اتوار , 21 جولائی 2019

امام خامنہ ای نے امریکہ کو ڈھیر کر دیا

(تحریر: محمد سلمان مہدی)

بین الاقوامی سیاست کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کسی بھی ملک کے لئے اگر کوئی پالیسی وضع کرلے تو متعلقہ ملک کو یا تو وہ پالیسی من و عن قبول کرنی پڑتی ہے یا پھر درمیان کی ایک ایسی راہ نکالنی پڑتی ہے، جس پر امریکا کو راضی کر لیا جائے۔ چھوٹے موٹے ملک کسی گنتی میں نہیں ہیں، اقوام متحدہ کی سلامتی کاؤنسل کے مستقل اراکین یعنی دنیا کی دیگر چار بڑی طاقتیں بھی اس درمیانی راہ والی پالیسی کو اختیار کرتی آئی ہیں، حکم عدولی بہت مہنگی پڑتی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے شور و غوغا یا ان ممالک کے عہدیداران کے بظاہر مخالفانہ بیانات سے یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ امریکہ کو للکارنے میں یا امریکہ کے کسی بھی جارحانہ اقدام پر جیسے کو تیسا عملی جواب دینے میں کوئی بڑا اور طاقتور ملک بھی سنجیدہ ہے۔

یقین نہ آئے تو کسی بھی بڑے ایشو پر ان سارے ممالک کا طرز عمل دیکھ لیں۔ اکا دکا دوطرفہ معاملات میں چھوٹی موٹی چپقلش تو نظر آئے گی، لیکن امریکی اسٹیبلشمنٹ کی غلط پالیسی کو غلط کہہ کر اس کے مقابلے پر کوئی پالیسی بنا لینا اور پھر اس پر عمل کرنا، ایسا موجودہ دنیا میں ایران کے علاوہ کسی اور ملک کی جانب سے دیکھنے میں نہیں آتا اور اس کی سب سے بڑی مثال مسئلہ فلسطین ہے۔ ایران کے علاوہ دوسرے ملک کا نام بتائیں جو فلسطین کی آزادی کی تحریک کی اس طرح عملی مدد و حمایت کرتا ہے اور اس طرح ریاست اسرائیل کے وجود کو کسی صورت قبول کرنے پر آمادہ نہ ہو!!

صرف فلسطین نہیں بلکہ لبنان، شام اور یمن میں بھی اگر امریکی، اسرائیلی و سعودی اتحاد کی پالیسیوں کے مقابلے میں ایک سو اسی درجے برعکس پالیسی اگر کسی ملک کی ہے تو وہ بھی تنہا ایران ہے۔ روس، شام کی حد تک یقیناً شام کی حکومت کے ساتھ تعاون کر رہا ہے، لیکن امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں اس کا موقف یا طرز عمل وہ نہیں ہے، جو شام کے دوست اور اتحادی ایران کا ہے۔ یمن ہو یا دیگر ایشوز، چین اور روس بھی اپنا وہ کردار جو کہ اقوام متحدہ کے مستقل اراکین کی حیثیت سے ان پر واجب ہے، یہ وہ لازمی کردار بھی اس لئے ادا کرنے سے گریزاں ہیں کہ امریکی بلاک کے دیگر ممالک کے ساتھ ان کے مفادات بھی وابستہ ہیں۔

ان تلخ حقائق اور مشکلات کے ہوتے ہوئے بھی اگر ایران ڈٹا ہوا ہے، خلیج فارس سے لے کر بحر متوسط اور نیل کے ساحل تک، باب المندب سے بحر احمر تک، حتیٰ کہ افریقہ تک اپنی اصولی انقلابی اسلامی پالیسی پر عمل پیرا ہے تو اس کا کریڈٹ جس ایک ہستی کو جاتا ہے، وہ ہیں امام خامنہ ای اور ان کی انقلابی قیادت و رہبری۔ جی ہاں، یہ امام خامنہ ای ہیں، یہ ان کی کامیاب حکمت عملی ہے، یہ ان کی مدبرانہ رہبری و رہنمائی ہے کہ امریکہ ڈھیر ہوچکا ہے۔

