بدھ , 13 نومبر 2019

بدلتا عالمی منظرنامہ اور پاکستان

(محمد عامر رانا)

گزشتہ ہفتے بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کی صورت میں پاکستان اور بھارت نے تنائو کم کرنے کا ایک اور موقع کھو دیا ہے۔ پاکستان نے بھارت کی طرف سے خیر سگالی کا جب بھی ہاتھ بڑھایا بھارتی حکمرانوں نے منہ پھیر لیا۔ جس سے پاکستان میں اس سوچ کو تقویت مل رہی ہے کہ بھارت کی اب ایک ہی حکمت عملی ہے کہ پاکستان کو ہرصورت اور ہر قیمت پر سفارتی طور پر تنہائی کا شکار کیا جائے۔ تاکہ پاکستان نئے عالمی تناظر میں عالمی اور علاقائی اتحادیوں میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل نہ رہے۔ البتہ امریکہ اور چین کی تجارتی جنگ خطہ کو درپیش سکیورٹی کے خدشات سمیت متعدد وجوہات کی بنا پر بھارت بھی علاقائی اتحادیوں میں نئی صف بندیوں میں مصروف ہے۔ المیہ یہ ہے کہ بگڑتی معاشی صورتحال اور سیاسی بحران پاکستان کو خطے کی سیاست میں فعال کردار ادا کرنے میں مزاہم ہیں۔ پاکستان نے افغانستان میں جو سیاسی سرمایہ کاری کی تھی اس کی بدولت پاکستان صرف افغان طالبان اور امریکہ امن عمل میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ مگر غیر ریاستی عناصر کی سرگرمیوں کے خلاف عالمی پالیسیاں اس حوالے سے بھی مسائل پیدا کر رہی ہیں۔

پاکستان کو اس وقت خارجہ پالیسی کے محاذ پر فوری اور سنگین چیلنجز کا سامنا ہے پہلا اور شدید نوعیت کا مسئلہ تو پاکستان کے لئے ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث خود کو غیر جانبدار رکھنا، اور سعودی عرب اور ایران کے درمیان اپنے تعلقات میں توازن قائم رکھنا ہے۔ دوسرا چیلنج چین اور امریکہ کی تجارتی جنگ کے سبب دونوں ممالک کے تنائو میں دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات قائم رکھنا تو دور کی بات پاکستان کے لئے امریکہ کے ساتھ کم از کم تعلقات رکھنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ان سے بڑا مسئلہ بھارت کی طرف سے دہشت گردی کے عالمی بیانیہ کی آڑ میں پاکستان کوجنوبی ایشیا کی علاقائی سیاست سے باہر دھکیلنے کی کوشش ہے۔ افغانستان اور بھارت کا گٹھ جوڑ مسائل کو مزید پیچیدہ کر رہا ہے۔ امریکہ بھارت کو اپنے اتحادیوں کی فہرست میں سب سے اوپر اورپاکستان کو اس سے خارج کر چکا ہے ۔امریکی ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ کی ایک رپورٹ میڈیا پر گردش کرتی رہی جس میں پاکستان کو چین کا اتحادی بتا کر کہا گیا ہے کہ امریکہ جنوبی ایشیا میں پاکستان کو چھوڑ کر کسی بھی ملک کو اتحادی بنا سکتا ہے تاکہ خطہ میں چین اور روس کے بڑھتے اثر روسوخ کو کنٹرول کیا جا سکے۔ بھارت کے سوا جنوبی ایشیا کی ریاستوں میں سے کسی کے لئے بھی امریکہ سے سٹریٹجک پارٹنر شپ کی خواہش نہیں۔ ان ملکوں کے معاشی مفادات بھی امریکہ سے میل نہیں کھاتے۔ امریکہ کے جنوبی ایشیا میں مفادات بھارت کو امریکہ کا بہترین اتحادی بناتے ہیں اور بھارت ہر قیمت پر پاکستان کو تنہا کرنے کے درپے ہے۔ بھارت نے پاکستان کوخطہ کے امور سے الگ تھلگ کرنے کے لئے سارک کے متبادل خلیج بنگال کثیر الجہتی ٹیکنیکل اور معاشی تنظیم قائم کی ہے اس تنظیم کے قیام کا مقصد جنوبی ایشیائی ممالک کے معاشی جغرافیائی اور سیاسی معاملات سے پاکستان کو بے دخل کرنا ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت سری لنکا ‘ مالدیپ‘ نیپال سے مسائل کے ہوتے ہوئے اس تنظیم کو کس طرح فعال کرتا ہے جو پہلے ہی بدلتے عالمی منظر نامے میں اپنے معاشی اور سیاسی مفادات چین سے بالواسطہ کر چکے ہیں۔ بیان کئے گئے تین چیلنجز کچھ کم مشکل نہیں بلکہ یہ کثیر الجہتی اور پیچیدہ ہیں۔

