منگل , 15 اکتوبر 2019

القدس کی تاریخی املاک کی صہیونی عدلیہ کےحکم پر لوٹ مار!

فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس میں موجود تاریخی املاک اور جائیدادیں یہودیت کی جلاد مشینوں کی زد میں ہونے کے ساتھ ساتھ چوری چُھپے ان کی سودے بازی، مشکوک ڈیلوں کے ذریعے ان پر قبضے اور القدس کے تاریخی تشخص کو تباہ کرنے کی مجرمانہ سازشیں جاری ہیں۔ یہ سب کچھ اسرائیلی ریاست کی نام نہاد عدلیہ کے حکم پر ہو رہا ہے۔

گذشتہ سوموار کو اسرائیلی سپریم کورٹ نے پرانے بیت المقدس میں یونانی آرتھوڈوکس فرقے کے چرچ کی املاک ایک یہودی تنظیم’ عطیرات کوھانیم’ کو فروخت کرنے کا حکم دیا گیا۔ رومن چرچ گرجا گھر کی املاک کی فروخت کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے کوشاں رہے ہیں مگر اس کے باوجود صہیونی ریاست کی عدالت نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت القدس میں موجود املاک کو یہودی گروپوں کے حوالے کرنے کے احکامات صادر کیے۔

سہ جہتی سازش
القدس مرکز برائے قانونی سپورٹ کے ڈائریکٹر ‘عصام العاروری’ نے کہا کہ رومن چرچ کی املاک بچانے کی جنگ میں‌ ناکامی پر انہیں گہرا دکھ ہے۔ صہیونی عدالت نے کیس کا حتمی فیصلہ سنایا جس میں چرچ کے پاس اپیل کا کوئی حق نہیں‌ بچا ہے۔ موجودہ عمومی حالات سیاسی دبائو ڈالنے کی اجازت بھی نہیں دیتے۔

العاروری کا کہنا تھا کہ ایک عیسائی راھب اور پادری باب الخلیل میں املاک کی خفیہ ڈیل کے حوالے سے مشہور ہے۔ اس نے ‘عطیرت کوھانیم’ یہودی کالونی کے ساتھ ساز باز کیا اور عدالت کا سامنا کرنے سے بچنے کے لیے پاناما بھاگ گیا۔

اسرائیلی حکومتی اور عدالتی اداروے اس ڈیل کو آگے بڑھانے میں پیش پیش رہے۔ ان میں اسرائیلی شعبہ اراضی، پراسیکیوٹر جنرل اور عدالتیں مل کر باب الخلیل کی اراضی اور املاک یہودیوں کو دینے کے لیے کوشاں رہیں۔

انہوں‌ نے کہا کہ اگر حالات سازگار ہوتے تو ہم اس طرح کی ڈیلیں اور املاک کی فروخت کے منصوبے ناکام بنا دیتے۔ یہ املاک فلسطینی اوقاف کا حصہ ہیں جنہیں کسی صورت میں فروخت نہیں‌کیا جاسکتا۔

غاصبانہ قبضے کے لیے قانون میں ہیرا پھیری
سنہ 2004ء میں یہودی توسیع پسندی کے لیے سرگرم تنظیم نے پرانے بیت المقدس میں تاریخی املاک ہتھیانے کے لیے اپنے مذموم عزائم کا اظہار کیا۔ اس گروپ نے جعلی کاغذات اور قانونی دستاویزات تیار کیں اور یہ دعویٰ‌ کیا کہ اسرائیل کی امپریئل، البترا اور بیت العظیمہ نامی کمپنیوں‌ نے یہ املاک خرید کی تھیں اور ان کی جگہ یہودی کالونی تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ان کے دعوے کے مطابق سنہ 1884ء کے اوائل میں مشرقی بیت المقدس میں امپریل ہوٹل قائم کیا گیا۔ اس کےبعد کئی عالمی مشاہیر نے القدس کا دورہ کیا جن میں فیلھلم دوم، بروشین بادشاہ اور دیگرنے سنہ 1898ء میں اس ہوٹل میں قیام کیا۔ یوں یہ املاک یہودی کمپنیوں‌ کی ملکیت تھیں۔

مشکوک معاہدے
القدس میں رومن کیتھولک چرچ کی املاک پر قبضے کی قانونی جنگ کے دوران چرچ کی طرف سے القدس میں قائم اسرائیل کی مرکزی عدالت میں ایک درخواست دائر کی گئی جس میں اس نام نہاد اور جعلی ڈیل کو باطل قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ چونکہ امپریل ہوٹل کی آڑ میں چرچ کی املاک پر قبضہ ان کے علم میں لائے بغیر کیا گیا۔ چرچ کے ایک کارندے نے غیر قانونی طور پر یہودی آبادکاری کے لیے املاک فروخت کیں اور چرچ کو اس کا علم نہیں۔ عطیرات کوھانیم نے چرچ کے خزانچی کوبھاری رقم رشوت کے طور پر دی جب کہ حقیر رقم کےعوض یہ املاک فروخت کردی گئیں۔

اسرائیلی سپریم کورٹ نے گذشتہ سوموار کو یہ خدشہ ظاہر کیا کہ عیطرات کوھانیم کسی بھی وقت پولیس کی مدد سے چرچ کی اراضی اور املاک میں رہائش پذیر افراد کو بے دخل کرکے اسے یہودی آباد کاروں کے حوالے کر دے گی۔رومن آرتھوڈوکس چرچ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی عدالت نے باب الخلیل میں ہونے والی مشکوک ڈیل کو قانونی حیثیت دیتے ہوئے یہودیوں‌ کے موقف کی حمایت کی ہے جس کے بعد 14 سال سے جاری چرچ کی قانونی جنگ میں ایک یہودی گروپ کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

نجف تا کربلا، سفر عشق و شعور

توقیر کھرل امام عالی مقام حضرت سیدنا امام حسین علیہ السلام کے چہلم میں چند …