اتوار , 22 ستمبر 2019

حضرت امام جعفر صادق ؒ

امام جعفر صادق علیہ السلام نے 17ربیع الاول80ہجری میں مدینہ النبیؐ میں صفحہ ارضی پر قدم رکھا۔ آپ کے والد امام محمد باقر ،دادا امام زین العابدین ؓابن امام حسینؓ تھے۔ امام جعفر صادقؑ کی کنیت ابو عبداللہ‘ ابو اسماعیل‘ ابو موسیٰ اور القاب صادق‘ فاضل‘ طاہر‘ منجی زیادہ مشہور ہیں۔ آپ کی والدہ بزگوار فاطمہ ام فروہ بنت قاسم بن محمد ابن حضرت ابوبکرؓ تھیں۔ آپ اپنے زمانے کی خواتین میں بلند مقام رکھتی تھیں۔ اسی لیے امام جعفرصادق کا فرما ن ہے کہ میری والدہ با ایمان خواتین میں سے تھیں جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا‘ اچھے کام کیے اور اللہ اچھے کام کرنیوالوں کو محبوب رکھتا ہے۔ امام جعفر صادق ؒکے نانا قاسم بن محمد ابن ابوبکرؓ مدینہ کے سات عظیم فقہا میں شامل تھے۔

امام جعفر صادقؑ نے اسلامی تعلیمات کی ترویج کے لئے بے پناہ کوششیں انجام دیں اور مدینے میں مسجد نبوی اور کوفہ شہر میں مسجد کوفہ کو جامعات میں تبدیل کر دیا جہاں انہوں نے ہزاروں شاگردوں کی تربیت کی اور ایک عظیم علمی و فکری تحریک کی بنیاد ڈالی۔ ان جامعات کے مختلف مدارس میں لا تعداد افراد علوم فنون اسلامی کے گونا گوں شعبہ جات میں مصروف درس و تدریس تھے۔ صرف کوفہ کی مساجد میں امام جعفر صادقعلیہ السلامکے حوزہ علمیہ سے منسلک ہزارہا طلاب فقہ اور معرف علوم اسلامی میں مصروف تھے جو امام کے بیانات‘ فرمودات یاد کرتے اور ان کے بارے میں تحقیق اور بحث و تمحیص فرماتے۔

تشنگانِ علم و حکمت دور درواز سے آتے اورامام جعفر صادق سے فیضیاب ہوا کرتے تھے۔ مورخین آپ سے روایت کرتے اور دانشور کتابی صورت میں آپ کے فرمودات جمع کرتے تھے حتیٰ کہ حفاظ اور محدثین جب کچھ بیان کرتے تو امام جعفر صادق کے ارشادات کا حوالہ دیتے ۔

مورخین اس بات پر متفق ہیں امام جعفر صادق نے کسی مدرسہ میں تعلیم حاصل نہیں کی اور نہ کسی اْستاد کے سامنے زانوئے اَدب تہہ کیا۔ آپ کا علم نسل در نسل آپ کے سینے میں منتقل ہوا جس سے ثابت ہوا کہ امام صادق نے جس علم کی روشنی بکھیری وہ دراصل عِلمِ مصطفوی و مرتضوی ہی ہے۔چار ہزار سے زائد شاگردوں نے بیک وقت اور ایک ہی دور میں آپ کی بارگاہ سے کسب علوم اور نقل روایت کا شرف حاصل کیا۔ جن علوم کی تعلیم آپ کی درسگاہ سے دی جاتی ان میں فقہ کے علاوہ ریاضی فلکیات فزکس کیمسٹری سمیت تمام جدید علوم شامل تھے۔ آپ کی درسگاہ کے فیض سے جہاں قدیم علوم کا احیاء ہوا وہاں جدید علوم کی بھی بنیاد رکھی گئی۔ مسلمانوں میں نابغہ روزگار ہستیاں پیدا ہوئیں۔ احادیث و معرف دین و شریعت میں امام جعفر صادق کے وضع کردہ چار سو اصول ہی کتب اربع کا منبع و مدرک ہیں۔ امام جعفر صادق کے گراں قدر‘ بیانات‘ فرمودات‘ ارشادات نے جہالت اور گمراہی و ضلالت کے پردوں کو چاک کردیا۔ آپ نے پیغمبر اسلام کے الہامی و آفاقی دستور حیات کو لوگوں کے سامنے اس طرح پیش فرمایا کہ لوگوں میںدین و شریعت کی پیروی بڑھتی گئی۔

