ہفتہ , 24 اگست 2019

عمران خان کو این آر او کون دے گا؟

(سید مجاہد علی)

بھارتی حکومت نے پاکستان کی طرف سے وزیراعظم نریندر مودی کی پرواز کے لئے ائیر سپیس کھولنے کی اجازت ملنے کے بعد اس سہولت سے استفادہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب نریندر مودی وسطی ایشیا کے ملک کرغستان کے دارلحکومت پہنچنے کے لئے اومان اور ایران پر سے پرواز کرتے ہوئے جمعرات کو بشکک پہنچیں گے۔ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی طرح بھارتی وزیر اعظم بھی شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے بشکک جارہے ہیں۔

اس سے پہلے بھارتی وزارت خارجہ اس امکان کو مسترد کرچکی ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے دوران دونوں ہمسایہ ملکوں کے وزرائے اعظم کی ملاقات ہو سکتی ہے۔ بھارتی حکومت یہ رویہ پاکستان اور اس کے وزیر اعظم کی طرف سے بار بار خیر سگالی کے اظہار کے باوجود اختیار کررہی ہے۔ عمران خان نے اپریل میں بھارت کے عام انتخابات سے پہلے یہ امید ظاہر کی تھی کہ نریندر مودی کی انتہا پسند بھارتیہ جنتا پارٹی انتخابات میں کامیاب ہو جائے تو دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات آسانی سے حل ہوسکیں گے۔ ان کے خیال میں کانگرس کی حکومت ہندو انتہا پسندانہ ماحول میں پاکستان کے ساتھ پیشرفت کرنے کے قابل نہیں ہوگی۔ پاکستانی وزیر اعظم کی خواہش یا پیش گوئی کے عین مطابق بی جے پی کو توقع سے بھی زیادہ کامیابی حاصل ہوئی اور نریندر مودی دوسری مرتبہ بھارت کے وزیر اعظم بن چکے ہیں۔

تاہم عمران خان کی توقع اور خواہش کے برعکس نریندر مودی نے اپنے عہدے کا دوبارہ حلف اٹھانے کے بعد پاکستان کی خیرسگالی اور وزیر اعظم کی نیک خواہشات کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا ہے۔ نریندر مودی نے اپنی تقریب حلف برداری میں عمران خان کو مدعو نہیں کیا تو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس کی بھی یوں وضاحت دی جیسے وہ نریندر مودی کے ذاتی ترجمان ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم پاکستان مخالف فضا پیدا کرکے انتخاب جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اس لئے وہ فوری طور سے پاکستان سے رجوع کرنے سے گریز کریں گے۔ اسی لئے وزیر اعظم کو تقریب حلف برداری میں مدعو نہیں کیا گیا۔ تاہم صورت حال کو خوشگوار بنانے کے لئے شاہ محمود قریشی نے بھارت کا وزیر خارجہ بننے پر ایس جے شنکر کو تہنیتی خط کے ذریعے باہمی خوشگوار تعلقات کا پیغام بھیجا۔

وزیر اعظم عمران خان نے نریندر مودی کو ٹوئٹ پیغام کے ذریعے اور فون پر مبارک باد دینے کے بعد مزید گرمجوشی دکھانے کے لئے تحریری مراسلہ میں بھارتی وزیر اعظم کو دوبارہ عہدہ سنبھالنے پر مبارک باد بھی دی اور ہر قسم کے باہمی تنازعات ختم کرنے کے لئے مذاکرات اور علاقے میں امن و خوشحالی کے وسیع تر مقاصد کے لئے مل کر کام کرنے کی دعوت بھی دی۔ ان دونوں مراسلوں کا نئی دہلی کی طرف سے کوئی جواب دینا یا ان پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں سمجھا گیا۔

فروری میں پلوامہ سانحہ اور اس کے بعد بھارت کی فضائی جارحیت سے پیدا ہونے والے سنگین ماحول میں پاکستان نے اپنی فضائی حدود کو تمام بھارتی پروازوں کے لئے بند کردیا تھا۔ اس کے باوجود جب گزشتہ ماہ شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں جانے کے لئے وزیر خارجہ سشما سوراج کے طیارے کو پاکستان پر سے پرواز کرنے کی درخواست کی گئی تو اسلام آباد نے اسے خوش دلی سے قبول کرلیا۔

