پیر , 17 جون 2019

بحیرہ عمان میں حادثہ ایک مشکوک واقعہ ہے،جواد ظریف

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)ایران کے وزیر خارجہ نے بحیرہ عمان میں دو آئل ٹینکروں کو پیش آنے والے حادثے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے مشکوک واقعہ قرار دیا اور علاقائی مذاکرات کے بارے میں ایران کی تجویز پر تاکید کی۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے جاپان کے وزیر اعظم شینزو آبے کے دورہ ایران کے موقع پر بحیرہ عمان میں جاپان سے متعلق آئل ٹینکروں کو پیش آنے والے حادثے کو مشکوک کارروائی قرار دیا اور ان حادثے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے ٹوئٹ کیا کہ ایران بحیرہ عمان میں پیش آنے والے اس حادثے کو علاقے میں کشیدگی و تناؤ کم کرنے کے لئے کی جانے والی کوششوں کے منافی سمجھتا ہے۔سید عباس موسوی نے کہا کہ ایران علاقے میں مذاکرات و تعاون کا خیرمقدم کرتا ہے۔ذرائع ابلاغ نے جمعرات کی صبح بحیرہ عمان میں دو تیل بردار بحری جہازوں کے حادثے کا شکار ہونے کی خبریں دیں۔ ان دونوں آئل ٹینکروں کو پہلے حادثہ پیش آیا اور پھر دھماکے سے آگ لگ گئی۔
ایران کی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ بحیرہ عمان میں پیش آنے والے اس حادثے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

جنوبی ایران کے صوبے ہرمزگان کے ریسکیو مرکز نے ریسکیو آپریشن کے لیےاپنے میرین فوجیوں بحیرہ عمان کو روانہ کیا اور ہوائی گشت لگاتے ہوئے صورت حال اور پوزیشن کا اندازہ لگانے کے بعد امدادی کارروائی شروع کر دی۔ رپورٹ کے مطابق ایران کے ساحل سے پائے جانے والے فاصلے کے پیش نظر جائے حادثے کے قریب ایک غیر ملکی بوٹ بھی دیکھی گئی۔چنانچے ایرانی میرین جوانوں نے ریسیکیو آپریشن کرتے ہوئے تیل بردار بحری جہاز میں سوار لوگوں کو فوری طور پر بچانے کی کوشش شروع کر دی۔ان افراد کی شناخت کی جا رہی ہے اور حادثے کی وجہ کا پتہ لگارن کے لئے تحقیقاتی عمل شروع ہو گیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

محمود عباس اور اسرائیلی انٹیلی جنس چیف کے درمیان خفیہ ملاقات کا انکشاف

یروشلم (مانیٹرنگ ڈیسک)اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے …