جمعہ , 19 جولائی 2019

جاتی امرا میں مریم نواز اور بلاول بھٹو کی ملاقات ؛سیاسی صورتحال پر گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز کی دعوت پر ان سے ملاقات کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری رائے ونڈ میں جاتی امرا پہنچ گئے۔پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے ساتھ پارٹی کے دیگر رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر، قمر زمان کائرہ، چوہدری منظور اور حسن مرتضیٰ بھی موجود ہیں۔مریم نواز نے بلاول بھٹو اور ان کے وفد کا استقبال کیا، مسلم لیگ کے وفد میں رانا ثنااللہ خان، مریم اورنگزیب، پرویز رشید، سردار ایاز صادق اور محمد زبیر شامل تھے۔

ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں حکومت کے خلاف ممکنہ تحریک، عدلیہ بچاؤ تحریک، نیب کیسز، نیب گرفتاریاں اور بجٹ پر اہم فیصلے متوقع ہیں۔اس کے علاوہ اپوزیشن کی 2 اہم جماعتوں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں اے پی سی میں دونوں جماعتوں کے ایک بیانیہ پر بھی غور متوقع ہے۔

اس سے قبل میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پی پی پی کے رہنما چوہدری منظور نے کہا کہ اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقاتوں سے حکومت حواس باختہ ہوچکی ہے اور اپوزیشن کی ممکنہ احتجاجی تحریک کی وجہ سے حکومت گرفتاریاں کررہی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ملاقاتیں اپوزیشن کی سیاسی روایات کا ایک حصہ ہیں، پی پی سمجھتی ہے اپوزیشن جماعتوں کو مشترکہ کردار ادا کرنا چاہیے۔

لاہور: بلاول بھٹو کی مریم نواز سے ملاقات

بلاول بھٹو کی مریم نواز سے رائے ونڈ میں ملاقاتمریم نواز شریف، محمد زبیر، مریم اورنگزیب اور کیپٹن صفدر، ایاز صادق، پرویزرشید اور رانا ثنااللہ نے پی پی وفد کا استقبال کیا

Gepostet von Iblagh News am Sonntag, 16. Juni 2019

گذشتہ روز پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو 16 جون کو ملاقات کی دعوت دی تھی۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے بتایا تھا کہ بلال بھٹو زرداری نے دعوت کو قبول کیا ہے اور وہ اتوار کی سہ پہر میں رائے ونڈ جائیں گے۔ساتھ ہی اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ اس ملاقات میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے کچھ دیگر اہم رہنما بھی شریک ہوں گے۔

بعد ازاں مریم نواز نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اور بلاول کی ملاقات نواز شریف اور شہباز شریف کی اجازت سے ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ پارٹی کے تمام فیصلے نواز شریف اور شہباز شریف سمیت پارٹی کے لوگوں سے مشاورت سے کیے جاتے ہیں، جبکہ پارٹی کے اصول اور قواعد و ضوابط کی پاسداری مجھ پر بھی لازم ہے۔

بعد ازاں لاہور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مریم نواز سے ملاقات سے متعلق سوال پر چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے ظہرانے کی دعوت دی ہے، جسے میں قبول کروں گا، پاکستان کے اتنے مسائل ہیں کہ سب نے مل کر اس کا حل نکالنا ہے، سب نے مل کر معاشی، انسانی و جمہوری حقوق کو تحفظ پہنچانا ہے، ہم سب نے مل کر پی ٹی آئی، آئی ایم ایف کے بجٹ کو روکنا ہے اور ملک کو معاشی خود کشی سے بچانا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کا مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے ساتھ نظریاتی معاملات ہیں لیکن ملکی مفاد میں مل کر کام کرنے کو تیار ہیں مگر یہ کٹھ پتلی حکومت اصل میں سنجیدہ نہیں، لہٰذا پھر ان سے بات کروں گا جو عوام کے حقوق کے تحفظ میں سنجیدہ ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

وزیر اعظم کا کلبھوشن یادیو پر عالمی عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم

وزیر اعظم عمران خان نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے حوالے سے عالمی عدالتِ انصاف …