ان حالات میں پاکستان کے معاشی اور سیاسی مسائل علاقائی ، سیاسی اور سٹریٹجک صف بندی میں حائل ہو رہے ہیں۔ اگر بھارت کے حملے اور امریکی دبائو برقرار رہتے ہیں تو پھر پاکستان شمالی مشرقی ریاستوں سے سیاسی اور جغرافیائی شراکت داری پر مجبور ہو جائے گا ،جو پہلے ہی مختلف تنازعات اور مسائل میں الجھے ہوئے ہیں ۔ ان ممالک کی سیاسی اور جغرافیائی ترقی کے امکانات ایران افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے جڑے ہوئے ہیں جہاں سکیورٹی کے شدید مسائل ہیں۔ خطے کے ان ممالک کا سیاسی استحکام انرجی کے منصوبوں سے جڑا ہوا ہے اور ان کی تکمیل کے لئے پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کے لئے بھر پور کوشش کر رہاہے تاہم پاکستان میں بھی بعض حلقے شمال مغرب کی طرف جھکائو کے حامی ہیں۔ حالیہ دنوں میں چین وسط ایشیائی ریاستوں سمیت مشرق وسطی کے کچھ ممالک میں ایک نیا احساس جنم لے رہاہے جو مغرب بیزاری کا ہے اور مختلف حلقوں اور اداروں کی طرف سے فری ورلڈ اور پرامن دنیا کی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ خطہ کے ممالک اور ہمسایوں سے معاملات کے حل کا احساس بڑھ رہا ہے سماجی اور معاشی سائنسی روابط میں اضافہ کی خواہش سامنے آ رہی ہے ۔

مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے پاس شمال مغربی بلاک کی صورت میںلاتعداد جغرافیائی معاشی امکانات موجود ہیں۔ ان میں سے ایک سنٹرل ایشیائی ریجنل معاشی تعان کی تنظیم (CAREC) ہے اس تنظیم کا مقصد 11ممالک میں جارجیا قازکستان کرغزستان منگولیا پاکستان تاجکستان ترکمانستان اور ازبکستان کے درمیان اچھی ہمسائیگی اچھی شراکت داری اورخوشحالی میں اضافہ سے شمال مغربی ریاستوں سے اقتصادی اور جغرافیائی تعاون کے امکانات کے باوجود پاکستان خود کو جنوبی ایشیائی ممالک کے معاملات سے الگ تھلگ نہیں رکھ سکتا۔ جہاں معاشی تعاون کے لامحدود امکانات ہیں بلکہ پاکستان اور خطہ کی سلامتی بھی باہم جڑی ہوئی ہے اس کے علاوہ چین بھی پاکستان کو سی پیک کے ذریعے جنوبی ایشیا سے منسلک کرنے کا خواہاں ہے کیونکہ ایسا کرنے سے سی پیک کی افادیت میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ چین نے پاکستان اوربھارت کو تنازعات کے حل کے لئے معاونت کی پیش کش بھی کی ہے، چین کا خیال ہے کہ جنوبی ایشیا میں باہمی تجارتی اور معاشی سرگرمیاں باہمی تنازعات کو کم کر سکتی ہے تاہم چین کو جنوبی ایشیا میں تنائو کو ختم کرنے کے لئے مزید سرمایہ کاری کرنا ہو گی اگر چین بی آر آئی سی پیک سے پوری طرح استفادہ کرنا چاہتا ہے تو اس کا تقاضا ہے کہ خطہ کے سیاسی جغرافیائی معاملات میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کی جائے۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان اور روس رفتہ رفتہ قریب آرہے ہیں

تحریر: ثاقب اکبر ”معاملہ سیدھا سیدھا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں نہ مستقل دشمنیاں ہوتی …