اتوار , 21 جولائی 2019

سوشل میڈیا اور اسکے خطرات

(تحریر: طاہر یاسین طاہر)

ہر عہد کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں اور فہیم انسان انہی تقاضوں کے تحت اپنی زندگی کی ترجیحات طے کرتے ہیں۔ سائنسی ایجادات نے انسانی زندگی کے اطوار یکسر بدل ڈالے۔ ہزاروں مزدوروں کی جگہ اب ایک آدمی بڑی بڑی مشینوں کو آپریٹ کرکے درجنوں آدمیوں کے برابر کام کر رہا ہوتا ہے۔ ایک کمپیوٹر آپریٹر کئی آدمیوں کا کام منٹوں میں نمٹا دیتا ہے۔ سائنس نے انسان کو آسانی دی ہے۔ مذہبی طبقہ نے پہلے پہل سائنسی ایجادات کے سامنے فتووں کا بند باندھنا چاہا، مگر سائنس اپنے علم کے بہائو میں ہر فتوے کو بہا لے گئی۔ یہ کہنا بڑا غلط ہے کہ سائنس اور مذہب آپس میں آمنے سامنے ہیں۔ شاید مذہبی طبقات نے بھی اب اس حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے۔ یہ بحث دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت علمی اور منطقی بھی ہے۔ اہلِ علم و ہنر کو اس حوالے سے ضرور مقالہ جات اور کتب لکھنی چاہئیں۔

ہر ایجاد اپنے ساتھ جو ثمرات لاتی ہے، اس کے مضمرات بھی ہوتے ہیں۔ آئن سٹائن کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اس کی تحقیق دنیا میں کیا تبدیلی لائے گی؟ ایٹم بم عالم انسانیت کے لیے کس قدر مہلک ثابت ہوگا؟ اس کا اگر ذرا سا بھی احساس آئن سٹائن کو ہوتا تو وہ کبھی بھی اپنی تھیوری پیش نہ کرتا۔ بے شک کائنات میں غور و فکر کرنے کی دعوت اللہ رب العزت نے اپنی آخری کتاب میں دی ہے اور یہ دعوت تمام عالم انسانیت کے لیے ہے۔ انسان نے جب سے دنیا میں قدم رکھا، اسے آپس میں باہم رابطوں کے لیے مختلف ذرائع کی ضرورت پیش آتی رہی۔ ابلاغ کی تاریخ اس امر کی گواہ ہے۔ یہ انسانی جبلت بھی ہے کہ وہ گفتگو کرے، کچھ کہے، اس کی یہ خواہش بھی ہے کہ اس کے کہے ہوئے کو نہ صرف سنا جائے بلکہ تسلیم بھی کیا جائے۔ جو قلم کا سہارا لیتے ہیں، ان کی بھی یہی خواہش ہے کہ ان کے لکھے ہوئے کو ہی حرفِ آخر تسلیم کیا جائے یا کم از کم حرفِ آخر کے قریب ترین تو مان ہی لیا جائے۔ انسانی جبلت اس امر کا بھی تقاضا کرتی ہے کہ انسان اپنے اردگرد کے حالات سے باخبر رہے۔ اس کا اپنے جیسے دوسرے انسانوں سے رابطہ ہو۔ یہ حقائق ہیں جن سے نظریں چرائی نہیں جا سکتیں۔

انٹرنیٹ کی ایجاد نے دنیا کے تمام انسانوں کو ایک لیپ ٹاپ میں بند کر دیا، لیپ ٹاپ کے بعد جب ہینڈ رائڈ فون آئے تو باہمی رابطوں کے تسلسل میں تیزی آئی۔ سوشل میڈیا نے پوری دنیا سمیت پاکستانی سماج کو بھی متاثر کیا ہے۔ "فین فالوورز” جیسی نئی اصطلاحات نے سوشل میڈیا کے پاکستانی”دانش وروں” کے لیے مہمیز کا کام کیا۔ بالخصوص فیس بک پر جنھوں نے اکائونٹ بنائے یا جنھوں نے اپنے پیجز بنائے، انھوں نے سماج کو کچھ مثبت دینے کے بجائے جذباتیت اور فتویٰ گری کے پہلے سے چلتے کاروبار میں لگا دیا۔ اب جس کے ہاتھ میں کیمرے والا موبائل آگیا وہ "چلتا پھرتا” صحافی بن گیا۔ سوشل میڈیا، بالخصوص فیس بک کا نقصان یہی ہے کہ اس پر چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے۔ ہر بندہ اپنے پیج یا اکائونٹ کا خود ہی ایڈیٹر بھی ہے اور سب ایڈیٹر بھی، چیف ایڈیٹر بھی ہے اور چیف نیوز ایڈیٹر بھی۔ یہاں خبر اور خواہش نے ایک دوسرے کو خوش آمدید کہا اور سماج نئے مسائل کی دلدل میں دھنسنے لگا۔

پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں جنھوں نے کام کیا ہے، وہ جانتے ہیں کہ ایک چھوٹی سے خبر بھی کن مراحل سے گزر کر صفحے پر شائع ہونے کے قابل بنتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ پرنٹ میڈیا نے بے مہار الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے مقابلے میں اپنی ساکھ کو اب بھی محفوظ رکھا ہوا ہے۔ چونکہ سوشل میڈیا کے کسی بھی میڈیم میں کوئی ایڈیٹوریل بورڈ نہیں ہوتا، اس لیے جو جس کے دل میں آیا، وہ لکھ دیتا ہے۔ اگرچہ اردو کی دو تین معروف ویب سائٹس ایسی ہیں، جہاں باقاعدہ ایڈیٹوریل ایڈیٹرز کا گروپ مختلف بلاگز یا کالمز کی ایڈیٹنگ کرتا ہے اور مواد کو قابل اشاعت بناتا ہے۔ لیکن مجموعی صورتحال افسوس ناک اور تکلیف دہ ہے۔ سوشل میڈیا سے ہم نے مثبت استفادہ کرنے کے بجائے سیاسی و مسلکی مخالفین کا مذاق اڑایا، ان کی تکفیر کی، قتل و کفر کے فتوے جاری کیے، حتیٰ کہ "مشہوری” کے چکر میں قومی سلامتی کے اداروں کو عالمی فیشن میں مقبول ہونے کے لیے گالیاں بھی دینا شروع کر دی ہیں۔

سماجی حیات میں ہم افواہوں کی پذیرائی کرنے والا معاشرہ ہیں۔ تحقیق و جستجو اور محنت سے عاری سماج آخر ِکار ہیجان و پریشانی کے سوا کچھ نہیں پاتا۔ گذشتہ دنوں ایک بلاگر کو اسلام آباد میں قتل کر دیا گیا، اس سے دو چار سال قبل کراچی کے ایک معروف بلاگر کو قتل کر دیا گیا تھا۔ لیکن دونوں کا موازنہ کرنے والے دونوں کی فکری سطح اور اندازِ بیان کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ کوئی بلاگر ہو یا کسی اور نوع کا ایکٹوسٹ۔ خدا را وہ اخلاقی اور بالخصوص نازک مذہبی و مسلکی مسائل کو نہ چھیڑے،۔، یہ کیسی "ایکٹیویٹی” ہے؟ انسانی حقوق کا معروف چورن بیچنے سے پہلے یہ یقین بھی کر لیا جائے کہ جن "گم شدگان” کے لیے آواز اٹھائی جا رہی ہے، آیا وہ واقعی گم ہیں یا "گمراہ” ہیں اور پاکستان دشمن سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے کسی پڑوسی ملک کی سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔

دو چار دنوں میں معروف ہونے کے چکر میں آپ اپنی جان تو گنواتے ہی ہیں، ساتھ سارے سماج کو سوگوار بھی کر جاتے ہیں۔ یوٹیوب یا سوشل میڈیا کا کوئی بھی پلیٹ فارم شدت پسندوں، نفرت کے بیوپاریوں کے لیے نفع بخش جگہ نہیں۔ یہاں لوگوں کو آگاہی دیجیئے، نہ کہ ان کے اندر نفرت کا زہر پھیلایئے۔ آپ جو بھی ہیں، آپ تحقیق سے گھبراتے ہیں تو اپنے اپنے خاندانی، علاقائی، قبائلی اور نیم تحقیقاتی عقائد پر قائم رہتے ہوئے ایک دوسرے کا احترام کیجیے، اسلام کی بنیادی تعلیمات میں رواداری ہے، رواداری کو اپنایئے۔ ورنہ سوشل میڈیا کا بہائو کسی بھی فتوے کو خاطر میں لائے بغیر اس سماج کا بہت نقسان کرے گا۔ سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹیے، اپنی وال پر جو لکھیں، اس کا حوالہ آپ کے پاس مستند ہو، مگر متنازعہ باتیں شیئر مت کریں۔

آپ کوئی خبر ٹویٹ یا ری ٹویٹ کرتے ہیں تو پہلے اس کی تحقیق کر لیں۔ بہتر ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال اور اس کے فوائد و نقصانات پر کسی صاحب علم سے سیکھ بھی لیں۔ فتوے بازی، افواہ سازی، قومی سلامتی کے اداروں پر بلا وجہ انگشت نمائی اور انسانی حقوق کے ماہر کھلاڑی بننے کے بجائے جس موضوع پر آپ اپنی وال کو "سیاہ” کر رہے ہوتے ہیں، پہلے اس پر تحقیق کر لیا کریں۔ یہی سماج اور عالم انسانیت کے لیے بہتر ہے۔ کوئی بھی نئی ایجاد بری نہیں، اس کا استعمال اچھا یا برا ہوسکتا ہے۔ ہمیں اچھائی کو رواج دینا ہے، برداشت اور بھائی چارے کو رواج دینا ہے اور اسی سوشل میڈیا کے ذریعے ہم نے دہشت گردی اور اس کی مختلف صورتوں کو شکست بھی دینی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

دور حاضر کے نئے صدام

سن اسیّ کا عشرہ اپنے اندر بہت سی تبدیلیاں لے کر آیا۔ بعض اتفاقات و …