جمعہ , 15 نومبر 2019

کیا حکومت بیک وقت کئی محاذوں پر لڑ سکے گی ؟

(عباس مہکری)

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے کئی محاذ ایک ساتھ کھول لیے ہیں یا بوجوہ ان محاذوں کے اگلے مورچوں پر ہے۔ کیا یہ حکومت اس قدر مقبول اور مضبوط ہے کہ ہر محاذ پر کامیابی حاصل کر سکے؟ یہ آج کا بہت اہم سوال ہے۔ ایک محاذ وفاقی بجٹ کے اعلان سے کھل گیا ہے۔ اس بجٹ پر حکومت کے سیاسی مخالفین کے ساتھ ساتھ حکومت کے حامی حلقوں کی بھی متفقہ رائے یہ ہے کہ اس بجٹ سے مہنگائی کا سونامی آئے گا۔ حیرت کی بات یہ ہے اس بجٹ کے حوالے سے امیروں اور غریبوں کی رائے میں بھی اختلاف نہیں ہے، جو ہمیشہ سے رہا ہے۔ تاجر، صنعت کار، زمیندار، محنت کش، کسان، آجر، اجیر سب اس بات پر متفق ہیں کہ اس بجٹ سے پریشان حال اکثریتی عوام کی زندگی مزید اجیرن ہو جائے گی۔ صرف حکومت میں شامل لوگ اس بجٹ کو انقلابی اور نئے پاکستان کا بجٹ قرار دے رہے ہیں۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ بجٹ میں تجویز کردہ اقدامات سے حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہوگا اور اس سے معیشت کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ مہنگائی کا عذاب جھیلنے والے لوگوں کے لیے یہ ایک وعدہ فردا ہے۔ فی الحال ایوان صنعت و تجارت کے ذمہ داران اور مشکل معاشی فیصلوں کے حامی ماہرین اقتصادیات بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت کا یہ بجٹ عوام کو سڑکوں پر آنے کے لیے مجبور کر دے گا۔

دوسرا محاذ سیاست دانوں کے احتساب کی وجہ سے کھل گیا ہے۔ میاں نواز شریف پہلے ہی جیل میں ہیں۔ آصف علی زرداری بھی گرفتار ہو گئے ہیں۔ حمزہ شہباز کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔تادم تحریر یہ بھی رپورٹس تھیں کہ قومی احتساب بیورو (نیب)کی ٹیم ایک اور بڑی گرفتاری کے لیے کراچی پہنچ چکی ہے۔ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)اب اس احتساب کو سیاسی انتقام قرار دے کر سراپا احتجاج ہیں۔ دیگر سیاسی قوتیں بھی ان کی ہم نوا ہورہی ہیں اور ان کے موقف کی حمایت کر رہی ہیں۔ اس معاملے پر پی ٹی آئی کے موقف کو سیاسی قوتوں کی پہلے والی حمایت حاصل نہیں رہی ہے۔ اس طرح سیاسی قوتیں بھی پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف صف آرا ہو رہی ہیں۔ ان دو محاذوں کے علاوہ پی ٹی آئی کی حکومت اور کون سے محاذ کھول رہی ہے ؟ ان کا تذکرہ کرنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ان دونوں محاذوں پر حکومت کی اپنی پوزیشن کیا ہے ؟ یہ حقیقت ہے کہ جس بجٹ کو پی ٹی آئی اپنے منشور کے مطابق اور نئے پاکستان کا بجٹ قرار دے رہی ہے، اس کے اعلان سے قبل پی ٹی آئی نے اپنی پوری معاشی ٹیم کو نکال باہر کیا اور اس کی جگہ وہ معاشی ٹیم لائی گئی، جسے بہت سے حلقے عالمی مالیاتی اداروں کی ٹیم قرار دے رہے ہیں۔ اگر یہ بات درست نہ بھی ہو تو بھی اس امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ پی ٹی آئی کی اپنی معاشی ٹیم نہیں ہے۔ وفاقی بجٹ بھی عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)سے معاہدہ کی اب تک سامنے آنے والی شرائط کو پورا کرتا ہوا نظر آتا ہے۔

اسی طرح احتساب کے جس عمل کو پی ٹی آئی کی حکومت اپنا ایجنڈا قرار دے رہی ہے، وہ بھی پی ٹی آئی کی حکومت سے پہلے شروع ہو چکا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے دیگر رہنما اپنی اس بات میں حق بجانب ہیں کہ اپوزیشن کے رہنمائوں کے خلاف مقدمات ان کی حکومت سے پہلے قائم کیے گئے تھے۔ ان کی یہ بات بھی درست ہے کہ نیب سمیت احتساب کے تمام ادارے آزاد ہیں۔ حکومت ان کے کام میں مداخلت نہیں کرتی ہے۔ پھر یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان بار بار یہ بات کیوں کہتے ہیں کہ وہ ملکی دولت لوٹنے والے لوگوں کو ہرگز نہیں چھوڑیں گے اور انہیں این آر او بھی نہیں دیں گے۔ حالانکہ ان کا کسی کام میں عمل دخل بھی نہیں ہے۔

ان حقائق سے تو ظاہری اور منطقی طور پر یوں محسوس ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا دونوں محاذ کسی اور نے کھولے ہیں۔ پی ٹی آئی صرف حکومت میں ہونے یا رہنے کی خواہش کی وجہ سے ان محاذوں کے اگلے مورچوں پر کھڑی ہے۔ اس کی حکمت عملی بھی اپنی نہیں ہے۔ دیگر داخلی اور خارجی معاملات میں حکومت جو فیصلے کر رہی ہے، ان سے بھی کئی اور محاذ کھل رہے ہیں۔ ان محاذوں پر بھی پی ٹی آئی فرنٹ پر ہے۔ ان محاذوں پر بھی پی ٹی آئی کی پوزیشن وہی ہے، جو معاشی فیصلوں اور احتساب کے معاملات میں ہے۔ بیک وقت اتنےمحاذوں کے اگلے مورچوں پر کھڑا ہوجانا واقعی کمال کی بات ہے۔ اس صورت حال میں پی ٹی آئی کی قیادت کو چاہئے کہ ایک تو وہ اپنی سیاسی مقبولیت کا از سر نو جائزہ لے۔ اسے اندازہ ہوگا کہ اس کی سیاسی مقبولیت پہلے والی نہیں رہی۔ اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کے لیے ایشوز کی سیاست کا موقع پیدا ہو گیا ہے ۔ مہنگائی سے پریشان حال لوگوں سے اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کے سیاسی رابطے بھی بڑھ رہے ہیں۔ بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی حالات میں پی ٹی آئی کے سنگل ٹریک ایجنڈے کی وجہ سے اپوزیشن کی سیاسی قیادت کی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بہت سے کارڈز اپوزیشن کے ہاتھ آگئے ہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت کے بظاہر اپنے فیصلوں سے جو ملکی اور غیرملکی طاقتور حلقے خوش ہو سکتے ہیں اور وہ پی ٹی آئی کی حکومت کی طاقت بن سکتے ہیں، ان کے حلقوں کے اہداف اور ان کے متبادل منصوبوں سے آگاہی بھی بہت ضروری ہے۔ اس سے پہلے کسی بھی سیاسی یا غیر سیاسی حکومت نے اتنے محاذ ایک ساتھ پہلے کبھی نہیں کھولے یا کسی بھی وجہ سے اگلے مورچوں پر اس طرح کبھی نہیں آئی۔ عزم اور اعتماد اپنی جگہ لیکن معروضیت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔بشکریہ جنگ نیوز

یہ بھی دیکھیں

بھارتی علماء کشمیریوں کے ساتھ نہیں ہیں؟

  تنویر قیصر شاہد پہلے تو مجھے ماہنامہ ’’عالمی ترجمان القرآن ‘‘ کے نائب مدیر …