بدھ , 23 اکتوبر 2019

افغانستان ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے

بشکیک (مانیٹرنگ ڈیسک)افغانستان کے صدراشرف غنی نے شنگھائی تعاون تنظیم کے 19ویں سربراہی اجلاس کے موقع پر ایران کے صدر سے ملاقات کی۔افغانستان کے صدراشرف غنی نے دورہ کرغزستان کے موقع پر اپنے ایرانی ہم منصب صدرحسن روحانی کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے ایران کے ساتھ تعلقات بڑھانے پر زور دیا اور کہا کہ ہم تہران کی جانب سے افغانستان سے متعلق اپنے تعمیری کردار میں مزید اضافے کے خواہش مند ہیں.افغان صدر نے خطے میں ایران کی اہم پوزیشن کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک امن عمل میں ایرانی کردار کا خواہاں ہے.

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ افغانستان تمام شعبوں میں اپنے ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے.اشرف غنی نے منشیات اسمگلنگ سے متعلق کہا کہ اس لعنت کی روک تھام کے لئے دوطرفہ اور بین الاقوامی فریم ورک کے تحت تعاون کرنا ناگزیر ہے.

انہوں نے منشیات، دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خلاف ایران اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تعاون کو بڑھانے پر بھی زور دیا.صدر اشرف غنی نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے افغانستان ہرگز اپنی سرزمین پر ایسے مراکز نہیں بننے دے گا جو ہمسایہ ملک ایران کے لئے مشکل کا باعث ہو.

در ایں اثناء بشکک میں روس کے صدر ولادی میر پوتین سے بات چیت کرتے ہوئے صدر حسن روحانی نے کہا کہ ایران روس تعاون صحیح سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک توانائی اور ٹرانسپورٹ کے میدان میں ایک دوسرے کے ساتھ اچھا تعاون کر رہے ہیں۔صدر ایران نے ایٹمی معاہدے کے استحکام اور یورپ کی جانب سے اس پر عملدرآمد کے حوالے سے روس کے کردار کو انتہائی اہم قرار دیا۔

روس کے صدر ولادی میر پوتین نے اس موقع پر کہا کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ دوطرفہ اور کثیرالفریقی تعاون جاری رکھنے کا پختہ ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ شام کی صورتحال میں بہتری ایران، روس اور ترکی کے درمیان سہ فریقی تعاون کا نتیجہ ہے۔

قرقیزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تنظیم کے اجلاس کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ سے بات چیت کرتے ہوئے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ بیرونی دباؤ کا متحد ہو کر مقابلہ کریں گے۔

صدر مملکت حسن روحانی نے تہران بیجنگ تعلقات کو اسٹرٹیجک قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی خودسرانہ پالیسیوں کے مقابلے میں ایران اور چین کی استقامت، دونوں ملکوں کے عوام کے مفاد میں ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران اور چین سمیت خطے کے دیگر ملکوں پر امریکی دباؤ کا مقصد ایشیا اور پوری دنیا پر اپنی بالا دستی قائم کرنا ہے۔

چین کے صدر شی جن پنگ نے اس موقع پر کہا کہ ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی خودسرانہ علیحدگی مشرق وسطی کی کشیدگی میں اضافے کی بڑی وجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ چین ملٹی لِٹرل ازم کے فروغ کے لیے علاقائی اور عالمی فورم پر اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعاون کرتا رہے گا۔

یہ بھی دیکھیں

امریکی فوجیوں کو عراق میں ٹھہرنے کا کوئی حق نہیں

بغداد: امریکی فوج کو شام سے خارج ہوکرعراق میں ٹھہرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ …