ہفتہ , 24 اگست 2019

سپریم کورٹ کو ڈیم فنڈ کی مد میں روزانہ ایک کروڑ روپے کا نقصان

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کے لیے اکٹھا ہونے والے 10 ارب 60 کروڑ روپے کے فنڈز کی بروقت سرمایہ کاری نہ ہونے کے سبب سپریم کورٹ کو سود کی مد میں تقریباً ایک کروڑ روپے روزانہ کا نقصان ہورہا ہے۔سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کی سربراہی کرتے ہوئے جسٹس عظمت سعید نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’اس کی تمام تر ذمہ داری اسٹیٹ بینک پاکستان (ایس بی پی) پر عائد ہوتی ہے‘۔

سپریم کورٹ کے عملدرآمد بینچ نے دیامر بھاشا اور مہند ڈیم کے معاملے پر اس بات کا عندیہ دیا کہ عدالت اس کی مستقل سرمایہ کاری کا تعین ہونے تک مذکورہ فنڈز کی 2، 3 یا 7 دن کی مختصر مدت کے لیے سرمایہ کاری کرسکتی ہے۔

اس ضمن میں جسٹس اعجاز الاحسن نے بھی مرکزی بینک پر تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’اندازہ لگائیں کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے عدالت کو درست مشورہ نہ ملنے کے باعث گزشتہ 3 ماہ میں ہمیں کس قدر نقصان ہوا ہے‘۔مذکورہ نقصان کے حوالے سے سیکریٹری قانون انصاف کمیشن پاکستان ڈاکٹر رحیم اعوان نے عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا، انہوں نے بتایا کہ ٹریژری بلز کے ساڑھے 3 ارب روپے کی سرمایہ کاری نہ ہونے کی سبب کمیشن کو سود کی مد میں روزانہ 35 کروڑ روپے کا نقصان ہورہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کمیشن برائے قانون و انصاف کی طرح سپریم کو بھی ڈیم فنڈ میں سود کی مد میں روزانہ تقریباً ایک کروڑ روپے کا نقصان ہورہا ہے۔اس سلسلے میں اسٹیٹ بینک کے نمائندے محمد علی ملک عدالت کے سامنے اعتراف کیا کہ سپریم کورٹ کی اپیل پر اکٹھے ہونے والے فنڈز اسٹیٹ بینک کے پاس ہیں جو کبھی بھی فنڈز جمع کروانے پر سود نہیں دیتا۔

جس ہر جسٹس عظمت سعید نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہی وجہ ہے کہ اسٹیٹ بینک عدالت کا وقت برباد کررہا ہے کیوں کہ اس طرح کے فنڈز جمع ہونے پر سود نہیں دیا جاتا‘۔جس کے بعد سپریم کورٹ نے نیشنل بینک پاکستان (این بی پی) کو 13 جون کا نوٹس بھجوادیا جس میں ذمہ دار افسر کو تعینات کرنے کی ہدایت کی گئی جو سرمایہ کاری کے بہتر طریقوں کے بارے میں عدالت کو بتا سکے۔

اس پر نمائندہ اسٹیٹ بینک نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ ٹریژر بلز میں سرمایہ کاری کی آئندہ نیلامی 19 جون کو ہوگی جس کے بعد عدالت کی منظوری سے ڈیم فنڈ سے ٹریژری بلز میں سرمایہ کاری کرسکتا ہے۔انہوں نے وضاحت دی کہ 3 ماہ کے لیے شرح سود 12.7 فیصد، 6 ماہ کے لیے 12.8 اور ایک سال کے لیے 13 فیصد ہوگی۔

جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ مرکزی بینک عدالت کا مددگار نہیں لہٰذا عدالت کو کسی اور سے سرمایہ کاری کی تجاویز لینی چاہیں، ان کا کہنا تھا کہ ایک چھوٹے سے شہر کا بینک مینجر مرکزی بینک سے بہتر سرمایہ کاری کے طریقے بتا سکتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سوئیڈش ہم منصب سے رابطہ:کشمیر کی صورت حال پر بات چیت

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سوئیڈش ہم منصب سے رابطہ کیا …