آپ کے ممتاز شاگردوں میں ہشام بن حکم، محمد بن مسلم ، ابان بن تفلب ، ہشام بن سالم ، مفصل بن عمر اور جابربن حیان کا نام خاص طور سے لیا جا سکتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک نے بڑا نام پیدا کیا مثال کے طور پر ہشام بن حکم نے اکتیس کتابیں اور جابربن حیان نے دو سو سے زائد کتابیں مختلف علوم و فنون میں تحریر کی ہیں۔ جابربن حیان بابائے علم کیمیا کے نام سے مشہور ہیں۔ الجبرا کے بانی ابو موسی الخوارزمی نے بھی بالواسطہ امام جعفر صادق کی تعلیمات سے فیض حاصل کیا۔ اہل سنت کے چاروں مکاتب فکر کے امام بلاواسطہ یا بالواسطہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں خاص طور پر امام ابوحنیفہ علیہ السلام نے تقریباً دوسال تک براہ راست آپ سے کسب فیض کیا۔ آپ کے علمی مقام کا اعتراف کرتے ہوئے امام ابوحنیفہ نے کہا ہے : "میں نے جعفر ابن محمد سے زیادہ عالم کوئی اور شخص نہیں دیکھا۔”

ایک اور مقام پر امام ابوحنیفہ نے امام جعفر صادق کی خدمت میں گزارے ہوئے دو سالوں کے بارے میں کہا : اگر یہ دوسال نہ ہوتے تو نعمان ہلاک ہو جاتا

مالک بن انس حضرت امام جعفر صادق کی علمی اور اخلاقی عظمت کے بارے میں کہتے ہیں کہ میں ایک مدت تک جعفر ابن محمد کی خدمت میں زانوئے ادب تہہ کیا کرتا تھا آپ مزاح بھی فرمایا کرتے تھے ہمیشہ آپ کے لبوں پر تبسم رہتا تھا۔ جب آپ کے سامنے رسول اللہ ؐکا نام مبارک لیاجاتا تو آپ کے چہرے کا رنگ سبز اور زرد ہوجاتا تھا۔ میں نے نہیں دیکھا کہ انہوں نے رسول اللہؐ سے حدیث بیان کی ہو اور وضو سے نہ ہوں۔ میں جب تک ان کے پاس آیا جایا کرتا تھا میں نے نہیں دیکھا کہ وہ ان تین حالتوں سے خارج ہوں یا وہ نماز پڑھتے رہتے تھے، یا قرآن کی تلاوت کررہے ہوتے تھے یا پھر روزہ سے ہوتے تھے۔

مالک بن انس حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی عظمت کے بارے میں ان خیالات نے سمندرکو کوزے میں بند کردیا کہ ’’کسی آنکھ نے نہیں دیکھا، کسی کان نے نہیں سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں خیال آیا کہ کوئی جعفر ابن محمد سے بھی افضل ہوسکتا ہے۔‘‘

ابن خلکان لکھتے ہیں کہ امام صادق کیمیا میں ید طولی رکھتے تھے، ابوموسی جابر بن حیان طرطوسی ان کے شاگردوں میں سے ہیں۔ جابر نے ایک ہزار ورق پرمشتمل ایک کتاب لکھی ہے جس میں جعفر ابن محمد کی تعلیمات تھیں۔ ان کے سامنے بہت سے لوگوں نے زانوے ادب تہ کیا ہے اور ان سے علمی فیض حاصل کیا ہے۔ ان میں ان کے بیٹے موسی کاظمؒ، یحی بن سعید انصاری، یزید بن عبداللہ، ابو حنیفہ، ابان بن تغلب،، ابن جریح ، معاویہ بن عمار، ابن اسحاق، سفیان، شبعہ ، مالک، اسماعیل بن جعفر، وھب بن خالد، حاتم بن اسماعیل، سلیمان بن بلال، سفیان بن عینیہ، حسن بن صالح، حسن بن عیاش، زھیر بن محمد، حفص بن غیاث، زید بن حسن، انماطی، سعید بن سفیان اسلمی، عبدالہ بن میمون، عبدالعزیز بن عمران زھری، عبدالعزیز درآوری، عبدالوہاب ثقفی، عثمان بن فرقد، محمد بن ثابت بنانی، محمد بن میمون زعفرانی، مسلم زنجی، یحی قطان، ابو عاصم نبیل سمیت ہزاروں شامل ہیں۔