اب نئی دہلی سے نریندر مودی کے طیارے کے لئے اجازت طلب کی گئی تو ضابطے کی کارروائی کے بعد آج اس کی اجازت دے دی گئی لیکن اس کے فوری بعد نئی دہلی نے وزیر اعظم کے طیارے کے لئے متبادل طویل روٹ اختیار کرنے کا اعلان کیا۔ بھارت کے اس رویہ کو ’سفارتی جھڑکی‘ کے علاوہ کوئی نام نہیں دیا جا سکتا۔ نئی دہلی اگر نریندر مودی کی طویل پرواز کا ہی منصوبہ بنا رہا تھا تو اسے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت طلب کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

بھارتی درخواست اور پاکستان کے مثبت جواب کے بعد نئی دہلی کی وزارت خارجہ کی طرف سے نریندر مودی کے متبادل روٹ کا اعلان کرنا بجائے خود ایک سفارتی چال کے مترادف ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس شروع ہونے سے فوری پہلے اس قسم کا فیصلہ اور اس کا اعلان دراصل پاکستان کی سبکی کرنے کی شرمناک کوشش ہے۔ حالانکہ نریندر مودی اگر کسی بھی وجہ سے متبادل فضائی روٹ اختیار کررہے تھے تو متعلقہ حکام کے علاوہ کسی کو اس کے بارے میں اطلاع دینے کی کوئی اہمیت نہیں ہو سکتی۔ لیکن جو ملک کرکٹ جیسے کھیل کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی ناروا کوشش کرچکا ہو، اس سے دیگر معاملات میں کسی نیکی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔

اس فیصلہ کا اعلان کرنے کا ایک مقصد تو داخلی لحاظ سے اپنے انتہا پسند حامیوں کو پیغام دینا ہے کہ نریندر مودی پاکستان کے ساتھ ’سخت گیر مؤقف‘ اختیارکیے ہوئے ہے۔ اس کا دوسرا مقصد پاکستانی وزیر اعظم کو یہ براہ راست پیغام پہنچانا بھی ہوسکتا ہے کہ وہ بشکک میں قیام کے دوران بھارتی وزیر اعظم سے کسی غیر رسمی ملاقات کی امید نہ رکھیں۔ اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ بھارتی حکومت دونوں ملکوں کے تعلقات میں سرد مہری ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔

وزیر اعظم کے علاوہ عسکری قیادت کی دلی خواہش کے باوجود بھارت کی طرف سے بیگانگی اختیار کرنے اور پاکستان پر مختلف حیلوں سے دباؤ بڑھانے کی اس پالیسی کا جواب یک طرفہ خیر سگالی کے پیغامات سے دینا ممکن نہیں ہے۔ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ بی جے پی کی حکومت اپنے حلقہ انتخاب کو خوش رکھنے کے لئے آئیندہ پانچ برس کے دوران پاکستان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ بلکہ اس کے برعکس لائن آف کنٹرول پر دباؤ و تصادم بڑھا کر اور عالمی اداروں اور دارالحکومتوں میں سفارت کاری کے ذریعے پاکستان کو تنہا کرنے اور ہمہ وقت دفاعی پوزیشن میں رکھنے پر مجبور کرنا چاہتی ہے۔ اس حکمت عملی کا واضح مقصد پاکستان کی موجودہ معاشی مشکلات میں اضافہ اور اس کے داخلی بحران کو سنگین کرنے کی کوشش کرتے رہنا ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت نے گزشتہ روز اپنا پہلا قومی بجٹ پیش کیا ہے۔ اس میں محصولات کا ہدف 35 فیصد بڑھانے کے باوجود خسارہ تین ہزار ارب روپے سے تجاوز کرجائے گا۔ حکومت کے پاس اس خسارہ کو پورا کرنے کے لئے بیرونی اور اندرونی قرضوں کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار بھارت کی جارحیت میں اضافے اور دہشت گردی جیسے چیلنج کا سامنا ہونے کے باوجود دفاعی اخراجات کو منجمد کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا ہے۔

اگر اس معاملہ کو افراط زر میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کے تناظر میں دیکھا جائے تو نئے بجٹ میں گزشتہ مالی سال کے 1150 ارب روپے کے مساوی رقم دفاع کے لئے مختص کرنے کا مقصد بیس سے پچیس فیصد حقیقی کمی ہوگی۔ یہ صورت حال ملک کے دفاع کے لئے مثبت اشارہ نہیں ہے۔ لیکن پاکستان کو شدید مالی مشکلات اور آئی ایم ایف کے دباؤ کی وجہ سے یہ ناخوشگوار اقدام کرنا پڑا ہے۔