ممکن ہے پھر ناقدین نکلیں اور اعتراض کریں کہ امریکہ کیسے ڈھیر ہوگیا؟؟ بین الاقوامی سیاست اور موجودہ ورلڈ آرڈر کی تاریخ کی ابجد سے بھی اگر آگاہی ہے تو موازنہ کر لیں۔ سرد جنگ کب سے شروع ہوئی؟ دنیا دو بلاک میں کب تقسیم ہوئی؟ اور یہ سرد جنگ کا دور کب ختم ہوا اور دنیا میں دوسرا بلاک کب ختم ہوگیا۔ دنیا سرمایہ دارانہ اور اشتراکی بلاک میں تقسیم تھی، یعنی کیپٹلسٹ اور کمیونسٹ (یا سوشلسٹ کہہ لیں)۔ یہ ورلڈ آرڈر یا عالمی نظام 1945ء میں اقوام متحدہ کے تحت قائم ہوا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر یہ نظام قائم ہوا اور اس کے دو سال بعد ہی سرد جنگ کے دور کا آغاز ہوگیا تھا۔ سرد جنگ کی کل مدت 44 برس تھی۔

باوجود کشیدگی، سرد جنگ میں بھی امریکہ اور سابق سوویت یونین (موجودہ روس) کے مابین تعلقات قائم تھے۔ سفارتی تعلقات بھی اور تجارتی تعلقات بھی قائم تھے۔ محض 44 برسوں میں ان تعلقات کے ہوتے ہوئے بھی امریکہ نے اشتراکی بلاک کی مرکزی ریاست سوویت یونین کو ساقط کر دیا تھا۔ اب کر لیں موازنہ انقلاب کے بعد ایران کے چالیس سال کا۔ ایران، امریکہ تعلقات کی چالیس سالہ تاریخ ایک چشم دید عادل اور معتبر گواہ ہے کہ یہ چالیس برس امریکی و سوویت تعلقات کے چالیس برسوں سے بے حد مختلف ہیں۔ امریکہ، ایران نہ تو سفارتی تعلقات رکھتے ہیں اور نہ ہی تجارتی تعلقات۔ بلکہ امریکہ تو دیگر ممالک کی ایران سے تجارت کے بھی خلاف ہے۔ امریکہ تو ایران سے اس حد تک دشمنی کر رہا ہے کہ ایران سے تجارت کی وجہ سے دیگر ممالک پر بھی پابندیاں لگا رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور دیگر امریکی حکام ایران پر جنگ مسلط کرنے کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔ خلیج فارس میں کشیدگی میں شدت لا رہے ہیں۔ ایران کا میڈیا ٹرائل کر رہے ہیں۔ خود حملے کروا کر الزامات ایران پر لگا رہے ہیں۔ فوجی موجودگی میں اضافہ کرکے جنگی ماحول بنا رہے ہیں، اپنے خلیجی اتحادیوں سے ایران کے خلاف اقدامات کروا رہے ہیں۔ یہ سب اس لئے کیا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کو مجبور کرے کہ وہ اپنے دفاعی پروگرام پر سمجھوتہ کرلے، جیسے امریکہ کہتا ہے وہ مان لے، فلسطین پالیسی، یمن پالیسی، شام پالیسی، لبنان پالیسی تبدیل کر دے۔ یہ امریکی مطالبات ہیں، خواہشات ہیں۔

عالمی ذرایع ابلاغ میں ہی نہیں بلکہ مختلف ملکوں کے موجودہ اور سابق حکام بھی جنگ جنگ کے خدشات پر آئے دن کے بیانات دے رہے ہیں۔ یعنی دباؤ کا ایک ماحول بنا رہے ہیں۔ جاپان کے وزیراعظم آبے شنزو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا پیغام لے کر ایران پہنچے۔ پیغام رہبر معظم انقلاب اسلامی امام خامنہ ای کے لئے تھا۔ پوری سیاسی دنیا کی نگاہیں اس اہم ترین ملاقات پر جمی تھیں اور ان مشکل ترین حالات میں بھی امام خامنہ ای نے ایک ایسا فیصلہ سنایا کہ جس کی کسی کو بھی توقع نہیں تھی۔ انکا کہنا تھا کہ جاپان سے کچھ شکایات ہونے کے باوجود ایران جاپان کو دوست سمجھتا ہے، البتہ ٹرمپ اس لائق نہیں کہ اس سے پیغامات کا تبادلہ کیا جائے۔ اس ایک جملے نے امریکی اسٹیبلشمنٹ کی ساری اکڑ فوں نکال کر رکھ دی۔

