ہفتہ , 24 اگست 2019

امریکہ کی ایران مخالف جنگ میں امارات قربانی کا بکرا

(میلاد پورعسگری)

امریکہ کو یہ معلوم ہے کہ ایشیا میں امریکہ کا کوئی اڈہ ایران کے میزائلوں کی زد سے باہر نہیں ہے۔ اور نہ صرف امریکی اڈے بلکہ امریکہ اور برطانیہ کی ناجائز اولاد اسرائیل اور ان کے کٹھ پتلی سعودی عرب اور عرب امارات کا چپہ چپہ ایرانی میزائلوں کے نشانے پر ہے۔ ایسی صورت میں امریکہ اگر ایران کے خلاف میدان جنگ میں قدم رکھے گا تو شائد ایشیا میں یہ اس کی آخری جنگ ہو گی۔

اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد صہیونیت مخالف سیاست جو ایران میں اسرائیل کے خلاف معرض وجود میں آئی اس بات کا باعث بنی کہ صہیونی ریاست ہمیشہ اسلامی جمہوریہ ایران کی موجودیت کو اپنے مد مقابل قرار دے کر اس سے خطرہ محسوس کرے۔تل ابیب یونیورسٹی کے شعبہ مطالعات اسٹریٹجک کے ریٹائرڈ افسر “دانیل لشم” نے ۱۹ فروری ۱۹۹۳ میں ایران کے خطرے کو دور کرنے کے لیے یہ نظریہ پیش کیا کہ ’’ایران کے ساتھ بھی عراق جیسا سلوک کیا جائے‘‘۔

عراق پر امریکی حملے سے پہلے “دانیل لشم” کا نظریہ یہ تھا کہ عراق پر فضائی حملہ زیادہ موثر واقع نہیں ہو گا۔ صرف زمینی راستے سے اقوام متحدہ کی فورس جوہری پلانٹیشن کے بہانے عراق میں نفوذ حاصل کر سکتی ہیں اور عراق کی فوجی طاقت کو ناکارہ بنا سکتی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ہم فضائی حملوں کے ذریعے ایران کی صرف بعض جوہری تنصیبات اور فوجی چھاونیوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں اور چونکہ ہم دقیق طور پر ایران کے تمام فوجی ٹھکانوں سے مطلع نہیں ہیں بطور کلی ایران کو نابود کرنا ناممکن ہوگا جیسا کہ عراق میں بھی ہم نے اسی وجہ سے شکست کھائی۔

دانیل لشم پیشکش کرتے ہیں:
“ایران کے سلسلے میں ہمیں چاہیے کہ ہم ایران میں جنگ شروع کرنے کے لیے ویسے ہی موقع فراہم کریں جو عراق کے لیے کویت پر حملے کے حوالے سے فراہم کیا تھا۔ ہم پہلے خلیج فارس کے تین جزیروں جو ایران کے قبضے میں ہیں کو اپنے قبضے میں لائیں، ان جزائز پر قبضہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان میں موجود تمام خام تیل کے ذخائر جن کو ابھی استعمال میں نہیں لایا گیا ہے کو اپنے استعمال میں لائیں۔

ہمیں ایسا موقع فراہم کرنا چاہیے کہ خلیج فارس کے عرب ممالک خاص طور پر عرب امارات ان جزائر پر اپنی مالکیت کا دعویٰ کرے، اور پھر ایران اسی غلطی کو دھرائے جو صدام حسین نے کویت کے حوالے سے دھرائی تھی۔ یعنی عرب امارات پر حملہ کرے اس سے ہمیں ایران کی فوجی طاقت کا اندازہ ہو جائے گا”۔

مذکورہ مطالب سے چند مختلف نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ پہلا یہ کہ ایران اور عرب امارات کے درمیان موجود اختلاف جو کئی سالوں سے جاری ہے صہیونی ریاست کی سازشوں کا نتیجہ ہے۔ دوسرا یہ کہ صہیونی ریاست اور اس کا دائمی حامی امریکہ کئی سالوں سے لوگوں کی ذہنی فضا سازی کر رہا ہے تاکہ ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ کی صورت میں اپنے ملک کے لیے مناسب توجیہ پیش کر سکے۔

تیسرا نتیجہ یہ نکالا جا سکتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے اندر اتنی توانائی نہیں ہے کہ بغیر کسی مقدمے کے ایران کے خلاف جنگ میں کود پڑیں۔ اس لیے کہ انہیں اس اقدام کے لیے بین الاقوامی افکار اور مختلف ممالک کے سربراہوں کے ذہنوں کو اپنی طرف موڑنے کی ضرورت ہے۔ بہرحال امریکہ اور صہیونی ریاست کی دھمکیاں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو اسی زمانے سے مخصوص ہو۔ اس لیے کہ ایران کے ساتھ ان کی دشمنی طولانی مدت سے ہے۔

علاقے میں امریکہ اور اسرائیل کی مسلسل شکست کے پیش نظر، حالیہ دنوں ایران پر حملے کے لیے ان کی رجزخوانی صرف ایک بناوٹی نمائش تھی جو بین الاقوامی افکار کو بھانپنے کے لیے رچائی گئی۔ اس لیے کہ جنگ کی صورت میں امریکہ اور اس کے اتحادی یقینا علاقے میں اپنے کئے پر پشیمان ہوں گے۔

ایران کی وسعت زمین، اس کی آبادی اور امریکہ کے مقابلے کے لئے ایرانی عوام کے اندر پائے جانے والے جذبات، امریکی جنگ کو ناکام بنانے کے لیے کافی ہیں ایسی صورت میں امریکہ کی کوشش ہو گی کہ وہ صرف فضائی اور سمندری راستے سے حملے کرے۔ ایسی صورت میں یہ جنگ اتنی آسان اور یکطرفہ نہیں ہو گی۔ گزشتہ سال ایران نے اپنے ایئردفاعی یونٹس کی رونمائی کی، روس سے ایران نے (SA-20c) سسٹم اور (S-300 VM) دفاعی سسٹم خرید لئے ہیں۔ ایران کے میزائل چھے ہزار کلو میٹر تک مار کرنے کی توانائی رکھتے ہیں خلیج فارس کے عرب ممالک تو ایران کی مٹھی میں ہیں۔ایران کا راڈار سسٹم بھی بہت ترقی یافتہ ہے اور امریکی جنگی طیاروں اور میزائلوں کا اچھی طرح سے مقابلہ کر سکتا ہے۔

امریکہ کو یہ معلوم ہے کہ ایشیا میں امریکہ کا کوئی اڈہ ایران کے میزائلوں کی زد سے باہر نہیں ہے۔ اور نہ صرف امریکی اڈے بلکہ امریکہ اور برطانیہ کی ناجائز اولاد اسرائیل اور ان کے کٹھ پتلی سعودی عرب اور عرب امارات کا چپہ چپہ ایرانی میزائلوں کے نشانے پر ہے۔ ایسی صورت میں امریکہ اگر ایران کے خلاف میدان جنگ میں قدم رکھے گا تو شائد ایشیا میں یہ اس کی آخری جنگ ہو گی۔ آخر میں ہم یہی کہتے ہیں بلکہ ہمارے رہبر نے یہی فرمایا ہے کہ ‘جنگ نہیں ہو گی’ اور نہیں ہونا چاہیے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ ایران کشیدگی کے خطے پر اثرات

(مرزا اشتیاق بیگ) برطانیہ کے زیر انتظام جبرالٹر، مسلمانوں میں ’’جبل الطارق‘‘ کے نام سے …