بجٹ سے پہلے پیشکیے گئے اکنامک سروے، بجٹ تقریر، اور بجٹ کے علاوہ آج مالی مشیر اور متعدد وزرا کی طرف سے بجٹ کے بعد کی جانے والی پریس کانفرنس میں عوام کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ان مشکلات کی ساری ذمہ داری سابقہ حکومتوں پر عائد ہوتی ہے کیوں انہوں نے دس برس کے دوران (پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے سابقہ دو ادوار) 24000 ارب روپے قرض لیا تھا جو عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے بقول سابقہ حکمران چرا کر منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک لے گئے ہیں۔

بجٹ پیش کرنے کے موقع پر اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی پر اپنے دل کے پھپھولے پھوڑنے کے لئے وزیر اعظم عمران خان نے رات گئے قوم سے خطاب کرتے ہوئے ان تمام الزامات کو دہرایا اور دعویٰ کیا کہ اپوزیشن ان سے این آر او چاہتی ہے لیکن وہ کسی صورت قومی دولت لوٹنے والے چوروں کو معاف نہیں کریں گے خواہ اس میں ان کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔ یہ طرز کلام ہی اپنے طور پر اشتعال انگیز اور افسوسناک تھا لیکن عمران خان نے گزشتہ دس برس کے دوران لئے جانے والے قرضوں کی تحقیقات کے لئے اپنی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن بنانے کا اعلان کرکے سیاسی اختلاف کو ذاتی انتقام بنانے کا اعلان کیا ہے۔

وزیر اعظم اور حکمران اشرافیہ یہ سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے کہ بھارت کے دباؤ اور دنیا بھر کی بیگانگی کا مقابلہ کرنے کے لئے داخلی انتشار اور سیاسی لڑائی کو ختم کرنا ضروری ہے۔ اگر ملک کی حکمران جماعت اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ میدان کارزار گرم رکھے گی اور بجٹ کی صورت میں عوام پر مالی دباؤ بڑھاتے ہوئے یہ خواہش رکھے گی کہ مالی پریشانیوں کا سارا بوجھ سابقہ حکومتوں پر ڈال کر اور مدینہ ریاست کا نعرہ لگاتے ہوئے لوگوں کو اپنی نیک نیتی کا یقین دلایا جاسکتا ہے تو اس سے بڑی سیاسی غلطی کوئی نہیں ہوسکتی۔ یہ ممکن ہے کہ حکومت کو اپنے اس طرز عمل میں عسکری قیادت کی مکمل تائد و حمایت حاصل ہو لیکن ملک میں سیاسی تصادم کے اثرات ملک اور حکومت کو ہی برداشت کرنا پڑیں گے۔ ایک پیج پر موجود دوسری قوتیں کھائی میں گرتی حکومت کو سہارا دینے کی بجائے کوئی دوسرا لیڈر تلاش کرلیں گی۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے نارووال کے علاقے میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے این آر او مانگنے کے سوال اور قرضوں کی تحقیقات کے لئے کمیشن کے اعلان پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تو این آر او نہیں مانگا اور نہ ہی عمران خان کوئی این آر او دینے کے اہل ہیں۔ لیکن کچھ دنوں کی بات ہے، عمران خان خود این آر او مانگتے پھریں گے۔

چاہیں تو اسے سیاسی لفاظی سمجھ کر نظر انداز کردیا جائے یا پھر اس نکتہ پر غور بھی کیا جاسکتا ہے کہ اگر ملک کا وزیر اعظم کسی کو معافی نہیں دے سکتا تو ضرورت پڑنے اور سابق ہونے پر وہ کس سے این آر او مانگے گا۔ اور اگر موجودہ وزیر اعظم کچھ دنوں بعد ’این آر او‘ کا محتاج ہونے والا ہے تو پھر وزیراعظم کون بنے گا؟ اس سوال کا جواب تو این آر او دینے کی صلاحیت رکھنے والی قوتوں کے پاس ہی ہوگا۔ عام لوگ تو اس دلچسپ نکتے پر قیاس آرائی ہی کر سکتے ہیں۔بشکریہ ہم سب نیوز

یہ بھی دیکھیں

امریکہ ایران کشیدگی کے خطے پر اثرات

(مرزا اشتیاق بیگ) برطانیہ کے زیر انتظام جبرالٹر، مسلمانوں میں ’’جبل الطارق‘‘ کے نام سے …