منگل , 15 اکتوبر 2019

صدی کی ڈیل اور بحرین کانفرنس کے خلاف فلسطین میں مظاہرے

مقبوضہ بیت المقدس (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا کی طرف سے فلسطین کے خلاف تیار کردہ سازشی منصوبے ‘صدی کی ڈیل’ اور بحرین کی میزبانی میں 25 جون کو ہونے والی اقتصادی کانفرنس کے بائیکاٹ کے لیے فلسطین بھر میں‌ احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں جاری ہیں۔کل ہفتے کے روز غرب اردن کے وسطی شہر رام اللہ میں ہزاروں فلسطینیوں‌جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے نے صدی کی ڈیل اور منامہ اقتصادی کانفرنس کے خلاف جلوس نکالا۔

مظاہرین نے امریکا اور اسرائیل سمیت ان کے حامی علاقائی ممالک کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ جلسے سےخطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ امریکا اپنے خطے کے اتحادیوں کے کندھے پر سوار ہو کرفلسطینیوں‌کے آئینی حکومت کودبانے اور اسرائیل کو فلسطینیوں اور عرب اقوام پر مسلط کرنے کی سازش کررہا ہے۔اس موقع پرمظاہرین نےامریکا اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے تمام فلسطینی طبقات سے بھی صدی کی ڈیل اور بحرین کانفرنس کے بائیکاٹ کے لیے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطین ۔ اسرائیل تنازع کے حل کےلیے’صدی کی ڈیل’ کے عنوان سے ایک نیا امن منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس منصوبے کی تفصیلات ابھی تک منظرعام پرنہیں آئیں تاہم بعض ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کےمطابق صدی کی ڈیل میں فلسطینیوں‌کے حق خودارادیت کی حمایت نہیں‌کی گئی جب کہ فلسطین پر صہیونی ریاست کو مطلق العنان اختیارات دینے کی حمایت کی گئی ہے۔ اسی ضمن میں فلسطینیوں کو بعض معاشی مراعات کے ذریعے حق خود ارادیت اور آزادی کے حق سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان نام نہاد معاشی مراعات کے لیے 25 اور 26 جون کو منامہ میں ایک اقتصادی کانفرنس کا انعقاد عمل میں لایا جا رہا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران اور پاکستان کا خطے کے مسائل کو مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے پر اتفاق

تہران: اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی اور پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان …