جمعہ , 19 جولائی 2019

امریکہ کی سیاست غلط جبکہ ایرانی بہت عقلمند کھلاڑی ہیں، یورپی یونین

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک)یورپی یونین کی سیکرٹری سیاست خارجہ کی مشیر نے خلیج اومان میں 2 بحری جہازوں پر حملے میں ایرانی ہاتھ کے ملوث ہونے پر مبنی امریکی دعووں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی پر بھی الزام عائد کرنے سے پہلے ہمیں چاہئے کہ اپنے دعوے پر ٹھوس ثبوت مہیا کریں۔ یورپی یونین کی سیکرٹری خارجہ "فیڈریکا موگرینی” کی سینیئر مشیر "ناتالی ٹوچی” نے ایرانیوں کو "عقلند کھلاڑی” قرار دیتے ہوئے خلیج اومان میں 2 بحری جہازوں پر حملے میں ایران پر الزام عائد کرنے کی مخالفت کی ہے۔

امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز” کے مطابق یورپی یونین کی سیکرٹری سیاست خارجہ کی مشیر "ناتالی ٹوچی” نے خلیج اومان میں 2 بحری جہازوں پر حملے میں ایران کے ملوث ہونے پر مبنی امریکی دعوے پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ قبل اس کے کہ ہم کسی پر الزام عائد کریں، ہمیں اپنے دعوے پر ٹھوس ثبوت مہیا کر لینا چاہئیں۔ ٹوچی نے ایرانیوں کو انتہائی عقلمند کھلاڑی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جاپانی وزیراعظم کی اپنے ملک میں موجودگی کے دوران ایک جاپانی بحری جہاز پر حملہ، کوئی معقول اقدام نہیں۔

ناتالی ٹوچی نے اپنے بیان کے دوران امریکی سیاست پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ (امریکہ کی) یہ سیاست، یورپی یونین کے ساتھ تعاون پر تیار بعض ایرانی حکام کو کمزور کر رہی ہے۔ ٹوچی کا کہنا تھا کہ امریکی اقدامات کے ساتھ ساتھ تناؤ میں اضافے کی وجہ سے ایران میں موجود وہ لوگ جن کے ساتھ ہم مل کر کام کر رہے ہیں، دن بہ دن کمزور ہوتے جا رہے ہیں، لہذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ تلافی پر مبنی اقدامات کی ضرورت نہیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ ٹرمپ کی حکومت اور ایران کے ساتھ امریکہ کی دشمنی پر مبنی سیاست پر یورپیوں کی بےاعتمادی اس بات کا باعث بنی ہے کہ وہ خلیج اومان میں ہونے والے حادثے پر محتاطانہ سیاست اختیار کرتے ہوئے تناؤ کم کرنے اور زیادہ سے زیادہ صبروتحمل کا مطالبہ کریں۔

اسی طرح واشنگٹن کی مبالغہ آمیز سیاست اور امریکی حکومت کی انٹیلیجنس رپورٹس کو صحیح طور پر سمجھنے میں نااہلی کی وجہ سے یورپی ممالک نے ٹرمپ کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خلیج عمان کے حادثے میں ایران کے ملوث ہونے کے بارے قانونی اعتبار سے ٹھوس ثبوت مہیا کرے۔ نیویارک ٹائمز میں دفاعی مسائل کے تجزیہ نگار فرانسیسی لکھاری "فرانسوا ہیسبرگ” لکھتے ہیں کہ امریکی عزائم کے بارے یورپ میں وسیع پیمانے پر شک و تردید پائی جاتی ہے۔ فرانسوا ہیسبرگ نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ سمندری فضا میں جعلی واقعات کی انجام دہی کے وسیع امکانات پائے جاتے ہیں، امریکہ کی طرف سے "خلیج ٹونکن” (Gulf of Tonkin) کے بارے میں مشکوک رپورٹس اور پھر ان کو بہانہ قرار دے کر ویتنام پر جنگ مسلط کئے جانے کے تاریخی واقعے کی طرف اشارہ کیا۔

واضح رہے کہ ایران کے خلاف امریکی حکومتی رپورٹس کا جھوٹ تب کھل کر سامنے آگیا، جب جمعے کے روز حادثے سے دوچار ہونے والے بحری جہازوں میں سے ایک کے مالک "یاتاکا کاتادا” نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بحری جہاز کو حملے کا نشانہ بنائے جانے کے بارے واشنگٹن کی بیان کردہ رپورٹ غلط ہے۔ یاتاکا کاتادا نے کہا کہ امریکی دعوے کے برخلاف بحری جہاز "کوکوکا” کسی اڑ کر لگنے والی چیز کا نشانہ بنا ہے نہ کہ "بحری مائین” کا۔ انہوں نے کہا لگتا ہے کہ اس جہاز کی طرف کوئی شے اڑ کر آئی ہے، جس نے (بحری جہاز کی دیواروں میں) اتنا بڑا سوراخ کر دیا۔ فرانسوا ہیسبرگ لکھتے ہیں کہ ان 2 بحری جہازوں پر حملہ کئی جوانب کے لئے فائدے کا باعث ہے، جن میں وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر "جان بولٹن” سمیت واشنگٹن میں موجود شدت پسند حلقے بھی شامل ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

طالبان نے وردک میں درجنوں طبی مراکز بند کرادیئے

افغانستان میں غیرملکی این جی او کےتحت چلنے والے درجنوں طبی مراکز طالبان نے بند …