بدھ , 23 اکتوبر 2019

صدی کی ڈیل اور مناما ورکشاب

بحرین جیسے چھوٹے اور طفیلی ملک میں اس ماہ کے آخر میں ہونے والی اقتصادی ورکشاپ کہ جس کا اصل نام ’’خوشحالی کے لئےامن ورکشاپ ‘‘رکھا گیا ہے اس وقت مختلف عناونین کے ساتھ عرب اور بین الاقوامی میڈیا میں زیر بحث ہے ۔
بحرین کے دارالحکومت منامہ میں امریکہ اسرائیل اور دیگر خلیجی عرب ممالک کی جانب سے ہونے والی یہ اقتصادی ورکشاپ یا کانفرنس در حقیقت صدی کی ڈیل سے جڑی ہوئی ہے

اس ورکشاب کا اصل مقصد فلسطینیوں پر دباو ٔبڑھانا ہے تاکہ وہ اسرائیل کے ساتھ امن کے نام پر ہونے والی ڈیل کو قبول کریں جیسے صدی کی سب سے بڑی ڈیل کا نام دیا گیاہے ۔اگر ہم بغور اس خوشحالی ورکشاب کو دیکھیں تو واضح ہوجاتا ہے کہ فلسطینیوں سے کہا جارہا ہے کہ معاشی خوشحالی کے وعدوں کے مقابلے میں وہ اپنی زمین مقدسات اور حق سے دستبردار ہوجائیں ۔

الف:فلسطینیوں کےلئے معاشی پیکیج کا اعلان ٹرمپ کی جانب سے ہوگا لیکن پیسہ عرب ممالک ادا کرینگے اور فلسطینی قدس پر اسرائیلی حق کو تسلیم کرینگے اور اسرائیل کا دارالحکومت بیت المقدس کہلائے گا

ب:اسرائیل اور غزہ پٹی کے درمیان مکمل سیز فائر ہوگی ،فلسطین کی جانب سے اسرائیل کے لئے مکمل امن فراہم کرنے کا وعدہ ہوگا جس کے مقابلے میں غزہ میں اقتصادی ریل پیل ہوگی

ج:عرب میڈیا کے مطابق فلسطینیوں کی جیبوں میں لاکھوں ڈالر آجائیںگے، معاشی اور انسانی منصوبوں کا آغاز ہو گا، غزہ کامعاشی محاصرہ ختم ہوگا نئی تجارتی راہداریاں بنائی جاینگی،بے روزگاری کا خاتمہ کیا جائے گا ،میگا قسم کے کارخانے لگائے جائیںگے ،لیکن فلسطینیوں کو اسرائیلی بالادستی قبول کرنی ہوگی۔

د:فلسطینی علاقوں کے اندر تمام منصوبوں کی نگرانی کے لئے فلسطینی ،عربی، بین الاقوامی کمیٹی تشکیل دی جائے گی ۔

غزہ میں حماس کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس وقت، یہ منصوبہ صرف مسئلہ فلسطین کو ختم کرنے کے سوا کچھ نہیں ۔حماس کے رہنما یوسف رزقہ کا کہنا ہے کہ ایک ایسا خطرناک منصوبہ ہے کہ جس میں عرب شیخ بھی شامل ہیں اور ان کا مقصد مسئلہ فلسطین کو ختم کرکے اسرائیل کے ساتھ متحد ہوجانا ہے ۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس منصوبے کی کامیابی کا دارومدار خود فلسطینیوں پر ہے کہ وہ اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں گرچہ اب تک فلسطینیوں میں بظاہر کوئی دکھائی نہیں دیتا جو اس کی کھل کر حمایت کررہا ہولیکن یہ بات واضح ہے کہ حرم کے خادمین کے عنوان اور محلات کے اندر سے برآمد ہونے والے سیاسی و مذہبی فتوے فلسطینیوں میں دراڑ پیدا کرسکتے ہیں ۔بشکریہ Globaal Awarness

یہ بھی دیکھیں

اصل کون ہے اور روبوٹ کون، بوجھو تو جانیں

وسعت اللہ خان دنیا چوتھے صنعتی انقلاب سے گزر رہی ہے۔ پہلا صنعتی انقلاب چھاپے …