شہاب الدین ابوالعباس احمد بن بدرالدین شافعی معروف بہ ابن حجر ہیتمی امام صادق کے بارے میں لکھتے ہیں کہ لوگوں نے آپ سے بہت سے علوم سیکھے ہیں اس یہ علوم مدینہ آنے والے زائرین و حجاج کے ذریعے ساری دنیا میں پھیل گئے اور ساری دنیا میں جعفر ابن محمد کے علم کا ڈنکا بجنے لگا۔اہل سنت کے بزرگ علماء میں سے ایک میر علی ہندی حضرت امام جعفر صادق کی علمی اور اخلاقی عظمت کے بارے میں کہتے ہیں اس زمانے میں علم کی ترقی نے سب کو کشتہ بحث و جستجو بنا دیا تھا اور فلسفیانہ گفتگو ہرجگہ رائج ہوچکی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ اس فکری تحریک کی رہبری اس مرکز علمی کے ہاتھ میں تھی جو مدینہ میں پھل پھول رہا تھا اور اس مرکز کا سربراہ علی ابن ابی طالب کا پوتا تھا جس کا نام جعفر صادق تھا۔ وہ ایک بڑے مفکر اور سرگرم محقق تھے اور اس زمانے کے علوم پر عبور رکھتے تھے وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اسلام میں فلسفے کے مدارس قائم کئے۔ ان کے درس میں صرف وہ لوگ شرکت نہیں کرتے تھے جو بعد میں فقہی مکاتب کے امام کہلائے بلکہ فلاسفہ، فلسفہ کے طلبہ بھی دور دراز سے آکر ان کے درس میں شرکت کرتے تھے۔

ڈاکٹر حامد حنفی جو عربی ادب کے استاد گردانے جاتے ہیں ایک کتاب کے مقدمہ میں لکھتے ہیں کہ ’’20سال سے زیادہ زمانہ بیت گیا میں تاریخ‘ فقہ و علوم اسلامی کی ترتیب کر رہا ہوں خانوادہ کرامت نبویؐ کے طاہر فرزند حضرت امام جعفر صادق کی نمایاں ترین شخصیت نے مجھے خاص طور پر اپنی جانب متوجہ کیا۔ میں اس نظریے پر پہنچا ہوں کہ آپ علوم اسلامی کے موجد اور موسس رہنماہیں۔ ‘‘علامہ ابن ِ حجر مکی نے صواعق محرقہ میں بیان کیاہے کہ ”تمام بلادِ اسلامیہ میں ان کے علم و حکمت کا شہرہ تھا۔”

علامہ شبلی نعمانی سیرۃ النعمان میں رقمطراز ہیں کہ ’’حضرت امام ابو حنیفہ لاکھ مجتہد ہی سہی لیکن امام جعفر صادق کے شاگر دتھے۔‘‘

مسیح عالم عارف ثامر استاد دانش کدہ مباحث شرقی قاہرہ رقمطراز ہے ’’ جو شخص بے غرض غیر متعصب ہوکر امام جعفر بن محمد الصادق کی شخصیت کے بارے میں جدید علمی اصول کی پیروی کرتے ہوئے ہر قسم کے تعصبات سے بے نیاز ہوکر علمی و حقیقی تحلیل و تجزیہ میں مشغول ہوگا تو اس کیلئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اس بات کااعتراف کرے کہ امام کی شخصیت ایسا فلسفی مجموعہ ہے جسے اپنے اوپر اعتماد و بھروسہ ہے جو بہت سے نظریات‘خیالات‘فکریات کا سرچشمہ ہیں جو نئے افکار و خیالات و جدید احکامات کے نہ صرف موسس ہیں بلکہ نئی نئی راہیں دکھائی ہیں‘‘

