلاع، آبادی اور علاقے پر افغان حکومت کا کنٹرول مزید کم ہوا ہے۔ افغان حکومت کا 219اضلاع تک کنٹرول محدود ہوا ہے جو گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میںسات فیصد کم ہے جبکہ طالبان کا اثر جن اضلاع میں بڑھا ہے ان کی تعداد پچاس تک بتائی جارہی ہے۔ جن اضلاع پر کنٹرول کیلئے کشمکش جاری ہے انکی تعداد 132سے138 تک ہے۔ اکتوبر2018 کے بعد سے تازہ ترین اعدادوشمار عوامی سطح پر جاری نہیں کئے گئے۔ افغان نیشنل ڈیفنس اینڈسکیورٹی فورسز (اے این ڈی ایس ایف) کی افغانستان میں اموات سے متعلق اعدادوشمار میں یہ خدشہ ظاہر کیاگیا ہے کہ اگر امریکہ اور طالبان میں مذاکرات کا تعطل یونہی برقرار رہا تو پھر اموات کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

بارہ اکتوبر دوہزار اٹھارہ کو پہلے، سولہ سے اٹھارہ نومبر دوہزار اٹھارہ کو دوسرے، سترہ سے انیس دسمبر دوہزار اٹھارہ کو تیسرے، اکیس سے چھبیس جنوری دوہزار انیس کو چوتھے، پچیس فوری سے بارہ مارچ دوہزار انیس کو پانچویں اوریکم، پانچ اور سات سے نو مئی دوہزار انیس تک چھٹے دور میں جو موقف سامنے آئے ہیں وہ اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ دونوں کے درمیان جو بنیادی مفادات ہیں وہ واضح ہیں۔ طالبان کا پہلے دور سے یہ موقف ہے کہ غیرملکی افواج افغانستان چھوڑیں تاکہ پرامن انداز سے افغان مسئلے کا حل نکل سکے۔ دوسری جانب امریکہ کا یہ کہنا تھا کہ امریکہ افغان عوام کے پرامن انداز میں افغان تنازعہ کے حل کی خواہش میں شامل ہے اور افغان عوام اس عمل میں شامل ہوں۔ طالبان نے دوسرے دور میں یہ واضح کردیاتھاکہ وہ امریکہ کی ہر سفارتی پیش قدمی کو بغور دیکھ رہے ہیں اور اس وقت تک اپنی جنگ جاری رکھیں گے جب تک امریکہ انکے مطالبات مان نہیں لیتا۔ طالبان نے واضح کہہ دیا تھا کہ مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس دور کے بارے میں امریکہ نے کہا تھا کہ سفارتی بات چیت میں دونوں اطراف تحمل کا مظاہرہ کررہی ہیں۔ تمام کے تمام چھ ادوار میں طالبان کی طرف سے ایک بات مسلسل اور تسلسل کے ساتھ کہی جارہی ہے اور اس میں کوئی ردوبدل یا لچک دیکھنے میں نہیں آرہی وہ غیرملکی افواج کا افغانستان سے انخلاء ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اصل دبائو وقت کا گزرنا ہے اور یہ دبائو امریکہ کے اوپر زیادہ ہوگا کیونکہ افرادی نقصان اور پھر مالی دبائو دونوں مل کر امریکہ کیلئے صورتحال کو مشکل بنارہے ہیں۔ اعصاب کی اس شدید لڑائی میں کس کے صبر کا پیمانہ جلد لبریز ہوتا ہے، یہ وقت کے ساتھ پتہ چلے گا لیکن اب تک طالبان مضبوط اعصاب کے ساتھ اپنے مخالفین کے سامنے موجود ہیں اور وہ اپنے بنیادی مطالبات سے دستبردار ہونے یا ان پر لچک دکھانے کو تیار نہیں۔ اب ستائیس جون کو افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے پاکستان آنا ہے۔ ان کی آمد کا ٹویٹ امریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد کی پاکستان میں ملاقاتوں کے بعد ہوا ہے۔ پانچ ہزار چارسو پچپن عسکریت پسند ہلاک ہوئے تھے ان میں سے سات سو سترہ واقعات میں طالبان ملوث تھے جبکہ دوہزار سینتیس زخمی ہوئے تھے۔ دوہزار انیس (اکتیس مئی تک) کے اعدادوشمار کے مطابق دوہزار نو سو بیاسی جنگجو ہلاک اور چارسو بتیس زخمی ہوئے۔ان اعدادوشمار سے یہ بھی نتیجہ اخذ کیاگیا ہے کہ طالبان کی بڑی چھاپہ مارکاروائیاں کرنے اور حملے کی صلاحیت بھی خاصی بھرپور ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ طالبان کو میسرافرادی قوت کی فروانی بھی خاطرخواہ ہے اور پچاس ہزار جنگجووئوں کے تخمینہ سے کہیں زیادہ ہے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ ایران کشیدگی کے خطے پر اثرات

(مرزا اشتیاق بیگ) برطانیہ کے زیر انتظام جبرالٹر، مسلمانوں میں ’’جبل الطارق‘‘ کے نام سے …