پیر , 21 اکتوبر 2019

پاکستان میں ہر 10 میں سے 4 بچے نشوونما کی کمی کا شکار

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزارت صحت نے قومی غذائی سروے 2018 کی رپورٹ جاری کر دی جس میں کہا گیا ہے کہ ہر 10 میں سے 4 بچے غذائی مسائل کے باعث نشو و نما کی کمی کا شکار ہیں۔115500 گھروں سے حاصل کی گئی معلومات پر ماخوذ سروے کے مطابق دو سے پانچ سال عمر کے بچے اعصابی معذوری کا شکار ہیں، ہر 8 میں سے ایک نو بالغ اور ہر 5 میں سے ایک نو بالغ لڑکا وزن کی کمی شکار ہے۔ جبکہ پاکستان کی 50 فیصد لڑکیاں خون کی شدید کمی کا شکار ہیں۔

وزارت صحت کی زیرنگرانی آغا خان یونیورسٹی کی جانب سے کئے گئے سروے کی رپورٹ میں کہا گیا کہ غذائی کمی کا شکار بچوں کی تعداد 40 اعشاریہ دو فی صد ہے۔ سروے میں مزید بتایا گیا کہ غذائی کمی کا شکار بچوں میں لڑکوں کی تعداد زیادہ ہے، ملک میں پانچ سال سے کم 40 اعشاریہ 9 فی صد لڑکے غذائی کمی کا شکار ہیں۔سروے میں کہا گیا کہ پانچ سال سے کم 39 اعشاریہ 4 فی صد لڑکیاں غذائی کمی کا شکار ہیں۔ پاکستان میں 28 اعشاریہ 9 فی صد بچے وزن کی کمی کا شکار ہیں، جبکہ ہر تیسرا بچہ کم وزن کا شکار ہے۔

پاکستان میں 9 اعشاریہ 5 فی صد بچے وزن کی زیادتی کا شکار کا وزن زیادتی کا شکار ہیں۔ سات سال کے دوران وزن میں زائد بچوں کی تعداد دگنی ہوئی، سال 2011 میں اوور ویٹ بچوں کی شرح 5 فی صد تھی۔ سال 2018 میں اوور ویٹ بچوں کی شرح 9 اعشاریہ 5 فی صد ہے۔

پاکستان میں 48 اعشاریہ 4 فی صد بچوں کو ماں کا دودھ پلایاجاتا ہے۔ سروے میں کہا گیا کہ ماں کا دودھ پلانے کا رجحان خیبر پختونخواہ میں پایا گیا، کے پی میں 60 اعشاریہ 8 فی صد بچوں کو ماں کا دودھ پلایا جاتا ہے۔ پاکستان میں 36 اعشاریہ 9 فی آبادی کو غذائی قلت کا سامنا ہے، رپورٹ میں کہا گیا کہ بلوچستان اور فاٹا کو غذائی قلت کا سامنا ہے، بلوچستان کی 50 اعشاریہ 3 فیصد آبادی، فاٹا میں 54 اعشاریہ 6 فی صد آبادی غذائی قلت کا سامنا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

آزادی مارچ : اپوزیشن جماعتوں سے مذاکرات کیلئے سینئر ارکان پر مشتمل کمیٹی تشکیل

اسلام آباد : اپوزیشن جماعتوں کے حکومت مخالف احتجاجی مارچ کے لیے وزیراعظم کی ہدایت …