ابن خلکان کہتے ہیں ’’آپ سادات اہلبیت میں سے تھے اور آپ کی فضیلت کسی بیان کی محتاج نہیں‘‘ اسی طرح بیان کرتے ہیں ’’حضرت امام جعفر صادق کے مقالا ت علم کیمیا اور علم جفر و فال میں موجود ہیں اور جابر بن حیان صوفی طرطوسی آپ کے شاگر تھے جنہوں نے ایک ہزار صفحات کی کتا ب مرتب کی‘‘

انسائیکلو پیڈیا آف اسلامک ہسٹری میں ہے ’’ استاد اعظم جابر بن حیان بن عبد اللہ کوفہ میں پیدا ہوا،امام باقر اور امام جعفر صادق کے فیض صحبت سے خود امام ہو گیا‘‘علامہ فرید وجدی دائر ۃ المعارف القرآن الرابع عشر میں رقم طراز ہیں کہ ’’جابر بن حیان نے امام جعفر صادق کے پانچ سو رسائل کو جمع کرکے ایک ہزار صفحہ کی کتاب تالیف کی تھی‘‘فرید مولف دائرۃ المعارف مزیدلکھتا ہے ’’ جعفر ابن محمد کے علم و دانش کاگھر روزانہ جید علماء سے بھر جاتا تھا۔ وہ علماء و دانشمند علم حدیث‘تفسیر‘کلام و فلسفہ کے حصول کے خواہشمند تھے۔ آپ کے حلقہ دروس میں مشہورومعرف علماء میں سے اکثر اوقات میں تین سے چار ہزار افراد تک شرکت فرماتے تھے۔ ‘‘سٹراسبرگ میں 25مغربی محققین نے امام جعفر صادق ؑ کی علمی و سائنسی خدمات پر ایک مقالہ مرتب کیا جو ’سپر مین ان اسلام‘کے عنوان کے تحت شائع ہواہے اس مقالہ میں ان دریافتوں کا احاطہ کیا گیا ہے جن کی بنیاد امام جعفر صادقؑ کے دروس سے آشکار ہوئی۔

امام جعفر صادق علیہ السلام کی کرامات بھی لاتعداد ہیں جن سے شیعہ سنی کتب بھری پڑی ہیں۔ منصوردوانیقی کے ایک درباری کا بیان ہے کہ میں نے ایک مرتبہ اسے پریشان دیکھا سبب پوچھا تو کہنے لگا جب تک میں امام جعفر صادق کا کام تمام نہ کرلوں آرام سے نہ بیٹھوں گا۔ اس نے جلاد کو بلایا اور کہا کہ میں امام جعفر صادق کو بلواتا ہوں جب امام جعفر صادقؑ آئیں اور میں اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لوں تو تم انہیں قتل کردینا۔ درباری بیان کرتا ہے کہ جب منصور نے امام کو بلوایا تو میں ان کے ساتھ ہو لیا وہ زیر لب کچھ ورد فرما رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ اچانک منصور کے محل میں ارتعاش و زلزلہ پید اہو گیا ہے اور وہ اپنے محل سے ایسے نکلا جیسے کشتی سمندر کی تندو تیز لہروں سے باہر آتی ہے منصور کا حلیہ عجیب تھا وہ لرزہ براندام‘برہنہ سر اور برہنہ پا امام جعفر صادق کے استقبال کے لئے بڑھنے پر مجبور ہو گیا اور آپ کے بازو کو پکڑ کر اپنے ساتھ تکیہ پر بٹھایا اور کہنے لگا اے فرزند رسولؐ آپ کیسے تشریف لائے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا تو نے بلایا اور میں آگیا۔ منصور کہنے لگا کسی چیز کی ضرورت ہو تو فرمائیں۔ آپ نے فرمایا مجھے بجز اس کے کسی چیز کی ضرورت نہیں کہ تم مجھے یہاں نہ بلایا کرو۔ اس کے بعد امام جعفر صادق تشریف لے گئے اور منصور ایسا سویا کہ اگلے روز دن چڑھے بیدار ہوا مجھے بلایا اور کہا کہ میں نے جعفر ابن محمد کو قتل کے ارادے سے بلایا تھا جیسے ہی وہ دربار میں داخل ہوئے تو میں نے ایک اژدھا دیکھا جس کے منہ کا ایک حصہ زمین پر تھا اور دوسرا میرے محل پروہ مجھے فصیح و بلیغ زبان میں کہہ رہا تھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اگر تم نے جعفر صادق کو کوئی گزند پہنچائی تو تجھے تیرے محل سمیت دفن کردوں گا۔ (شواہد النبوۃ۔ ملاجامیؒ)

