ہفتہ , 19 اکتوبر 2019

ایران کی مزاحمت نے ٹرمپ کو گدائی پر مجبور کر دیا

(عبد الباری عطوان)

متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور ناروے نے جن کے آئیل ٹینکر الفجیرہ میں ہوئے دھماکے میں تباہ ہوگئے تھے، اس دھماکے کے ایک مہینے بعد اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کو شروعاتی رپورٹ دی ۔ اس رپورٹ میں جو قابل توجہ بات ہے وہ یہ ہے کہ ان ممالک نے ایران کی جانب کوئی اشارہ نہیں کیا بلکہ یہ کہا کہ کچھ نامعلوم فریق نے یہ حملہ کیا ہے ۔

انہوں نے ایران کا نام کیوں نہیں لیا؟ انہوں نے کہا کہ صرف کوئی ملک ہی اس طرح کا حملہ کر سکتا ہے ۔ یہ ملک نامعلوم کیوں ہے؟ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپئو نے دعوی کیا تھا کہ یہ حملہ ایران نے کیا ہے ۔ بولٹن نے بھی کہا تھا کہ شک کی سوئی صرف ایران کی طرف ہے ۔ تو پھر یہ ملک ایران کا نام لینے سے ڈر کیوں گئے ؟ ان کے خوفزدہ ہونے کے دو سبب ہیں:

ان کے پاس مناسب ثبوت نہیں ہیں کیونکہ یہ کاروائی پوری دقت سے انجام دی گئی تھی ۔ اگر وہ آئیل ٹینکر پر حملہ کرنا چاہئیں گے تو خلیج فارس کے علاقے میں بحران کھڑا ہو جائے گا ۔

آپ غور کریں کہ چار بڑے آئیل ٹینکر دھماکے سے اڑ گئے۔ غوطہ خور ان آئیل ٹینکروں تک پہنچے اور ان میں بارودی سرنگیں نصب کر دیں اور انہیں اڑا دیا ۔ ان غوطہ خوروں نے جان بوجھ کر ان آئیل ٹینکروں کو دھماکے سے نہیں اڑایا جن پر تیل نہیں تھا ۔ انہوں نے جان بوجھ کر اس طرح کا حملہ کیا کہ آئیل ٹینکر سے تیل باہر نہ نکلے۔ یہ سب پیغام ہے ۔ غوطہ خوروں نے یہ حملہ کیا اور اسپیڈ بوٹس سے واپس چلے گئے اور کوئی بھی انہیں دیکھ نہیں سکا ۔

آپ جو اربوں ڈالر ریڈار خریدنے اور اطلاعات حاصل کرنے پر خرچ کرتے ہیں، کس طرح ان اسپیڈ بوٹس کو نہیں دیکھ سکے ؟ ان ہتھیاروں، رڈاروں اور اربوں ڈالر فضول خرچ کرنے کا کیا فائدہ ہوا ہے ؟

میرے خیال میں دوسرا سبب یہ ہے کہ اگر وہ یہ کہیں کہ ایران نے یہ حملہ کیا تو اس حالت میں امریکا کو جواب دینا پڑے گا لیکن امریکا جواب نہیں دینا چاہتا کیونکہ وہ خوفزدہ ہو چکا ہے ۔اگر امریکا جواب دیتا ہے تو اس حالت میں اس کے تما طیارے، سمندری جہاز اور آئیل ٹینکرز تباہ ہو جائیں گے ۔ یہ ایک پیغام تھا اور وہ یہ کہ ہم چار آئیل ٹینکرز تک پہنچ گئے ہیں اور بات ختم ۔

خلیج فارس کا پورا علاقہ آئیل ٹینکرز سے بھرا ہوا ہے ۔ اگر وہ آبنائے ہرمز کو بند نہ کریں تو آئیل ٹینکرز کو تباہ کر دیں گے ۔ تو اس حالت میںامریکا کیا کرے گا؟ امریکی خوفزدہ ہیں ۔ اب امریکا، ایران سے مذاکرات کے لئے گدائی کر رہا ہے ۔ ایرانی مرد ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم کھلواڑ بن کر تم سے مذاکرات نہیں کرنا چاہتے ۔ اس کے لئے پہلے پابندیاں ختم کرو، اس کے علاوہ ہم بیلسٹک میزائلوں کے بارے میں کسی بھی صورت میں بات نہیں کریں گے اور آخرکار امریکا کو ایٹمی معاہدے میں لوٹنا ہوگا ۔ جو طاقتور ہوتا ہے وہ اپنی بات منوا لیتا ہے لیکن ہم عرب پیروکار اور ایجنٹ ہیں ۔

یہ بڑا مسئلہ ہے جس کا ہم عربوں کو سامنا ہے ۔ ایرانیوں نے عالمی یوم قدس منایا اور اس دن دسیوں لاکھ افراد نے مظاہرے کئے لیکن ہم نے بیت المقدس اور فلسطین کو فراموش کر دیا ہے ۔ عرب حکمراں کہتے ہیں کہ تنازع فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان ہے ۔ وہ ڈیل آف سینچری کو نافذ کرنے کے لئے صف بند ہوگئے ہیں اور اس حوالے سے منامہ میں اجلاس منعقد کرنا چاہتے ہیں ۔ البتہ اب ان کی سمجھ میں آ گیا ہے کہ کوئی بھی اس اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا ۔ وہ سمجھ گئے ہیں اس سے پہلے کہ وہ بحرین میں جمع ہوں، مزاحمت کے محاذ نے اس ڈیل کو تباہ کر دیا ہے ۔ یہ مردانگی ہے ۔ مزاحمت کے محاذ نے ڈیل آف سینچری کو پوری طرح تباہ کر دیا ہے ۔ مزاحمت کے محاذ کے میزائلوں اور عالمی یوم قدس کے موقع پر حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ کے خطاب نے اس ڈیل کو پوری طرح سے ختم کر دیا ہے۔بشکریہ سحر نیوز

یہ بھی دیکھیں

نوکریاں دینا حکومت کا کام ہی نہیں

تحریر: طاہر یاسین طاہر حیراں ہوں دل کو روئوں کہ پیٹوں جگر کو میں مقدور …