ہفتہ , 24 اگست 2019

ججز کیخلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت: وکلا کا عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اعلیٰ عدلیہ کے دو ججوں کے خلاف صدارتی ریفرنس کی پہلی سماعت آج سپریم جوڈیشل کونسل میں ہوگی جب کہ سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں وکلا کا عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا جب کہ پنجاب میں جزوی ہڑتال کی جارہی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل میں دوپہر 2 بجے صدارتی ریفرنسز کی سماعت ہونا ہے۔

اس موقع پر سپریم کورٹ میں مختلف بارز کی جانب سے احتجاجی بینرز لگا دیے گئے جس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ بار نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے معاملے پر ہڑتال کی کال دے رکھی ہے جب کہ ریفرنسز کے معاملے پر وکلا دو گروپوں میں تقسیم ہوگئے۔

بلوچستان بار کے چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی راحب بلیدی کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کے معاملے پر صوبے بھر میں آج وکلاء کی جانب سے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے اور وہ عدالتوں میں پیش نہیں ہورہے۔

کراچی سٹی کورٹ کے وکلا کے ایک دھڑے کی جانب سے عدالتوں کی تالا بندی کی گئی جس پر دوسرے دھڑے نے تالے توڑ دیے۔اسی طرح لاہور ہائیکورٹ میں آج معمول کے مطابق کام جاری ہے اور وکلا مختلف عدالتوں میں پیش بھی ہوئے، لاہور ہائیکورٹ بار، لاہور بار اور پنجاب کونسل نے گزشتہ روز ہڑتال سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔

یاد رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وزیراعظم عمران خان کی ایڈوائز پر سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائیکورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا تھا۔ ریفرنس میں جسٹس قاضی فائز عیسٰ پر اُن کی بیرون ملک جائیدادوں کو اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو اس حوالے سے خط بھی لکھا ہے جس میں کہا کہ یہ جائیدادیں ان کی اہلیہ اور صاحبزادے کے نام ہیں اور وہ خود مختار ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سوئیڈش ہم منصب سے رابطہ:کشمیر کی صورت حال پر بات چیت

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سوئیڈش ہم منصب سے رابطہ کیا …