بدھ , 17 جولائی 2019

برطانیہ ایران مخالف امریکی پالیسیوں کی اندھی تقلیدنہ کرے، ایران کا انتباہ

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)برطانوی وزیرخارجہ کے ایران مخالف بیان پر تہران میں برطانوی سفیر راب میک ایئر کو وزارت خارجہ میں طلب کرلیا گیا ہے۔بحیرہ عمان میں آئیل ٹینکروں کو پیش آنے والے حادثے میں ایران کو ملوث قرار دینے کے امریکی دعوؤں کی اندھی تقلید میں برطانوی وزیرخارجہ کے غیر حقیقت پسندانہ بیان کے بعد تہران میں برطانوی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کرلیا گیا۔ ایران کی وزارت خارجہ میں یورپی امور کے ڈائریکٹر جنرل محمود بریمانی نے برطانوی سفیر سے ملاقات میں ایران مخالف لندن کے بیان پر شدید احتجاج کیا اور کہا کہ ایک ایسے الزام کے سلسلے میں جس کے بارے میں کوئی معمولی سا بھی ثبوت نہیں ہے لندن کو چاہئے کہ وہ ایران مخالف امریکا کی مخصمانہ پالیسیوں کی اندھی تقلید سے باز آجائے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل نے ایران کے خلاف واشنگٹن اور لندن کے الزامات کی مذمت کرتے ہوئے برطانیہ سے شدید احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ برطانوی حکومت اس سلسلے میں وضاحت پیش کرے۔ دوسری جانب برطانوی دارالعوام کے سابق رکن اور سینیئر سیاسی تجزیہ نگار جارج گلیوے نے بحیرہ عمان میں آئیل ٹینکروں کو پیش آنے والے حادثے کے سلسلے میں امریکا اور علاقے کے بعض ملکوں کی طرف سے ایران کو مورد الزام ٹھہرانے کے اقدام کو احمقانہ قراردیا ہے –

جارج گلیوے نے اپنے ٹویٹر پیج پر لکھا کہ اگر تم یہ سمجھ رہے ہو کہ ایرانیوں نے ان جاپانی بحری آئیل ٹینکروں پر حملہ کیا ہے اور وہ بھی ایک ایسے وقت جب جاپانی وزیراعظم تہران میں تھے تو تم سے بڑا پیدائشی بیوقوف کوئی نہیں ہے تم ایسی بھیڑ بکریاں ہوجو وحشی کتوں کی خدمت میں لگی ہوئی ہیں۔ باوجود اس کے کہ امریکی اور برطانوی اور ان کے ساتھ ساتھ خلیج فارس کے بعض عرب ملکوں کے حکام تشہیراتی مہم کے ذریعے اس حادثہ کا ذمہ دار ایران کو قراردینے کی کوشش کررہے ہیں لیکن دنیا کے بہت سے ممالک اور سیاسی حکام نے ایران کے خلاف اس ہنگامہ آرائی کو بے بنیاد قراردیتے ہوئے اس کو مسترد کردیا ہے۔ اسی سلسلے میں امریکا کے اسٹریٹیجک اور انٹرنیشنل ریسرچ سینٹر کے اسٹریٹجک تجزیہ نگار انٹونی کورڈو مین نے امریکی جریدے نیوز ویک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئیل ٹینکروں پر یہ حملہ داعش نے کیا ہے تاکہ امریکا اور ایران کو ایک دوسرے کے سامنے لاکھڑے۔

امریکا کے معروف تجزیہ نگار کورڈو مین نے کہا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی اس طرح کا کوئی واقعہ انجام دے سکتے ہیں تاکہ اس کے ذریعے ایران پر دباؤ میں اضافہ کریں۔ اس درمیان جاپانی حکام نے کہا ہے کہ آئیل ٹینکروں پر ایران کے حملے کے بارے میں ثبوت و شواہد نہیں پائے گئے ہیں اور ایران کو اس سلسلے میں مورد الزام نہیں ٹھہرانا چاہئے ۔ جاپان کی سرکاری خبررساں ایجنسی کیوڈو نے باخبر جاپانی ذرائع کے حوالے سے خبردی ہے کہ حکومت جاپان نے امریکی حکام سے کہا ہے کہ وہ آئیل ٹینکروں پر حملے کے سلسلے میں مزید تحقیقات انجام دیں کیونکہ امریکیوں نے جس ویڈیو کو اپنے دعوؤں کے ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے وہ کسی بھی طرح سے واضح اور کافی نہیں ہے اور اس سے کچھ بھی ثابت نہیں ہوتا۔

گذشتہ جمعرات کو بحیرہ عمان میں دو آئیل ٹینکروں کو آگ لگ گئی اور امریکی حکومت کسی ثبوت کے بغیر اس حادثے میں ایران کے ملوث ہونے کا الزام عائد کردیا تھا۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ اس حادثے کے فورا بعد ایران کے شیپنگ اورپورٹ کے ریسکیو شعبے کے جوانوں نے ان دونوں آئیل ٹینکروں میں موجود عملے کے افراد کو نجات دلائی اور انہیں ایران کی بندرگاہ جاسک منتقل کرکے انہیں مناسب طبی امداد فراہم کی۔

یہ بھی دیکھیں

بحرین اور قطر پھر آمنے سامنے

رپورٹ کے مطابق بحرین کے وزیر خارجہ خالد بن احمد آل خلیفہ نے قطر کو …