اتوار , 18 اگست 2019

سعودیہ کو اسلحے کی فروخت، کانگریس اور وائٹ ہاؤس مدمقابل

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت کے حوالے سے امریکی کانگریس اور دفاعی حکام کے درمیان ہونے والا اجلاس صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف تنقید کا میدان بن گیا۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایوان نمائندگا کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے ارکان نے سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت جاری رکھنے سے متعلق حکومت کے دلائل کو مسترد اور اس حوالے سے سرکاری عہدیداروں کے دعوں کو من گھڑت قرار دے دیا۔

حکومت امریکہ نے اس بہانے سے کہ ایران کا خطرہ خطے میں ہنگامی صورتحال کا باعث بنا ہے، طے شدہ سرکاری طریقہ کار سے ہٹ کر اور کانگریس کی اجازت بغیر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو آٹھ ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کے معاہدوں کو حتمی شکل دے دی ہے۔امریکی صدر کے قریبی اتحادی سمجھے جانے والے سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا ہے کہ صدر امریکہ کے ہنگامی اختیارات اور طاقت کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے ڈیموکریٹ رکن سینیٹر باب منذر نے بھی کہا ہے کہ وائٹ ہاوس کو اختیار کے ناجائز استعمال سے روکنے کے لیے مستقل راہ حل تلاش کرنا ہوگا۔سینیٹروں کا یہ گروپ آئندہ چند روز میں سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت سے متعلق بائیس معاہدوں کے بارے میں ایوان میں رائے شماری کرانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اگرچہ چار ریپبلکن سینیٹروں کے شامل ہونے کے بعد ایوان میں رائے شماری کے لیے ضروری سیتنالیس ارکان کا نصاب پورا ہو جائے گا لیکن پھر بھی امریکی صدر کے ویٹو پاور کو روکنے لیے ڈیموکریٹ کو مزید ارکان کی حمایت کی ضرورت ہوگی۔سینیٹ کے ڈیموکریٹ اور بہت سے ریپبلکن ارکان سعودی عرب کو اسلحہ کی فروخت کے بائیس معاہدوں کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ایوان نمائندگان میں بھی صورتحال تقریباً اس سے ملتی جلتی ہے۔

دوسری جانب امریکی وزارت جنگ پینٹاگون کے عبوری وزیر پیٹرک شناہن نے اپنے ایک بیان میں دعوی کیا ہے کہ اگر واشنگٹن سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو اسلحہ فروخت نہ کرے تو چین اور روس اپنا اسلحہ ان ممالک کو فروخت کریں گے۔امریکہ سعودی عرب کو آٹھ ارب ڈالر سے زیادہ کے ہتھیار فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جن میں ایک لاکھ بیس ہزار گائڈڈ بم، اینٹی ٹینک راکٹ اور جدید ترین جنگی بندوقیں شامل ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب کو یمن کے خلاف چار سال سے جاری وحشیانہ جنگ کے لیے بڑی مقدار میں ہتھیاروں اور گولہ بارود کی ضرورت ہے جو اسے اب امریکہ اور مغربی ممالک فراہم کرتے چلے آرہے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں عید کے بڑے اجتماعات پر پابندی

سری نگر(مانیٹرنگ ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں آج عید کے روز بھی کرفیو نافذ ہے جس …