مانا کہ امام خامنہ ای نے ماضی میں کہا تھا کہ وہ ڈپلومیٹ نہیں انقلابی ہیں، لیکن بین الاقوامی تعلقات کی باریکیوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ وہ ایران کے صدر کی حیثیت سے ماضی میں سفارتی محاذوں پر بھی بہت کچھ کہہ اور سن چکے ہیں۔ اقوام متحدہ میں صدر ایران کی حیثیت سے ان کی تقاریر ریکارڈ پر ہیں۔ میں ڈپلومیٹ نہیں ہوں کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ سفارتی آداب سے ناواقف ہیں۔ ڈپلومیٹ نہیں ہوں سے جو ان کی مراد ہے، وہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ صدر خاتمی کے دور میں انہوں نے اصلاحات پر جو رہنمائی فرمائی تھی، اس میں مغربی ڈپلومیسی کے بارے میں بھی موقف بیان کیا تھا۔ جہاں تک مجھے یاد ہے ان کا کہنا تھا کہ یہ مغربی ڈپلومیسی درحقیقت منافقت ہے۔ من دیپلمات نیستم کیوں کہا؟؟ کہہ سکتے تھے کہ میں سفیر یا سفارتکار نہیں ہوں اور یہ دونوں الفاظ فارسی میں بھی کہے جاسکتے تھے۔

مطلب کہنے کا واضح تھا۔ من دیپلمات نیستم یعنی میں منافق نہیں ہوں، میرے اندر دوغلا پن نہیں ہے، میں ایک ہی موقف رکھتا ہوں، میں مومن ہوں۔ لیکن انہوں نے لفظ مومن بھی نہیں کہا بلکہ کہا میں انقلابی ہوں! امریکی اسٹیبلشمنٹ کو اس کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی ایسے ریاستی سربراہ سے سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جو ان کے مغربی سیاسی افکار، ان کی ڈپلومیسی، ان کے عالمی نظام سے نہ صرف یہ کہ بخوبی آگاہ ہے بلکہ اس عالمی نظام کے تحت عالمی اداروں میں بھی ایران کی نمائندگی کرچکا ہے، اس کے باجود وہ امریکہ کی غلط کاریوں کے مقابلے پر ہر محاذ پر ثابت قدم ہے، کیونکہ حقیقی معنوں میں ایک انقلابی ہے۔ یہاں یہ وضاحت بھی کر دی جائے کہ امام خمینی ؒ سے بڑا انقلابی کون ہوسکتا ہے، لیکن امام خمینی ؒ موجودہ عالمی نظام کے بین الاقوامی فورمز پر ایران کی نمائندگی کرنے کبھی نہیں گئے۔(جہاں تک میری معلومات ہیں ایسا ہی ہے

آپ صرف خلیج فارس کی کشیدگی پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ بہت زیادہ ہوا تو یمن کی جنگ آپ کے ذہن میں ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس وقت لبنان کے محاذ پر بھی امریکی مداخلت اپنے عروج پر ہے۔ امریکی حکومتی نمائندہ لبنانی حکومت کے اعلیٰ ترین حکام سے ملاقاتوں میں حزب اللہ کے اسلحے کو تلف کروانے کے لئے دھمکیاں دے رہا ہے۔ یعنی اسرائیل کا وزیر خارجہ بن کر امریکی حکومتی نمائندہ اسرائیل کی دھمکیوں کو امریکی لیبل لگا کر لبنان کو ڈرا دھمکا رہا ہے۔

جاپان کے وزیراعظم کے دورہ ایران سے پہلے یہ دھمکیاں دی جاچکی ہیں۔ یعنی امام خامنہ ای سے جب جاپان کے وزیراعظم نے ملاقات کی تھی، اس سے قبل سعودی عرب کی تین مکہ کانفرنس ہوچکیں تھیں، عرب لیگ نے بھی جارحانہ بیانات داغ دیئے تھے۔ لبنان و یمن پر بھی دباؤ انتہاء تک پہنچا دیا گیا تھا۔ لیکن آفرین امام خامنہ ای کی کامیاب حکمت عملی پر کہ صرف ایک جملہ کہہ کر امریکی اسرائیلی بلاک کی ان ساری چالوں کو ناکام کر دیا۔ ٹرمپ! تم اس لائق ہی نہیں کہ تمہاری بات سنی جائے یا تم سے بات کی جائے!! اس ایک جملے نے ٹرمپ کے امریکہ کو ڈھیر کرکے رکھ دیا ہے۔ یہ ہوتی ہے انقلابی قیادت و رہبری۔ اس تحریر کے ابتدائی نکات ذہن میں رکھ کر موازنہ کر لیں، ہے کسی میں اتنی ہمت اور جرات!!

یہ بھی دیکھیں

وڈیو اسکینڈل:عدلیہ کی ساکھ کیسے بحال ہو؟

(محمد بلال غوری) چیستاں میں لپٹے وڈیو اسکینڈل کی پرتیں کھلنے پر یوں محسوس ہو …