پیر , 19 اگست 2019
تازہ ترین

شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس: عمران خان سفارتی آداب سے نابلد یا حد سے زیادہ پراعتماد؟

(دانش حسین)

سربراہی اجلاسوں کے لیے رائج ’روایتی سفارتی آداب کا خیال نہ رکھنے پر‘ پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان ایک مرتبہ پھر خبروں میں ہیں۔وائٹ ہاؤس کے سابقہ مشیر پیٹر لیوئے نے جمعہ کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر عمران خان کی ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا کہ ’پاکستانی فیاض اور عزت دینے والے لوگ ہیں۔ مجھے اس رویے کی بالکل سمجھ نہیں آئی۔‘

ویڈیو شنگھائی تعاون تنظیم کے کرغزستان میں منعقد ہونے والے سربراہی اجلاس کی افتتاحی نشست کی ہے جس میں ممبر ممالک کے سربراہان کو کانفرنس ہال میں یکے بعد دیگرے مدعو کیا جا رہا ہے۔مختلف ممالک کے وزرا اور دیگر ذمہ داران پہلے سے ہال میں موجود ہیں جبکہ عمران خان سے پہلے مدعو کیے گئے سربراہانِ مملکت بھی موجود ہیں جو باری باری ہال میں داخل ہونے والے سربراہان کو خوش آمدید کہنے کے لیے اپنی اپنی نشستوں پر کھڑے ہیں۔

عمران خان کو مدعو کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے اور وہ آتے ہی اپنی نشست پر براجمان ہو جاتے ہیں اس بات سے قطعِ نظر کے ان سے پہلے آنے والے سربراہان اور ہال میں موجود دیگر افراد اپنی نشستوں پر کھڑے استقبال میں مصروف ہیں۔عمران خان کے بعد بھی تین مزید سربراہان بشمول روسی صدر پوٹن ہال میں تشریف لاتے ہیں مگر خان صاحب اپنی نشست پر بیٹھے تسبیح کے دانے گھماتے رہتے ہیں۔

منگولیا کے سربراہ سب سے آخر میں تشریف لاتے ہیں اور ان سے پہلے ہال میں داخل ہونے والے بیلا روس کے صدر کی نشست عمران خان کی نشست کے ساتھ ہے۔جیسے ہی بیلا روس کے صدر اپنی نشست کے قریب پہنچتے ہیں تو عمران خان کھڑے ہونے کی کوشش کرتے ہیں مگر بیلا روس کے صدر انھیں ہاتھ کے اشارے سے بیٹھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

اس ساری کارروائی کے دوران ہال میں، جو کہ کھچا کھچ بھرا ہے، صرف پاکستان کے وزیر اعظم نشست پر براجمان دیکھائی دیتے ہیں جبکہ باقی سب افراد بشمول پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کھڑے ہو کر معزر مہمانوں کا استقبال کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔یہ ویڈیو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر شیئر کی جا رہی ہے اور خاص کر سیاسی وابستگی رکھنے والے افراد اس پر اپنی اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔

سربراہی اجلاس – آداب ہیں کیا؟
سابقہ وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی اور مختلف ممالک میں سفارت کاری کے فرائض سرانجام دینے والے سابقہ سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ سفارتی آداب کے متعلق سربراہ مملکت کو چھوٹی سے چھوٹی تفصیل کے بارے میں باقاعدہ بریف کیا جاتا ہے۔

چار سال کے کچھ زائد عرصے تک پاکستان کے وزیر اعظم رہنے والے یوسف رضا گیلانی کہتے ہیں کہ ’چھوٹی سے چھوٹی تفصیل یہاں تک کے کس سے ہاتھ ملانا ہے اور کیا کرنا اور کہنا ہے اس بارے میں بھی بریف کیا جاتا ہے۔‘

یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ پاکستانی وزارت خارجہ میں مختلف ممالک کے لیے الگ الگ ڈیسک ہیں اور ان کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ ہر بین الاقوامی کانفرنس سے پہلے آداب سے متعلق بریف کریں جبکہ کانفرنسوں کے دوران بھی وزارت خارجہ کے حکام ساتھ ساتھ بریف کرتے رہتے ہیں۔

شمشاد احمد کہتے ہیں کہ میزبان ملک کے چیف پروٹوکول افسر مہمان ممالک کے پروٹوکول افسران کو اس حوالے سے بریف کرتے ہیں اور وہ پروٹوکول افسر اپنے اپنے سربراہ مملکت کی رہنمائی کرتے ہیں۔

’میزبان ملک کی طرف سے کسی کانفرنس کی پوری ڈرل کے حوالے سے مہمان ممالک کے پروٹوکول سٹاف کو بریف کیا جاتا ہے۔تاہم ہو سکتا ہے کہ کرغستان جیسے ملک کے لیے اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی کانفرنس شاید نئی ہو اور وہ باقاعدہ بریف نہ کر پائے ہوں۔‘ان کا کہنا تھا کہ یہ ریاستیں (کرغستان) نئی ہیں اور ہو سکتا ہے انھیں اس بارے میں تجربہ نہ ہو۔

تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ باقی ممالک کے سربراہان نارمل برتاؤ کر رہے تھے تو شمشاد احمد کا کہنا تھا کہ خان صاحب کا بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کا کوئی خاص تجربہ بھی نہیں ہے جبکہ وہ حد سے زیادہ پراعتماد ہیں اور یہی وجہ ہے کہ شاید وہ اس حوالے سے ہونے والی بریفنگز توجہ سے سنتے ہی نہ ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور دیگر پاکستانی سربراہان کے برعکس عمران خان میں یہ بات ہے کہ ان کو گفتگو کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں اور کسی بھی بین الاقوامی لیڈر کے ساتھ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتے ہیں اور اس کے لیے انھیں پرچی کی ضرورت نہیں۔

ایک سابقہ سفارت کار نے، جنھیں کافی پاکستانی سربراہان مملکت کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا پاکستانی سیاستدان ایسے موقعوں پر عموماً بہت زیادہ حماقتیں کرتے ہیں اور اس سے کسی کو استثنی نہیں۔

انھوں نے بتایا کہ بین الاقوامی دوروں سے قبل سابقہ وزیر اعظم نواز شریف کو بہت زیادہ بتانا پڑتا تھا بلکہ رٹا لگوانا پڑتا تھا کہ کب کیا بات کرنی ہے اور ان کے لیے کیو کارڈ بنانے پڑتے تھے جو دورانِ ملاقات انھیں دکھانے ہوتے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ سابقہ صدر آصف علی زرداری نیٹو سمٹ میں شرکت کے لیے شکاگو تشریف لے گئے تمام نیٹو ممالک کے سربراہان موجود تھے جبکہ پاکستان کی حیثیت نان نیٹو اتحادی ہونے کے باعث ثانوی تھی۔’زرداری صاحب کی خواہش تھی کے ان کی الگ سے تصویر امریکی صدر اوبامہ کے ساتھ بنے۔ اور اس مقصد کے حصول کے لیے تین دن تک زرداری صاحب ہوٹل کی لابی کے چکر لگاتے رہے تاہم اس دورے کے دوران ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہو پائی۔‘بشکریہ بی بی سی

یہ بھی دیکھیں

ایرانی آئل ٹینکر کی رہائی، امریکہ اور برطانیہ کی بڑی شکست

(تحریر: عبدالباری عطوان) جبل الطارق نے حال ہی میں ایران کا پکڑا ہوا آئل ٹینکر …