اتوار , 21 جولائی 2019

عمر قید کا مطلب25 سال قید نہیں، تاحیات قید ہے: چیف جسٹس پاکستان

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران عمر قید کی سزا سے متعلق اہم ریمارکس دیے۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے قتل کے ملزم کی سزائے موت کے خلاف نظر ثانی درخواست پر سماعت کی اور ملزم کی سزائے موت برقرار رکھتے ہوئے نظر ثانی درخواست کو خارج کردیا۔

اس موقع پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمر قید کا یہ مطلب نکال لیا گیا کہ 25 سال قید ہے، عمر قید کا غلط مطلب لیا جاتا ہے، عمر قید کا مطلب ہوتا ہے تا حیات قید، کسی موقع پر عمر قید کی درست تشریح کریں گے۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اگر ایسا ہو گیا تو پھر دیکھیں گے کون قتل کرتا ہے، ایسا ہوا تو اس کے بعد ملزم عمر قید کی جگہ سزائے موت مانگیں گے، بھارت میں عمر قید کے ساتھ سالوں کا تعین بھی کیا جاتا ہے، عمر قید کے ساتھ لکھا جاتا ہے 30 سال یا کتنے سال سزا کاٹے گا۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان میں نائیجیریا کی اسلامی تحریک کے بانی آیت اللہ زکزکی کی رہائی کے لئے مظاہرے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)گزشتہ روز اسلام آباد سمیت ملک کے کئی علاقوں اور شہروں میں …