امام جعفر صادق کی شہادت 25شوال اور بعض روایات میں 15شوال148ہجری کو منصورعباس خلیفہ کے دور میں ہوئی جو ظلم و بربریت کا دور تھا۔ جہاں کلمہ حق کہنا مشکل تھا جسے فتنوں کا دور کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ آپؑ نے جام شہادت نوش کرنا قبول کر لیا مگر باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ آپ کی قبر اطہر جنت البقیع میں اپنی جدہ خاتون جنت حضرت سیدہ فاطمۃ الزھراؑ اور اپنے اجداد امام حسنؑ‘ امام زین العابدینؑ اور امام باقرعلیہ السلام کے پہلو میں واقع ہے۔

امام جعفر صادق نے جس علمی تحریک کی بنیاد رکھی اس کے سبب اسلامی دنیا علم کا گہوارہ بن گئی۔ فلکیات ریاضی کیمسٹری فزکس تمام سائنسی علوم میں مسلمانوں نے قابل رشک ترقی کی۔ لیکن جب مسلمانوں نے علم سے ناطہ توڑا تو آج حالات یہ ہو چکے ہیں کہ مسلمان ذلت و رسوائی کی گہرائیوں میں دھنستے چلے جارہے ہیں۔ کشمیرفلسطین میانمار عراق شام میں مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہہ رہا ہے اور مسلم ممالک کا کوئی پرسان حال نہیں۔ غزہ میں اسرائیل وحشیانہ جارحیت کا مظاہرہ کرتا رہا لیکن کوئی اس کاہاتھ روک نہ سکا۔

مسلمان ممالک جنہیں اللہ نے دور حاضر اہم ترین سرمایے تیل سے نواز رکھا ہے اپنی دولت عیاشیوں کی نذر کررہے ہیں دنیا کی بہترین درسگاہوں میں مسلمانوں کی کوئی درسگاہ شامل نہیں۔ سوائے پاکستان کے کوئی ملک ایٹمی قوت حا صل نہیں کر سکا اکثر امیر ترین مسلم ممالک اپنے دفاع کی قوت سے محروم ہیں کئی کئی ممالک مل کر بھی اسرائیل کے خلاف جنگوں میں شکست کھاتے رہے۔ اگر عالم اسلام اپنی کمزوری کا تجزیہ کرے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مسلمانوں نے علم کی میراث چھوڑ دی‘مشاہیراسلام بزرگان دین کی ناقدری کی‘ایمان کی کمزوری کا شکار ہوگئے۔مسلمانوں نے اپنے مشاہیر کی عزت کرنا تو کجا اپنے ہاتھوں ان کی بے توقیری کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ لیکن عالم اسلام خواب خرگوش میں پڑا ہے۔ آج داعش بنانے والے داعش کو مٹانے کے بہانے مسلمان ملکوں کی خودمختاری کو چیلنج کر رہے ہیں۔المختصر یہ کہ اگر مسلمان دنیا میں مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں باہمی اختلافات مٹا کر متحد ہونا ہوگا، جنت البقیع ،جنت المعلی سمیت مشاہیر اسلام کے آثار کی عظمت رفتہ بحال کرنا ہو گا‘ امام جعفر صادق کی علمی تحریک سے ٹوٹا ہوا ناطہ جوڑ کر سائنس ٹیکنالوجی میں ترقی کیلئے اقدامات کر نا ہوں گے۔

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …