ہفتہ , 24 اگست 2019

مسٹر زرداری، بے جرم بے قصور

(تحریر: نذر حافی)

والدین مجبور ہیں، سکول کے ساتھ والے پلاٹ میں سرکس لگا ہوا ہے، سرکس بچوں کی تفریح کے لئے لگایا گیا ہے، کچھ بچے کلاسوں سے کھسک کر سارا دن وہیں بیٹھے رہتے ہیں، باقی بچے سارا دن سکول سے بھاگ کر سرکس دیکھنے کے خواب دیکھتے رہتے ہیں، سرکس مفت بھی تو نہیں، اس کی بھی روزانہ ٹکٹ لینی پڑتی ہے، دوسری طرف چوکیدار سے شکایت کی جائے تو وہ کہتا ہے کہ جنگ اور محبت میں سب جائز ہے، چونکہ بچوں کو سرکس سے محبت ہے، لہذا میں قانون سے ماوریٰ ان کے ساتھ برتاو ٔ کرتا ہوں۔ قانون سے ماوریٰ برتاو کی وجہ سے بچوں کی تعلیمی حالت بھی بہت خراب ہے، والدین سکول کے پرنسپل کو درخواستیں دیتے ہیں تو کچھ سالوں میں سٹاف تبدیل تو کر دیا جاتا ہے، لیکن پھر صورتحال وہی رہتی ہے۔ پہلے کی طرح سرکس بھی چلتا ہے، ٹیویشنیں بھی پڑھانی پڑھتی ہیں اور بچے بھی نالائق رہتے ہیں۔ سیانے ایسے موقعوں پر کہتے ہیں کہ یہ سرکس کے لئے پلاٹ ہی ٹیویشن پڑھانے والوں نے خرید کر دیا ہوا ہے اور سرکس بھی ٹیویشن والوں کا ہی ہے، یعنی والدین کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے، ایک طرف سرکس سے اور دوسری طرف ٹیویشن سے۔

باقی سکول کا پرنسپل اور چوکیدار سب اس گورکھ دھندے میں شریک ہیں، اب جہاں تک والدین کے احتجاج سے اسٹاف کی تبدیلی کی بات ہے تو وہ تو سب جانتے ہیں کہ ہر چند سالوں بعد اسٹاف نیا ہی اچھا لگتا ہے۔ چنانچہ اسٹاف تبدیل کرکے والدین کو بھی خوش کیا جاتا ہے کہ لو جی ہم تو آپ کے کہنے پر اپنا اسٹاف بھی تبدیل کر دیتے ہیں۔ آج ہمارا نیا بجٹ پیش ہونا ہے اور دوسری طرف سرکس میں تماشا زوروں پر ہے، نئے بجٹ میں ساڑھے سات سو ارب روپے سے زائد کے ٹیکس لگائے جانے کا امکان ہے، لیکن سرکس کے شوقین بچے آصف زرداری کی گرفتاری کے کھیل میں مشغول ہیں، انہیں اندازہ ہی نہیں کہ ایکسپورٹ انڈسٹری پر ڈیوٹی کی صفر شرح ختم کرکے 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی خبریں گردش کر رہی ہیں، جس کے بعد ایکسپورٹرز کی کھال اتاری جائے گی۔ ایکسپورٹرز اپنی جیب سے تو کچھ نہیں دے گا، وہ بھی مدمقابل کی جیب سے زبردستی نکالنے کی کوشش کرے گا، جس سے جہاں تجارتی خسارہ مزید بڑھے گا، وہیں بے روزگاری، غربت اور افلاس میں بھی اضافہ ہوگا۔

موجودہ حکومت تھوڑے سے عرصے میں ہی چوپٹ ہو کر رہ گئی ہے، اس وقت کاروباری طبقے کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور اندرونی و بیرونی قرضوں کے بڑھنے کا سارا بوجھ عوام پر لاد دیا گیا ہے۔ مصدقہ ذرائع سے یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ سیمنٹ اور اسٹیل پر ایکسائز ڈیوٹی اور ٹیکس میں مزید اضافہ کیا جائے گا، بلاشبہ یہ اضافہ تعمیراتی ٹیکنالوجی اور صنعت پر شدید منفی اثرات مرتب کرے گا، باقی بجٹ پیش ہونے کے بعد تفصیلاً سب کو معلوم ہو جائے گا کہ اس کے بعد بندہ مزدور پر کیا گزرے گی۔ آج ملکی تقدیر پر مہر ثبت کی جانی ہے اور عوام نیب و آصف علی زرداری کے معاملات میں مصروف ہیں، سرکس میں طرح طرح کی جملے بازی ہو رہی ہے، مثلاً پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے عدالتی فیصلے کے بعد ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پتہ نہیں نیب کو آصف علی زرداری کی گرفتاری کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری باقاعدگی سے نیب میں پیش ہوتے رہے اور وہ نیب کے سوالات کا جواب بھی دیتے رہے۔

یہ تو تھے شہباز شریف اور جیالوں و متوالوں کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاری عمران حکومت کو گرانے کا باعث بنے گی۔ ایسے میں موجودہ حکومت کے حامی بھی کسی سے پیچھے نہیں، ان کا سارا زور اسی پر ہے کہ ہم نے ہر حال میں مخالفین کو دندان شکن جواب دینا ہے، ہر طرف سے سرکس کے تماشے میں رنگ بھرا جا رہا ہے، اب عوام اپنے حالات سے بے خبر کھڑے ہو کر خانوں، نیازیوں، زرداریوں، شریفوں۔۔۔ کی پھبتیوں پر تالیاں بجا رہے ہیں۔ یہ تالیاں بجانے والے تماشائی کوئی کم لوگ نہیں ہیں بلکہ یہ اکیس کروڑ کی تعداد میں ہیں۔ اس تعداد میں ہم بھی شامل ہیں، ہمارا بھی یہی کہنا ہے کہ مسٹر آصف زرداری سمیت ہر کرپٹ آدمی کو چھوڑ دیا جائے، چونکہ کرپشن پیسے کی محبت میں ہی کی جاتی ہے اور جنگ و محبت میں تو سب جائز ہوتا ہے۔ جب سب جائز ہے تو پھر ہمارے زرداری و نواز شریف کا کیا قصور ہے؟ ہمارے ہاں جنگ اور محبت میں سب جائز ہونے کے فارمولے کی نفی کرنا ہی تو غداری ہے، تو پھر اس فارمولے کے مطابق ماورائے قانون جتنی کرپشن ہے وہ سب جائز ہے۔

نوٹ:۔ اس کالم کا عوامی بدبختی اور مسنگ پرسنز سے کوئی تعلق نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ ایران کشیدگی کے خطے پر اثرات

(مرزا اشتیاق بیگ) برطانیہ کے زیر انتظام جبرالٹر، مسلمانوں میں ’’جبل الطارق‘‘ کے نام سے …